امریکہ میں جب لوگ بینک میں پیسے جمع کراتے ہیں تو انہیں علم ہوتا ہے کہ یہ محفوظ ہیں۔ درحقیقت 1933 سے اب تک بیمہ شدہ بینک کھاتوں میں کسی امریکی فرد کی ایک پائی بھی ضائع نہیں ہوئی۔ یہ وہ سال تھا جب حکومت نے بڑی کساد بازاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمگیر معاشی بحران کے بعد حفاظتی اقدامات متعارف کرائے تھے۔

ذیل میں دیئے گئے تین طریقوں کی وجہ سے امریکی جانتے ہیں کہ ان کی رقم محفوظ ہے:

  • امریکہ میں بینک اکاؤنٹ کھلوانے والا کوئی بھی شخص فیڈرل ڈیپازٹ انشورنس کارپوریشن یا ایف ڈی آئی سی کا نشان دیکھ سکتا ہے۔ یہ نشان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنکنگ کا متعلقہ ادارہ ایف ڈی آئی سی سے منسلک ہے اور کھاتہ دار کی اپنے چیکنگ، سیونگ یا دیگر کسی بھی اکاؤنٹ میں جمع کرائی جانے والی رقم امریکی حکومت کے مکمل اعتماد اور ساکھ کے ساتھ بیمہ شدہ ہے۔
  • بینک کی ناکامی ک غیرامکانی صورت میں ایف ڈی آئی سی اس امر کی ضمانت دیتی ہے کہ لوگ ایک مخصوص حد تک اپنی بچتیں (سیونگز) واپس لے سکتے ہیں۔ فی الوقت ایک اکاؤنٹ کے لیے یہ حد 250,000 ڈالر ہے۔
  • بینک دھوکہ دہی کو پکڑنے کی جدید ترین نظاموں سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں تاکہ ہیکروں کو جعلی کاروائیوں کے ذریعے دوسروں کے اکاؤنٹوں سے رقم نکلوانے سے روکا جا سکے۔

ایف ڈی آئی سی کے چیئرمین مارٹن گرونبرگ نے 2017 میں بتایا، "بیمہ شدہ کھاتے جیسی بنیادی چیز گھرانوں کو اپنی آمدنی محفوظ  طور سے جمع کرانے کی اہلیت فراہم کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اسے معمولی بات سمجھتے ہیں مگر بچتوں کا تحفظ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔”

بعض ممالک میں بینکوں کا نظام بے حد غیرشفاف ہے۔ مثال کے طور پر ایران میں رقم جمع کرانے والے لوگ بعض اوقات بینکاروں کی بدعنوانی اور سٹے بازی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بے ضابطہ قرض دہندگان نے ایرانی خاندانوں کی کروڑوں کی بچتیں چوری کر لی ہیں یا بد انتظامی کی وجہ سے انہیں نقصان پہنچایا ہے۔

ناجائز استعمال کی روک تھام

امریکی ادارے ضوابط پر پورا نہ اترنے والی مالیاتی خدمات حاصل کرنے والے لوگوں کی وکالت کرتے ہیں۔

امریکی فوج میں گاہکوں کی مدد کرنے والے وکیل کیپٹن ول جیمیسن کا کہنا ہے کہ ان کا ایک گاہک دوسرے فوجی اڈے پر تبادلے کے وقت بحرانی کیفیت کا شکار ہو گیا۔ اس فوجی کے بینک نے نو ماہ تک اسے اپنا گھر فروخت کرنے کی اجازت نہ دی۔ اس کے پاس دو قرضوں کی ادائیگی کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اس موقع پر وکیل اور گاہک نے صارفین کے مالیاتی تحفظ (سی ایف پی بی) کے دفتر سے  رجوع کیا۔ اس ادارے کے نمائندوں نے دو ہفتوں میں ہی یہ مسئلہ حل کر دیا۔

جیمیسن کہتے ہیں، "اس فوجی نے مجھے خاص طور پر بتایا کہ اگر اسے ‘سی ایف پی بی’ کی مدد حاصل نہ ہوتی تو بینک اسے مالی نقصان پہنچاتا۔”

امریکی حکومت سب کو یکساں مواقعوں کی فراہمی کو فروغ دے کر اس بات کو یقینی بناتی ہے بینک اور مالیاتی ادارے نسل، مذہب یا قومیت کی بنیاد پر کسی کو قرض یا دوسری سہولیات دینے سے انکار نہ کریں۔