کینیا کے لیے مزید امریکی گندم

کینیا اب امریکہ میں کسی بھی جگہ سے گندم خرید سکتا ہے

گزشتہ 12 برسوں سے امریکہ کا محمکہ زراعت کینیا کے اہل کاروں کے ساتھ مل کر قریبی طور پر پودوں کی نشوونما سے متعلق اُن خدشات کو دور کرنے پر کام کرتا رہا ہے جن کی وجہ سے کینیا کو امریکی ریاستیں آئیڈا ہو، اوریگن اور واشنگٹن گندم برآمد نہیں کرسکتی تھیں۔

امریکہ کے محمکہ زراعت نے 25 فروری کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اور کینیا کے صدر اوہورو کینیاٹا کے درمیان اگست 2018 میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک ملاقات کے نتیجے میں تشکیل دیئے جانے والے ایک ورکنگ گروپ سے دونوں ممالک کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک ذریعہ میسر آیا۔ محمکہ زراعت کے مطابق کینیا امریکہ سے ہر سال تقریباً 500 ملین ڈالر کی گندم خریدتا ہے۔

نئے اتنظامات کے تحت، کینیائی حکام امریکی معائنوں اور تصدیقی سرٹیفکیٹوں کو قبول کریں گے جبکہ امریکہ گندم کی پھپھوندی کی نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے کسانوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے 6 فروری کو اعلان کیا کہ امریکہ کا کینیا کے ساتھ تجارتی مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ ہے۔

اس موقع پر امریکہ کے تجارتی نمائندے رابرٹ لائٹ ہائزر نے کہا، “کینیا اس (افریقی) براعظم کا ایک تسلیم شدہ لیڈر اور امریکہ کا ایک اہم تزویراتی شراکت کار ہے۔ اور (امریکہ کے پاس) اپنے اقتصادی اور تجارتی روابط کو بڑہانے کے لیے بے تحاشا گنجائش موجود ہے۔”