کووڈ-19 کی ویکسینوں پرتحقیق سے دیگر بیماریوں کے علاجوں میں مدد

امریکی محققین کووڈ-19 وبا کے خلاف استعمال کی جانے والی ویکسین کی نئی ٹکنالوجی کو ایچ آئی وی/ایڈز سمیت دیگر بیماریوں کے خلاف ویکسینیں تیار کر رہے ہیں۔

امریکی کمپنیوں، امریکی حکومت اور بین الاقوامی شراکت داروں کی تیارکردہ میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) ویکسینیں کلینیکل جانچ میں  کووڈ-19 کی روک تھام میں 95٪ مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ وائرس کی کمزور شکل استعمال کرنے کے بجائے، ایم آر این اے ویکسین مدافعتی ردعمل کو متحرک کرنے کے لیے وائرس کے جینیاتی کوڈ کا استعمال کرتی ہیں۔

اب امریکی محققین یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی 2005 کی ایک دریافت کو بنیاد بناتے ہوئے ایم آر این اے ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایسی متعدد دیگر بیماریوں کے خلاف ویکسینیں تیار کر رہے ہیں جو ایچ آئی وی / ایڈز، زیکا اور فلو سمیت دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہیں۔

کیمبرج، میساچوسٹس میں قائم ماڈرنا کمپنی کی چیف ایگزیکٹو افسر، سٹیفنی بینسل نے بتایا، “ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ہاتھ دنیا بھر کے لوگوں کو بیمار کرنے والی وائرس کے خلاف نئی ویکسینیں تیار کرنے کا ایک منفرد موقع لگا ہے۔ ہمارے ہاں ایم آر این اے ویکسینوں کے ہوتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاس انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا ایک موقع موجود ہے۔”

امریکہ کے صحت کے قومی ادارے (این آئی ایچ) کی شراکت میں، ماڈرنا کمپنی اس سال ایچ آئی وی / ایڈز کے خلاف ایم آر این اے ویکسین پر کلینیکل تجربات شروع کر رہی ہے۔ ایڈز سے دنیا بھر میں 37 ملین افراد متاثر ہوتے ہیں۔ ایچ آئی وی / ایڈز کے خاتمے کے لیے امریکی حکومت کی دور رس کوششوں میں 2003 سے اب تک اس بیماری کے  خلاف عالمی رد عمل میں پیپفار پروگرام کے تحت کی جانے والی 85 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

فائزر نے جس کا صدر دفتر نیویارک میں ہے جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے ساتھ مل کر انفلوئنزا کے خلاف ایم آر این اے ویکسین تیار کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ دونوں کمپنیوں نے کووڈ-19 کے خلاف ایک ایم آر این اے ویکسین تیار کرنے میں بھی شراکت داری کی تھی۔

 لیبارٹری کا کوٹ پہنے ایک عورت اپنی ساتھی عورت کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے اور لیبارٹری کے کوٹ پہنے دیگر لوگ انہیں دیکھ رہے ہیں۔ (CDC)
جمیکا کی لیبارٹریوں کے عملے کے ارکان پیپفار امریکی پروگرام کے تحت ایچ آئی وی کے تیزرفتار ٹیسٹ کرنے کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ (CDC)

امریکہ کی ویکسینیں تیار کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔  ایک امریکی ڈاکٹر جوناس سلک نے 1955 میں پولیو کی ایک ویکسین دریافت کی۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسی بیماری کا تقریبا جڑ سے خاتمہ ہوگیا جو ہر برس لاکھوں بچوں کو مفلوج کر دیتی تھی۔

1963 میں ایک امریکی سائنس دان، جان انڈرز کے ایک ویکسین تیار کرنے سے پہلے، دنیا میں خسرے سے ہر سال 26 لاکھ افراد  ہلاک ہو جایا کرتے تھے۔ سی ڈی سی کے مطابق خسرے کے مریضوں میں ڈرامائی انداز میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 2018 میں عالمی سطح پر خسرے سے تقریبا 142،000 اموات ہوئیں۔

جیسے ہی کووڈ-19 وبا پھیلنا شروع ہوئی ماڈرنا، این آئی ایچ اور دوا ساز کمپنی فائزر کے محققین نے جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کی شراکت سے ایم آر این اے ویکسینوں پر کام شروع کر دیا۔ جون میں صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ دوسرے ممالک کو عطیہ کے طور پر دینے کے لیے، فائزر- بائیو این ٹیک کی ایم آر این اے کووڈ 19 ویکسین کی 500 ملین خوراکیں خریدے گا۔

کووڈ-19 کو ختم کرنے کی دوڑ میں ایم آر این اے کی جدید ٹیکنالوجی متعدد دیگر بیماریوں کی ویکسینوں اور علاج کے لیے کی جانے والی تحقیق کے لیے مفید معلومات فراہم کر رہی ہے۔

ویکسین کے انسانی جسم میں موجود وائرس کو نشانہ بنانے والے جزو کا حوالہ دیتے ہوئے ماڈرنا کی ویب سائٹ کہتی ہے، “ایک ایم آر این اے دوا سے دوسری ایم آر این اے دوا میں، عام طور پر جو چیز تبدیل ہوتی ہے وہ ان کا کوڈنگ والا حصہ ہوتا ہے۔”

نئی جہتوں کی حامل ایم آر این اے ویکسینوں اور علاجوں پر کام کرنے والی دیگر امریکی کمنیوں میں گرٹ سٹون اونکولوجی اور گلیڈ سائنسز نامی کمپنیوں کی ایچ آئی وی کے خلاف ویکسینوں کی تیاری میں شراکت کاری اور کرنل بیالوجکس کی ایم آر این اے پر مبنی کینسر کے علاج کی تلاش شامل ہے۔ ٹرانسلیٹ بائیو نامی کمپنی لبلبے اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے علاجوں کو ٹیسٹ کر رہی ہے جبکہ آرکٹرس تھیراپیوٹکس کووڈ-19 اور فلو کی ایم آر این اے ویکسینوں کے ساتھ ساتھ لبلبے اور پھیپھڑوں اور جگر کی بیماریوں کے علاج ڈھونڈنے پر بھی کام کر رہی ہے۔

الرجی اور متعدی بیماریوں کے قومی ادارے کے ڈائریکٹر اور صدر کے میڈیکل کے مشیر اعلٰی، ڈاکٹر اینتھونی فاوچی نے 22 جون کو کہا کہ کووڈ-19 کے خلاف ایم آر این اے ویکسینوں کی کامیابی، “ہمیں یقینی طور پر دیگر متعدی بیماریوں سے ایک قدم آگے لے جائے گی۔”

فاوچی نے کہا، “ہم [ایم آر این اے] ویکسین سے متعلق ٹکنالوجی کی غیرمعمولی طاقت ثابت کرتے چلے آ رہے ہیں۔”