کہیں بھی مذہبی آزادی پر کیا جانے والا حملہ ہر جگہ آزادی کی توہین ہے: پومپیو

ایک احتجاج کے دوران پولیس افسر عورتوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ (© Guang Niu/Getty Images)
چین کے سنکیانگ کے ویغور خود مختار علاقے کے دارالحکومت، ارمچی میں چینی پولیس کا ویغور مظاہرین سے تصادم۔ (© Guang Niu/Getty Images)

ایک عزیز امریکی قدر اور ناقابل تنسیخ حق کے طور پر امریکہ، مذہبی آزادی کا ایک بڑا علمبردار ہے۔ مگر اس بنیادی حق کو دنیا بھر میں خطرات کا سامنا ہے۔

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 27 اکتوبر کو مذہبی آزادی کا بین الاقوامی دن مناتے ہوئے ایک بیان میں کہا، “امریکہ ایسے میں خاموش نہیں بیٹھا رہے گا جب لوگوں کو اُن کے عقیدے کی وجہ سے مار ڈالا جائے گا، قید کیا جائے گا، ہراساں کیا جائے گا یا اُن پر تشدد کیا جائے گا۔ ہم اُن سب کے شانہ بشانہ اور اُن کی حمایت میں کھڑے ہوں گے جو اپنے مذہبی  تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔”

1998 میں منظور کیے جانے والے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے قانون کی اس سال اکیسویں سالگرہ ہے۔ اس قانون کی منظوری سے مذہبی آزادی کا دنیا بھر میں فروغ، امریکی غیرملکی پالیسی کا مرکزی نقطہ قرار پایا۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

وزیر خارجہ پومپیو:

دنیا بھر میں مذہبی آزادی پر مسلسل حملے ہولناک اور ناقابل قبول ہیں۔ ہم زیادتیوں کا شکار ہونے والوں کے حق میں غیر معذرت خواہانہ انداز سے کھڑے ہوں گے اور اُن ممالک کا سامنا کریں گے جو ناقابل تنسیخ حقوق میں سے بنیادی ترین حق کو تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

امریکہ کے بانی مذہبی آزادی کو اولین آزادی سمجھتے تھے — ایک ایسی آزادی جو ریاست نہیں دیتی بلکہ یہ انسانوں کا پیدائشی حق ہے۔

دو عورتیں ایک ستون کے پاس کھڑی ہیں جس پر یہ عبارت تحریر ہے: "زمین پر امن قائم ہو۔" (© Mel Evans/AP Images)
مسلمان اور یہودی عورتوں کی ‘بہنوں کی سلام شالوم برادری’ نامی ایک تنظیم کی اراکین نیو جرسی میں ایک ستون کے قریب کھڑی ہیں جس پر یہ عبارت تحریر ہے: “زمین پر امن قائم ہو۔”

چین اور ایران سمیت دنیا کی 80 فیصد آبادی اُن ممالک میں رہتی ہے جہاں مذہبی آزادی پر بہت زیادہ اور کڑی پابندیاں عائد ہیں۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس:

اس دنیا میں لوگوں کی اکثریت مذہبی پابندیوں کے ماحولوں میں رہتی ہے۔ ایسے میں جب ہم بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اکیسویں سالگرہ منانے جا رہے ہیں ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہر ایک کو سوچ، ضمیر اور مذہب کی آزادی حاصل ہو۔

 مذہبی آزادی نہ صرف افراد اور خاندانوں کے لیے انتہائی اہم ہے بلکہ یہ کامیاب معاشروں کا بھی ایک اہم ستون ہے۔ پومپیو نے اپنے 27 اکتوبر کے بیان میں کہا، “اگر کسی ملک کی سرحدوں کے اندر لوگ پسماندہ یا پسے ہوئے ہوں گے توکوئی بھی حکومت اپنی صلاحیتوں سے مکمل طور پر کبھی بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔”

https://t.co/eHebojCICW pic.twitter.com/TIoKLfdUHz

ٹوئٹر کا خلاصہ:

محکمہ خارجہ:

وزیر خارجہ پومپیو مذہبی آزادی کے بین الاقوامی دن کے موقع پر: ہم اُن سب کے شانہ بشانہ اور اُن کی حمایت میں کھڑے ہوں گے جو اپنے عقائد کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ کہیں بھی مذہبی آزادی پر کیا جانے والا حملہ ہر جگہ آزادی کی توہین ہوتا ہے۔