کیا آپ امن اور سلامتی چاہتے ہیں؟ عورتوں کو قیادت میں شامل کریں

محکمہ خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کہتی ہے کہ مجموعی قومی پیداوار کی نسبت صنفی مساوات کسی ریاست کی پرامنی کے بارے میں ایک بہتر پیشگوئی کرتی ہے۔

2017ء کے عورتوں، امن اور سلامتی کے قانون کی منظوری کے بعد امریکہ پہلا ملک تھا جس نے سلامتی میں عورتوں کے کردار کی بنیاد پر پہلی جامع قانون سازی کی۔

امریکہ کی 2019ء کی خواتین، امن، اور سلامتی کی حکمت عملی اور حال ہی میں جاری کردہ عمل درآمد کے منصوبے میں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سلامتی، ٹکنالوجی اور انسداد دہشت گردی میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو بھرتی کرنے کی دنیا بھر کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان میں قابل پیمائش نتائج  کا حامل  یہ معیار بھی مقرر کیا گیا ہے کہ دوسرے ممالک اپنے ہاں خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کس طرح طے کر سکتے ہیں۔

محکمہ خارجہ کی قیادت میں عورتوں، امن اور سلامتی سے متعلقہ کوششیں اُن ممالک پر مرکوز کی گئیں ہیں جن کو اس پروگرام کے لیے شراکت داروں کی حیثیت سے چنا گیا ہے یہ ایسے مالک ہیں جن میں لڑائی اور/عورتوں کے خلاف تشدد یا تو جاری ہے یا اِن میں لڑائی کا خطرہ موجود ہے۔ ان میں آج افغانستان، بوسنیا اور ہرزیگوینا، جارجیا، عراق، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور یمن شامل ہیں۔

 اکٹھی کھڑیں چار عورتیں جن میں سے دو نے وردیاں پہنی ہوئی ہیں اور دو نے سروں پر دوپٹے لیے ہوئے ہیں (Captain Jennifer Pacurari)
ایک افغان مترجم، عزیزہ اور فرسٹ بٹالین 125 ویں انفنٹری رجمنٹ، 37 ویں انفنٹری بریگیڈ کی لڑاکا ٹیم کی سارجنٹ ایشلے روہر، مارچ 2012 میں قندوز شہر، افغانستان میں ایک فیکٹری کی دو خاتون ملازمین کے ساتھ کھڑی ہیں۔ (Captain Jennifer Pacurari)

An Afghan interpreter, Aziza, and Sergeant Ashley Rohr, female engagement team member with the 1st Battalion, 125th Infantry Regiment, 37th Infantry Brigade Combat Team, stand with two employees of the Women’s Factory in Kunduz City, Afghanistan, March 2012. (Captain Jennifer Pacurari)

11 جون کو وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے کہا، “امن قائم رکھنے، تصادموں کو روکنے، اور دہشت گردی ختم کرنے کے لیے عورتوں کی بامعنی شرکت کی حمایت کا نتیجہ کمیونٹیوں اور دنیا بھر کے ممالک کے لیے بہتر سلامتی اور معاشی کامیابیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ محکمہ خارجہ کے عمل درآمد کے منصوبے میں تصادموں کو روکنے اور سلامتی کو فروغ دینے کی کوششوں میں عورتوں کی کم نمائندگی کا مسئلہ حل کرکے، ہماری قومی سلامتی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔”

اس رپورٹ میں محکمہ خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے 2023 ء تک تین بنیادی مقاصد حاصل کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے:

  • عورتوں کو ایسی کوششوں میں روزافزوں شرکت کے لیے تیار کرنا جو مستحکم اور پائیدار امن کو فروغ دیتی ہیں۔
  • یہ یقینی بنانا کہ عورتیں اور لڑکیاں زیادہ سے زیادہ محفوظ ہیں اور انہیں بہتر تحفظ حاصل ہے، انہیں امریکہ، بین الاقوامی شراکت کاروں اور میزبان ممالک سمیت حکومتی اور نجی امدادی پروگراموں تک برابر کی رسائی حاصل ہے۔
  • یہ یقینی بنانا کہ کوششیں پائیدار اور طویل مدتی ہیں۔
 فوجی خاتون جس کے آگے اور پیچھے چھوٹے بچے لپٹے ہوئے ہیں (Dept. of Defense)
لیفٹننٹ کرنل لیزا جیسٹر کی عمر اُس وقت 37 سال تھی اور وہ دو بچوں کی ماں تھیں جب انہوں نے 2015ء میں رینجر سکول سے گریجوایشن کی۔ وہ رینجر کی پٹی حاصل کرنے والی آرمی ریزرو کی پہلی اور مجموعی طور پر تیسری فوجی خاتون ہیں۔ (Dept. of Defense)

پومپیو نے 11 جون کو ایک ٹویٹ میں کہا، “عورتیں دنیا بھر میں امن قائم کرنے والوں کی اگلی صفوں میں شامل ہوتی ہیں۔ امن کے عملوں میں اُن کی شرکت کو مضبوط بنانے سے تصادموں کی روک تھام ہوتی ہے اور عالمی سلامتی کو فروغ ملتا ہے۔”

مزید جاننے کے لیے محکمہ خارجہ کی عورتوں، امن، اور سلامتی کی ویب سائٹ پر جائیے۔