کووڈ-19 کے جدید ماسک امریکی یونیورسٹیوں میں ڈیزائن کیے گئے

اختراع پسند جدید ماسک بنا کر امریکی یونیورسٹیوں کے کیمپسوں پر کووڈ-19 کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہ ماسک اس وائرس کا پتہ چلانے کے ساتھ ساتھ اس بیماری کا سبب بننے والے وائرس سے محفوظ بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اختراع پسند اِن ماسکوں کے ذریعے سانس لینے اور کورونا کا ٹیسٹ کروانے کو بھی زیادہ آسان بنا رہے ہیں۔

رنگ بدلتے ہوئے کورونا وائرس کے سنسر

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، سان ڈی ایگو کے محققین نے ایسے سنسر بنائے ہیں جو یہ جاننے کے لیے کسی بھی ماسک پر لگائے جا سکتے ہیں کہ اسے پہننے والا کورونا وائرس کا شکار ہوا ہے یا نہیں۔ جب سانس یا لعاب میں وائرس کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے تو سنسر کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے۔

گھر پر کیے جانے والے حمل کے ٹیسٹ کی طرح آسان یہ سنسر فوری، اور سستے نتائج فراہم کرتے ہیں اور انہیں آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے۔

جیسی جوکرسٹ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، سان ڈی ایگو کے جیکبز سکول آف انجنیئرنگ میں نینو انجنیئرنگ کے پروفیسر ہیں اور پراجیکٹ کے محققین کے سربراہ ہیں۔ جوکرسٹ نے بتایا، “کئی ایک حوالوں سے یہ ماسک ہماری دنیا میں اس وقت ‘پہنے جانے والے’ ہر لحاظ سے صحیح سنسر ہیں۔  ہم وہی کچھ استعمال کر رہے ہیں جو بہت سے لوگ پہلے ہی سے پہن رہے ہیں اور جنہیں دوبارہ قابل استعمال بنا رہے ہیں۔ لہذا ہم جلدی اور آسانی سے نئے انفیکشنوں کی شناخت کرسکتے ہیں اور کمزور کمیونٹیوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔”

 میڈیکل ماسک جس پر پتری لگی ہوئی ہے اور سامنے رنگدار مائع کا بلبلہ دکھائی دے رہا ہے (© UCSD)
یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، سان ڈی ایگو نے رنگ بدلنے والی ماسک پر لگائی جانے والی ٹیسٹ کی ایسی پتریاں بنائیں ہیں جو کسی آدمی کے سانس یا لعاب میں کووڈ-19 کا باعث بننے والے سارز-کوو-2 وائرس کی موجودگی کا پتہ لگا سکتی ہیں۔ (© UCSD)

اس سنسر کا مقصد کووڈ-19 ٹیسٹ کا نعم البدل ہونا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد وائرس کا علم ہونے کے بعد علاج کے لیے رجوع کرنا ہے۔ جوکرسٹ اسے دھویں کے الارم سے تشبیہ دیتے ہیں۔

امریکہ کے صحت کے قومی اداروں نے کیلی فورنیا یونیورسٹی کو اس پراجیکٹ کے لیے 13 لاکھ ڈالر فراہم کیے ہیں۔ تحقیقی ٹیم  کورونا وائرس کے حوالے سے خطرناک ماحول میں کام کرنے والوں کے لیے سنسر بنانے کے لیے ایک مصنوعات ساز کے ساتھ شراکت داری کرے گی۔ روزمرہ ٹیسٹنگ میں آسانی کے لیے اِن سنسروں کی قیمت کر رکھی جائے گی۔

سانس لینے میں آسانی

ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی (اے ایس یو) کے طلبا کی ٹیم نے ایک ایسا ماسک بنایا ہے جو سانس لینے میں آسانی پیدا کرتے ہوئے وائرس سے محفوظ رکھتا ہے۔

انڈرگریجوایٹ اور گریجوایٹ طلبا نے ماسک پہننے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے والے لوگوں کا سروے کیا۔ اِن میں سے بہت سے افراد خاص طور پر ورزش کے دوران سانس لینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

 دو حصوں میں تقسیم ایک ماسک کا اندرونی منظر (© ASU Luminosity Lab)
ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کی لومنوسٹی تجربہ گاہ کا ‘فلو ماسک’ نامی ماسک منہ سے سانس باہر نکالتے وقت بننے والی دھند اور گرمی کو ختم کرتا ہے جس سے ماسک پہننے سے پیدا ہونے والی مشکل میں کمی آتی ہے۔ (© ASU Luminosity Lab)

کیونکہ زیادہ تر لوگ ناک کے راستے سانس لیتے ہیں، اس لیے اس ٹیم نے ناک اور منہ سے سانس لینے کے لیے علیحدہ علیحدہ خانے بنائے ہیں۔

اے ایس یو ٹیم کے ماسک نے عالمگیر مسائل کو حل کرنے کے لیے منعقد کیے جانے والے مقابلوں کی سرپرستی کرنے والی ایکس پرائز نامی غیرمنفعتی تنظیم کی طرف سے منعقد کردہ مقابلے میں پانچ لاکھ  ڈالر کا انعام جیتا۔

اے ایس یو ٹیم کے لیڈر نخیل ڈیو نے کہا، “ٹیم کے نزدیک اس انعام کی اہمیت پیسے یا شہرت کے حوالے سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق کمیونٹیوں کو مثبت طور پر متاثر کرنے کے لیے جو کچھ ہم کر سکتے ہیں اُس سے ہے اور ابھرتے ہوئے سنگین مسائل کو  فوری طور پر حل کرنے سے ہے۔”

ٹیسٹ اور مزید ٹیسٹ

اسی اثنا میں ایلانائے یونیورسٹی میں محققین نے کووڈ-19 کا لعاب کا ایک سستا ٹیسٹ وضح کیا ہے جو کہ 24 گھنٹوں سے کم وقت میں نتائج فراہم کرتا ہے۔ ایریزونا یونیورسٹی کے اساتذہ نے استعمال شدہ پانی کو استعمال کرتے ہوئے ایک ٹیسٹ وضح کیا ہے جبکہ اسی یونیورسٹی کے طلبا نے کورونا کے پھیلاؤ کی نگرانی کرنے کے لیے نامعلوم ذرائع سے کووڈ-19 کا شکار ہونے والوں کے لیے ایک موبائل ایپ تیار کیا ہے۔

امریکہ بھر کے دیگر جدت طراز بھی مصنوعی ذہانت سے لے کر لامہ کے دافع امراض مادوں تک کے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے  کووڈ-19 کے پھیلاؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔