کیا یہ بغیربیج اور پھول والا ننھا سا پودا دنیا کو ایک بار پھر تباہی سے بچا سکتا ہے؟

پانچ کروڑ سال قبل فضا سے کاربن ڈائی آکسائڈ کو دور کرنے میں مدد دے کر ایک چھوٹے سے پودے نے زمین کی آب و ہوا پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس پودے کا نام ازولا فرن [کزف] ہے۔ اب سائنسدان اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ پودا کس طرح انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آب و ہوا کی تبدیلی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

جب 5 کروڑ سال قبل ازولا نے ہماری مدد کی تھی، اس وقت زمین آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرم ہوا کرتی تھی اور گرین ہاؤس گیسوں کی سطحیں خطرناک حد تک زیادہ تھیں۔ آرکٹک کا سمندر ایک گرم جھیل کی مانند تھا اور قطب شمالی کے قریب کی آب و ہوا گرم مرطوب تھی۔

ایک تالاب پر تیرتا ہوا سبزہ۔ (Judgefloro/Creative Commons)
فلپائن کے چاولوں پرتحقیق کرنے والے ادارے میں ایک تالاب کو ازولا نے ڈھانپ رکھا ہے۔ (Judgefloro/Creative Commons)

ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی بلند مقدار کی بنا پر ازولا کے  پودے خوب پھلے پھولے، اور انہوں نے آرکٹک کے پورے سمندر کو ایک بہت بڑی چٹائی کی طرح ڈھانپ لیا۔ مگر پھر ازولا کی افزائشں بتدریج ختم  ہوتی گئی اور یہ پودے تقریباً دس لاکھ سال کے عرصے میں، سمندر کی تہہ میں غرق ہو گئے اور کاربن بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ آرکٹک ازولا کا یہ عمل قطب شمالی کی ایک مہم کے دوران 2004ء میں دریافت ہوا۔

اس عمل کے دوران ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائد کی سطحیں تقریباً 50 فیصد کم ہوگئیں، جس کے نتیجے میں انتہائی گرم آب و ہوا نے تبدیل ہو کر زمین کی موجودہ آب و ہوا کی شکل اختیار کر لی۔ اب  دونوں قطبین پر مستقل برف جمی رہتی ہے۔

ازولا کی قد و قامت دو دن سے بھی کم وقت میں  دگنا ہو سکتی ہے۔ اسے کسی قسم کی مٹی کی ضرورت ںہیں ہوتی اور یہ اپنی ضرورت کی ساری نائٹروجن ہوا سے حاصل کر سکتا ہے۔ اسے ایک “سپر آرگنزم“سمجھا جاتا ہے — یعنی ایک ایسا پودہ جس میں انتہائی چھوٹے چھوٹے جاندار پرورش پاتے ہیں جو فضا میں موجود نائٹروجن کو اپنی غذا میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ ایشیا میں کاشتکار ایک طویل عرصے سے اسے ایک ایسے پودے کے طور پر استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں جو چاول کے کھیتوں کو قدرتی، سبز کھاد فراہم کرتا ہے۔

ایک معجزاتی پودے کے استعمال کے نئے طریقے معلوم کرنا

دنیا بھر کے سائنسدان ازولا کی خفیہ خصوصیات کا پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں ڈیوک یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھلین پرائر بھی شامل ہیں جو عوامی سطح پر فنڈ جمع کرنے کے ایک پروگرام کی قیادت کر رہی ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد ازولا کے جینیاتی خواص کی ترتیب معلوم کرنا ہے۔

دنیا کے بعض علاقوں میں، ازولا کو دوسرے پودوں پر غالب آنے والا پودہ تصور کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ بڑی تیزی سے پھیلتا ہے، اور دوسرے پودوں پر چھا جاتا ہے۔ اس طرح یہ پودہ پانی میں آکسیجن کی سطح کی کمی کا باعث بنتا ہے۔

ازولا میں آلودگی ختم کرنے کی زبردست صلاحیت پائی جاتی ہے۔ کاربن کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت کے علاوہ، یہ پودے بھاری دھاتوں اور ہائڈروکاربن کمپاؤںڈز جیسے ماحول کو آلودہ کرنے والے مادوں کو بھی جذب کر لیتے ہیں۔ یہ عمل پانی کو صاف کرنے کا ایک بہت ہی مفید طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسی مصنوعی کھاد کے استعمال کی ضرورت کو کم کرنے کے علاوہ جس کی تیاری میں بہت زیادہ توانائی استعمال ہوتی ہے، ازولا کو مویشیوں کے چارے کے طور پر، نباتات سے پیدا ہونے والے ایندھن میں، اور مچھروں پر قابو پانے کے لیے  بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک محقق کا کہنا ہے، ” یہ پودا ہر سطح پر حیرت انگیز طور پر مفید ہے۔ اس کے بارے میں مجھے جو کچھ بھی پتہ چلے گا مجھے اس پر مطلق کوئی حیرت نہیں ہوگی۔”