کووڈ-19 عالمی وبا کے خاتمے کے لیے امریکی محققین دنیا بھر کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اس اشتراک کا دائرہ کار خسرے کی ویکسین میں ردوبدل کرکے کووڈ-19 کو روکنے کے تجربات سے لے کر اُن کوششوں تک پھیلا ہوا ہے جن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ انسانی دفاعی نظام کے مدافعتی خلیات کورونا وائرس پر کس طرح حملہ آور ہوتے ہیں۔

شراکت کاری اور شفافیت امریکہ کی سائنسی تحقیق کا خاصہ ہیں اور یہ دنیا کی بڑی بڑی مشکلات کو حل کرنے کے لیے لازمی ہیں۔

ذیل کی چند ایک مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی تحقیقی شراکت کاریاں کس طرح کووڈ-19 کی عالمی وبا کا مقابلہ کر رہی ہیں:

فرانس اور آسٹریا

ڈاکٹر جوناس سلک امتحانی نلکیوں کو دیکھتے ہوئے۔ (© AP Images)
پولیو ویکسین تیار کرنے والے ڈاکٹر جوناس سلک 1954ء میں پٹسبرگ میں اپنی تجربہ گاہ میں امتحانی نلکیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ (© AP Images)

خسرے کی موجودہ ویکسین کی بنیاد پر کووڈ-19 کے لیے ویکسین تیار کرنے اور اس کے تجربات کرنے کے لیے پٹسبرگ یونیورسٹی کے ویکسین کا تحقیقی مرکز (سی وی آر) پیرس اور ویانا کے محققین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

پٹسبرگ یونیورسٹی جہاں ڈاکٹر جوناس سلک نے 1954ء میں پولیو کی ویکسین تیار کی تھی، پیرس کے پاسٹیور انسٹی ٹیوٹ اور ویانا کے تھیمس حیاتیاتی سائنس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

سی وی آر کے ڈائریکٹر پال ڈوپریکس نے کہا، "دنیا بھر میں وائرس کے ایسے ماہرین موجود ہیں جن کو اسی لمحے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس دنیا کے بہت سارے حصوں میں ایسے رفقائے کار موجود ہیں جو ہمارے ساتھ معلومات اور جانکاری کا تبادلہ کرنے کے لیے تعاون اور کام کرتے ہیں کیونکہ ایسا کرنا اہم ہے۔”

اسرائیل

تجرباتی علاج تیار کرنے کے لیے امریکہ کا صحت کا قومی ادارہ (این آئی ایچ) اسرائیل کے سب سے بڑے ہسپتال، شیبا میڈیکل سنٹر کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

شیبا میڈیکل سنٹر اسرائیل میں کووڈ-19 کے مریضوں سے حاصل کیے گئے پلازمے اور وائرس کے نمونوں سمیت خون کے نمونے این آئی ایچ کو فراہم کرے گا۔

این آئی ایچ کے ڈاکٹر ڈینیئل ڈوئیک نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا، "مجھے یقین ہے کہ ہم نہ صرف موجودہ وبائی بیماری کے حل میں بلکہ مستقبل میں سامنے آنے والی متعدی بیماریوں کے سلسلے میں بھی مدد کر سکیں گے۔”

ہانگ کانگ

ویکسین کی تیاری کی رہنمائی میں مدد کرنے کی خاطر کیلی فورنیا میں لا جولا کے سکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدان ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی ماہیئت کی صورت گری کر رہے ہیں۔

اس شراکت کاری کے نتیجے میں حال ہی میں وہ تصویر تیار کی گئی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کووڈ-19 کے انفیکشن کے ردعمل میں انسانی دفاعی نظام وائرس کی سطح پر کہاں کہاں حملہ آور ہوتا ہے۔

این آئی ایچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرانسس کولنز نے بتایا، "یہ مقامات خاصی دلچسپی کے حامل ہیں کیونکہ وہ وائرس (کی سطح) پر ایسے کمزور حصوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن پر (انسانی دفاعی نظام موثر) حملےکر سکتا ہے۔ لہذا ویکسین تیار کرنے والوں کے لیے یہ (مقامات) اچھے اہداف ہیں۔” این آئی ایچ سکرپس لیبارٹری کو مالی وسائل مہیا کرتا ہے۔