امریکہ کو امید ہے کہ آنے والے پانچ برسوں میں کینسر پرایک عشرے کے برابر تحقیق مکمل کر لی جائے گی۔

دونوں پارٹیوں کی حمایت سے منظور کیے جانے والے 21 ویں صدی کے شافی علاجوں کے بل پر صدر اوباما نے 13 دسمبر کو دستخط کر کے اسے قانونی شکل دی۔ اس قانون کے تحت کینسر پر تحقیق کو تیز کرنے کے لیے 1.8 ارب ڈالر کی رقم رکھی گئی ہے۔

مسودۂ قانون پر دستخط کرنے کی تقریب میں جو غالباً ان کے عہدِ صدارت کی آخری تقریب ہوگی، اوباما نے کہا، "ہم اس سلسلے میں بہت سے لوگوں کی سوچ کے برعکس، اپنی منزل کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔”

اس نئے قانون کے تحت:

  • امیونوتھیریپی یعنی جسم کے مدافعتی نظام جیسے علاج کے طریقوں میں پیسہ لگایا جائے گا جن میں کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ امیونوتھریپی میں کینسر کے خلیوں کو نشانہ بنانے اور انہیں ہلاک کرنے کے لیےجسم  کے اپنے مدافعتی نظام کو استعمال کیا جاتا ہے۔
  • تحقیق کے لیے اعداد و شمار اور مصنوعی ذہانت کو وسیع پیمانے پر بروئے کار لایا جائے گا۔
  • مسافروں کو سواری کی سہولت فراہم کرنے والی Uber اور Lyft جیسی کمپنیوں کے مدد کے وعدوں پر انحصار کیا جائے گا۔ یہ کمپنیاں باکفایت ٹرانسپورٹیشن کی فراہمی کے ذریعے، مریضوں کی ڈاکٹروں کے ساتھ اپائنٹمنٹ پرجانے میں مدد کرتی ہیں۔
  • کینسر سے بچاؤ اور اس کی تشخیص کی کوششوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔

اس قانون میں الزائمر جیسی دماغی امراض  پر تحقیق کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن کی الزیبتھ جیفی کا کہنا ہے، "ہمارے پاس سائنسی علم موجود ہے۔ تحقیق کے لیے یہ وقت بالکل موزوں ہے۔”

President Obama signing bill as people look over his shoulder (© AP Images)
21ویں صدی کے شافی علاج کے قانون کو دونوں پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ (© AP Images)

اس انتظامیہ کے کینسر مون شاٹ پروگرام کے تحت سائنسدان، کاروباری ادارے اور مریض کینسر کے علاج کے نئے طریقوں کی تلاش اوراس مرض کی دیکھ بھال کے لیے ایک جگہ جمع ہوئے۔ صدر نے اپنے جنوری 2016 کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اس پروگرام کا اعلان کیا، اور اس کی قیادت نائب صدر جو بائیڈن کو سونپی۔

اوباما اور بائیڈن دونوں کے قریبی عزیزوں کو کینسر کے مرض نے ان سے جدا کر دیا۔ بائیڈن کے بیٹے، بیو کا انتقال 2015ء میں دماغ کے کینسر سے ہوا۔ 55 سالہ صدر نے بتایا کہ ان کی والدہ ان کی [اوباما کی] زندگی دیکھنے کے لیے حیات نہ رہیں، اور 50 سال سے کچھ ہی زیادہ عمر میں کینسر کے مرض سے انتقال کر گئیں۔

اوباما نے کہا، "ان باتوں کو یاد رکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن ہم  نے جن لوگوں کو اس مرض میں کھویا ہے، ان کو تکریم دینے کا یہ ایک  بڑا اچھا طریقہ ہے۔ پھر یہ سوچ کر ہمارا دِن روشن ہوجاتا ہے کہ ممکن ہے اس طرح ہم دوسرے گھرانوں کو اس قسم کے نقصان کو [اتنے دکھ سے] محسوس کرنے سے محفوظ رکھ سکیں۔”