کیا ہم اکیلے ہیں؟ سائنسدانوں کی 7 نئے سیاروں کی دریافت

ناسا یہ سمجھنے کے لیے مزید ایک قدم قریب آ گیا ہے کہ آیا زمین کی مانند کوئی اور سیارہ بھی موجود  ہے۔

امریکی خلائی ادارے کو ایک قریبی ستارے کے مدار میں گردش کرنے والے سات سیارے ملے ہیں۔ ان میں سے تین ایسے مداروں میں واقع ہیں جہاں پانی کی مائع شکل میں موجودگی ممکن ہو سکتی ہے۔

Artist's conception of stellar system with many planets (NASA)
سائنسدانوں کے مطابق ٹریپِسٹ نظام میں واقع تینوں میں سے کوئی بھی سیارہ پانی کی مائع شکل کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔ (NASA)

22 فروری کو ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے تھامس زربُکن نے کہا، "یہ دریافت اس بات کا عندیہ ہے کہ ایک اور زمین کی تلاش ‘ اگر مگر ‘ کا نہیں بلکہ ‘ کب ‘ کا معاملہ ہے۔”

سات چٹانی سیاروں کو فی الحال کوئی نام نہیں دیا گیا۔ وہ 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ‘ ٹریپسٹ ون’ نامی ایک ننھے مُنے سیارے کے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔

موجودہ ٹکنالوجی کے ساتھ سائنسدانوں کے لیے نئے سیاروں کا مشاہدہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ مگر اگلے سال جب ناسا جمیز ویب خلائی دُوربین کو خلا میں بھیجے گی تو سائنسدان یہ جان پائیں گے کہ کیا تین سیاروں پر پانی اور دیگر ایسے کیمیائی حالات موجود ہیں جن سے زندگی کے امکانات بڑہنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

اِن سیاروں کو چِلی میں نصب ‘ٹریپسٹ ‘ نامی بلجیم کی ایک دوربین اور ناسا کی ‘ سپِٹزر خلائی دوربین ‘ نے دریافت کیا ہے۔