کووڈ-19 کے مریضوں کے لیے ناسا کے انجنیئروں کا تیار کردہ وینٹی لیٹر

(NASA/JPL-Caltech)حفاظتی لباس پہنے لوگ وینٹی لیٹر کے نمونے کے پاس کھڑے ہیں (NASA/JPL-Caltech)
بائیں طرف بیٹھے ہوئے برینڈن میٹز، اُن کے پیچھے کھڑی بائیں سے دائیں، شانسی گرانٹ، مائیکل جانسن، ڈیوڈ وین بورن، مشیل ایسٹر اور دائیں طرف بیٹھے ہوئے پیٹرک ڈیگراس ناسا کے اُن انجنیئروں میں شامل ہیں جنہوں نے کووڈ-19 کے مریضوں کے لیے وائیٹل نامی وینٹی لیٹر بنایا ہے۔ (NASA/JPL-Caltech)

ناسا کے مطابق اس کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (جے پی ایل) کے انجنیئروں کی کافی کے دوران ہونے والی گپ شپ کے نتیجے میں کووڈ-19 کے مریضوں کے لیے وینٹی لیٹر کا ابتدائی نمونہ تیار ہو گیا۔

17 مارچ کو کورونا وائرس کی وجہ سے دفتروں کی بندش اور گھروں سے کام کرنے کے آغاز سے قبل، جب مکینیکل انجنیئر ڈیوڈ وین بورن اور جے پی ایل کے چیف انجنیئر، راب میننگ کافی لینے کے لیے لائن میں کھڑے انتظار کر رہے تھَے تو انہوں نے کووڈ-19 عالمی وبا پر تبادلہ خیال کرنا شروع کر دیا اور سوچنے لگے کے وہ کیسے مدد کر سکتے ہیں۔ یہ 11 مارچ کی بات ہے۔

وین بورن بتاتے ہیں، "راب سے باتیں کرنے کے بعد میں واپس دفتر میں اپنے کمرے میں چلا گیا مگر یہ سوال مجھے پریشان کرتا رہا۔ ہمارے ہاں انجنیئرنگ کی حیرت انگیز ذہانت اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ ہم آنے والے دنوں میں وینٹی لیٹروں کی قلت کو کس طرح کم کر سکتے ہیں۔”

لیبارٹری میں مشینوں پر کام کرتے ہوئے لوگ۔ (NASA/JPL-Caltech)
پیسا ڈینا، کیلی فورنا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری میں انجنیئر وینٹی لیٹر کے ایک ابتدائی نمونے پر کام کر رہے ہیں۔ (NASA/JPL-Caltech)

ناسا کے مطابق، 37 دن بعد 50 سے زائد لوگوں نے، جن میں سے بعض جے پی ایل میں اور زیادہ تر اپنے گھروں سے کام کر رہے تھے، وائیٹل کے نام سے سانس لینے میں آسانی پیدا کرنے والی ایک مشین تیار کی تا کہ کووڈ-19 کے شدید بیمار مریضوں کی مدد کی جاسکے اور مقامی ہسپتالوں میں روائتی وینٹی لیٹروں کی قلت کو دور کیا جا سکے۔ اسے اپنے انگریزی نام کے الفاظ کے ابتدائی حروف کی مناسبت سے وائیٹل کا نام دیا گیا جس کا مطلب مقامی طور پر دستیاب سانس لینے میں مدد کرنے والی ٹکنالوجی ہے۔

خوراک اور ادویات کے ادارے نے وائیٹل کے ابتدائی نمونے کی منظوری دے دی ہے۔ اس مشین کی تیاری کے لیے جے پی ایل کو 100 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے جے پی ایل نے نئے وینٹی لیٹر بنانے کے لیے آٹھ امریکی کمپنیوں کو منتخب کیا ہے۔

اس وقت امریکی ہسپتالوں میں داخل مریضوں کے لیے درکار وینٹی لیٹر، امریکہ کے پاس معقول مقدار میں موجود ہیں۔ چنانچہ امریکہ دوسرے ممالک کو بھی کچھ وینٹی لیٹر بھجوا سکتا ہے۔

طبی آلے کے پاس کھڑے ڈاکٹر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ (Icahn School of Medicine/NASA/JPL-Caltech)
نیویارک کے ماؤنٹ سینائی کے طب کے ایکان سکول میں ڈاکٹر ناسا کے تیار کردہ وینٹی لیٹر کو ٹیسٹ کرنے کے بعد تصویر کھچوانے کے لیے کھڑے ہیں۔ (Icahn School of Medicine/NASA/JPL-Caltech)