کیوبا کے انقلاب کی کیوبائی عوام کو ناکام بنانے کی پانچ وجوہات

Man crossing a street in Cuba (© Desmond Boylan/AP Images)
ہوانا میں سڑک عبور کرتے ہوئے ایک آدمی کے قریب سے پرانے زمانے کی ایک کار گزر رہی ہے۔ (© Desmond Boylan/AP Images)

اس سال کیوبائی انقلاب کی 60 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود اس چھوٹے سے سوشلسٹ ملک کے شہری اِس انتظار میں ہیں کہ ان کی حکومت 1959ء میں کیے گئے وعدوں پر کب عملدرآمد کرے گی۔ 24 فروری کو نئے آئین پر ہونے والے ریفرنڈم  کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں بننے والا نیا آئین شاید ان کے حقوق پر مزید پابنیدیاں لے کر آئے گا۔ یہاں اُن پانچ  وجوہات کا ذکر کیا جارہا ہے جن کی وجہ سے کیوبا کی کیمونسٹ پارٹی نے اپنے لوگوں کومایوس کیا۔

1- محدود اظہار

Man holding T-shirt with Cuban slogan (© Mariana Bazo/Reuters)
ہوزے ڈینیل فیرر یونین پیٹریو ٹیکا ڈی کیوبا کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے جو ٹی شرٹ پکڑ رکھی ہے اس پر ہسپانوی زبان میں “خدا، مادر وطن، آزادی” لکھا ہوا ہے۔ (© Mariana Bazo/Reuters)

24فروری کو ہونے والے ریفرنڈم کے تناطر میں کیوبا کی حکومت نے مخالف سیاسی شخصیات پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جیسا کہ (تصویر میں دکھائے گئے) ہوزے  ڈینیل فیرر ہیں۔ فیرر کیوبا کے سب سے بڑے منحرف گروپ “یونین پیٹریو ٹیکا ڈی کیوبا” (یو این پی اے سی یو) کے لیڈر ہیں۔ حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی فیرر جیسی شخصیات حکومت پر صاف و شفاف ریفرنڈم کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ 11فروری کو کیوبا کی پولیس نے فیرر سمیت یو این پی اے سی یو کے مختلف منحرف سرگرم کارکنوں کے گھروں، دفاتر پر چھاپے مارے ان کا سامان قبضے میں لے لیا، انھیں مارا پیٹا جبکہ متعدد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں یو این پی اے سی یو کے درجنوں کارکنوں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔

2- معاشی جمود

Two women behind a grocery counter (© Roberto Machado Noa/LightRocket/Getty Images)
مقامی زبان میں “بوڈیگا” کہلانے والا کیوبا میں اشیائے خورد و نوش کا ایک سٹور۔ (© Roberto Machado Noa/LightRocket/Getty Images)

کیوبا کے سٹوروں میں  خالی شیلف معمول کی بات ہے۔ زیادہ تر اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی وجہ کمزور مرکزی انتظامیہ اور کیوبا کی حکومت ہے جو نجی شعبے کو اپنی بھرپور صلاحیتیں بروئے کار نہیں لانے دیتی۔ اس کے نتیجے میں وہاں کے شہریوں کو حکومت کی مقرر کردہ اپنی قلیل تنخواہوں سے (جو یومیہ ایک ڈالر سے بھی کم  ہو سکتی ہیں)  روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا بلیک مارکیٹ سے آسمان کو چھوتی قیمتوں پر خریدنا پڑتی ہیں۔

3- غیرمنصفانہ حالات کار

People sitting in an airport terminal waiting for their plane (© Eraldo Peres/AP Images)
22 نومبر 2018 کو برازیل کے شہر برازیلیا کے ایئرپورٹ پر کیوبائی ڈاکٹر وطن واپسی کے لیے پرواز کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ (© Eraldo Peres/AP Images)

کیوبا کے ڈاکٹر اس کی ایک بڑی برآمد ہیں۔ کیوبا کی حکومت سالانہ11 ارب ڈالر صحت کے شعبہ میں کام کرنے والے  ان پیشہ ور افراد کی تنخواہوں سے حاصل کرتی ہے جو بیرون ملک میڈیکل مشنوں میں کام کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ کیوبا کی حکومت ڈاکٹروں کو منصفانہ تنخواہ دیتی، حال ہی میں اس نے برازیل کے صدر جیئر بولسانارو کی طرف سے ڈاکٹروں کو مناسب تنخواہوں کی ادئیگی کے مطالبے پر اپنے ڈاکٹروں کو برازیل سے واپس بلا لیا۔ ان میں سے آٹھ ڈاکٹروں نے جبری مشقت کے حوالے سے “پین امیریکن ہیلتھ آرگنائزیشن” [امریکی براعظموں کی صحت کی تنظیم] کے خلاف میامی میں قانونی مقدمہ دائر کیا ہے۔

4- اطلات تک محدود رسائی

People sitting on a curb outside their home looking at their cellphones (© Desmond Boylan/AP Images)
(© Desmond Boylan/AP Images)

کیوبا میں خود مختار میڈیا کا وجود صرف آن لائن ہے۔ درحقیقت کیوبا کے زیادہ تر لوگوں کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی ان کی قوت خرید سے باہر ہوتی ہے۔ کسی خاندان کے بیرونی ممالک میں رہنے والے افراد سے سکائپ پر بات چیت کے لیے 600 میگا بائٹ ڈیٹا پر ایک مزدور کی تنخواہ کا 25 فیصد خرچ آتا ہے۔ ریاست کے منظور شدہ  اور سنسر شدہ انٹرنیٹ پر “ڈومینز” کے استعمال کے لیے صارفین کو 300 میگا بائٹس کا “بونس” ملتا ہے۔ یہ سرکاری انٹرنیٹ عالمی انٹرنیٹ کی نسبت سستا اور آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔

5- آرٹ پر سنسرشپ

Man playing guitar on the sidewalk in front of a colored mural (© Desmond Boylan/AP Images)
(© Desmond Boylan/AP Images)

اپنے تخلیقی کارناموں کی وجہ سے دنیا بھر میں سراہے جانے والے کیوبا کے موسیقاروں، رقاصوں اور رقاصاؤں، فنکاروں اور لکھاریوں کو دفعہ 349 کی ذلت کا سامنا ہے۔ اس دفعہ کے تحت انہیں اپنے فن کے مظاہرے، فن پاروں کی فروخت اور نمائش کے لیے حکومت سے اجازت لینا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر انہیں برے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔