Illustration of a Chinese dragon snaking it's way through a college building.
(State Dept./D. Thompson)

ہن بان کی مدد سے چلنے والے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ چینی زبان اور ثقافت کے مراکز ہیں۔ ہن بان چین کی وزارت تعلیم سے منسلکہ ایک تنظیم ہے۔ امریکہ کی تقریباً 100 یونیورسٹیوں میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں۔

اِن انسٹی ٹیوٹوں کے بارے میں 28 فروری کو ہونے والی ایک سماعت میں سینیٹر راب پورٹمین نے کہا، “ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹوں کی مالی مدد کے ساتھ  اس قسم کی شرائط نتھی ہوتی ہیں جو تعلیمی آزادی کو سلب کر سکتی ہیں۔” پورٹمین نے کہا کہ یہ انسٹی ٹیوٹ “چین کی سیاسی مباحثے کی سنسرشپ برآمد کرتے ہیں اور حساس سیاسی موضوعات پر بحث کو روکتے ہیں۔”

اس سماعت میں احتساب کے حکومتی دفتر کی جانب سے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹوں کے اس تجزیے کا جائزہ لیا گیا جس میں ہن بان اور یونیورسٹیوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔

اس تجزیے کے مطابق بہت سی صورتوں میں اِن معاہدوں سے ہن بان کو کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ چلانے کے لیے پیسے فراہم کرنے کے بدلے میں نصاب اور ملازمین رکھنے کے معاملات میں اثرونفوذ حاصل ہوجاتا ہے۔ پالیسی سازوں اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اِن معاہدوں کی شرائط کی وجہ سے یونیورسٹیوں کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے اثرونفوذ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کچھ یونیورسٹیوں نے بتایا ہے کہ ہن بان نے اساتذہ پر یونیورسٹی کی تقریبات اور بحثوں کو سنسر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

‘ہیومن رائٹس واچ’ کی چین کی ڈائریکٹر سوفی رچرڈسن کہتی ہیں، “یہ ایسے انسٹی ٹیوٹ ہیں جن کا نصاب ایک ایسی مطلق العنان حکومت کی طرف سے آتا ہے جس میں ملازمت دینے کے فیصلے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔” اس گروپ نے حال ہی میں تعلیمی آزادی کی سربلندی کے لیے ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے جس میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹوں کی میزبانی نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

Overhead view of Chinese brush painting (© RJ Sangosti/The Denver Post/Getty Images)
ڈینور کے کمیونٹی کالج کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں طلبا برش سے مصوری کرنے کی چینی کلاس میں۔ © RJ Sangosti/The Denver Post/Getty Images)

تبتی نژاد امریکی لاہانز ٹم، پورٹ لینڈ سٹیٹ یونیورسٹی کی طالب علم ہیں۔ انہوں نے اپنی یونیورسٹی کو کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کو بند کرنے کی درخواست یہ جاننے کے بعد دی کہ اساتذہ نے ہن بان کی ناراضگی سے بچنے کے لیے “اراداتاً  وہ موضوعات سنسر کیے جو چینی حکومت کو پسند نہیں۔”

بعض پالیسی ساز اس بات پر فکر مند ہیں کہ اساتذہ چین کے ساتھ منافع بخش انتظامات کو نقصان پہنچنے کے خدشے کی وجہ سے [چیزوں کو] خود بخود ہی سنسر کریں گے جس سے تعلیمی آزادی سلب ہو کر رہ جائے گی۔ رچرڈسن کہتی ہیں، “میزبان یونیورسٹی بالاخر کس کو اپیل کرے گی؟ کیا یہ چینی حکومت کے ساتھ موثر طریقے سے بحث کر سکتی ہے؟ غالباً نہیں۔”