عالمی وباء کے ایام میں کیوبا نے طبی پیشہ ور افراد کی کمی کا سامنے کرنے والے ممالک میں اپنے طبی مشنوں کو ایک بار پھر فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔ گو کہ یہ ممالک مدد کے لیے پریشان ہیں مگر اُن حکومتوں کو علم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہیں۔

60 سے زائد ممالک میں کیوبا کے 34,000 سے 50,000 تک طبی کارکنوں کو ہتک آمیز حالات کا سامنا ایک حقیقت ہے۔ کیوبائی حکومت کے مطابق وہ طبی مشنوں سمیت ہر سال طب کے شعبے سے متعلق پیشہ ورانہ خدمات کی برآمد سے لگ بھگ سات ارب ڈالر کماتی ہے۔ یہ مدد نہیں بلکہ کیوبا کی حکومت کا ایک منافع بخش دھندہ ہے اورحکومت کا پیسہ کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

مریض کے سامنے مادورو کی حمایت والا کاغذ پکڑے ہوئے ایک ڈاکٹر کی تصویر۔ (D. Thompson/State Dept.)
(D. Thompson/State Dept.)

محکمہ خارجہ میں کیوبا اور وینیز ویلا کی اسسٹنٹ سیکرٹری کیری فلپیٹی نے کہا، "میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کیوبا کے طبی مشن … کی حیثیت ایک ایسے نظام کی ہے جس کے ذریعے کیوبا کی حکومت بیک وقت اپنے ہی لوگوں کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی اور محنت کشوں کے حقوق کے معیاروں کی خلاف ورزی کرتی ہے اور پوری دنیا میں سیاسی اور معاشرتی نا اتفاقی کے بیج بوتی ہے۔” انہوں نے یہ بات امریکی ریاستوں کی تنظیم کی میزبانی میں دسمبر 2019 میں ہونے والی کمیونزم کا شکار ہونے والوں کی یادگاری فاؤنڈیشن کی ایک تقریب میں کہی۔

فلپیٹی نے کہا کہ فرار ہونے والے کیوبا کے ڈاکٹروں کی گواہیوں کے مطابق دباؤ میں آ کر بہت سے کیوبائی ڈاکٹر غیر ملکی ایجنٹوں کی حیثیت سے دوہرا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ تشدد بھڑکاتے ہیں اور اپنے آپ کو سیاسی دھونس دھاندلیوں میں ملوث کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کیوبا کے ڈاکٹروں نے:

  • وینیز ویلا کے مریضوں کو مادورو کو ووٹ نہ دینے کی صورت میں علاج نہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔
  • بولیویا میں پرتشدد مظاہرے بھڑکانے میں حصہ لیا۔
  • مادورو حکومت کے سیاسی اور معاشی فائدے کے لیے جھوٹے اعداد و شمار تیار کیے۔

فلپیٹی نے کہا کہ اسی وجہ سے دیگر ممالک کے علاوہ برازیل، بولیویا اور ایکویڈور نے کیوبا کے ڈاکٹروں کا استعمال بند کر دیا ہے۔

فرار ہو کر آنے والے ڈاکٹروں میں سے کچھ ڈآکٹروں نے شاہدین کے طور پر جو گواہیاں دی ہیں اُن میں پروگرام چھوڑنے والے ڈاکٹروں کے خلاف دھمکیاں، اجرت کی عدم ادائیگیاں، محدود نقل و حرکت اور پاسپورٹوں کی ضبطگیاں شامل ہیں۔ محکمہ خارجہ کے اُن اعداد و شمار کے مطابق، جن کی ڈاکٹر خود بھی تصدیق کر چکے ہیں عام طور پر کیوبا کی حکومت ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں سے 75 تا 90 فیصد رقم اپنی جیب میں ڈال لیتی ہے۔ کیوبا کے صحت کے کارکنوں کی طرف سے 2018ء میں دائر کیے جانے والے ایک اجتماعی مقدمے میں یہ الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ سخت قسم کی معاشی، ذاتی اور قانونی انتقامی کاروائیوں کے تحت کام کرتے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے مغربی نصف کرے کے بیورو کے ایک اہل کار کے خیال میں اگر کوئی ملک کیوبائی ڈاکٹروں کو اپنے ہاں بلانا چاہتا ہے تو وہاں کی حکومت کو چاہیے کہ وہ چند ایک سادہ سے سوال پوچھے۔ جیسے کیا ڈاکٹروں کو تنخواہوں کی ادائیگیاں براہ راست کی جاتی ہیں؟ کیا اُن کی تنخواہیں ضبط کر لی جاتی ہیں؟ کیا ڈاکٹروں کو اپنے پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے کی ضمانت دی جاتی ہے؟ کیا اُنہیں سفر کرنے کی آزادی ہوتی ہے؟ کیا اُن کے اہل خانہ انہیں ملنے آ سکتے ہیں؟ ڈاکٹروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام سمجھوتے شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کو اِن تک رسائی ہونا چاہیے۔

ایک عورت کا تصویری خاکہ جس میں وہ ڈاکٹر کو پیسے دے رہی ہے اور ایک بندوق بردار فوجی اُسے دیکھ رہا ہے۔ (D. Thompson/State Dept.)
(D. Thompson/State Dept.)

میزبان ممالک کی حکومتوں کو اصرار کرنا چاہیے کہ کیوبا کے طبی کارکنوں کے لئے ادا کی جانے والی رقومات حکومت کی تجوریاں بھرنے کی بجائے براہ راست کیوبا کے طبی شعبے میں کام کرنے والے افراد کو ادا کی جائیں۔

میزبان حکومتیں کیوبا کے متنازعہ پروگرام کے بارے میں پائے جانے والے خدشات میں سے کچھ کو عوامی طبی امداد کے تمام تر انتظامات کی شرائط پہلے سے طے کرکے دور کرنے میں بھی مدد کرسکتی ہیں۔

میزبان ممالک کو یہ مطالبہ بھی کرنا چاہیے کہ کیوبا کے ڈاکٹر مقامی طبی تعلیمی معیاروں پر پورا اتریں۔ کیا کیوبا کی ڈاکٹروں کی تعلیمی قابلیت مقامی ڈاکٹروں کے برابر ہے؟

آخر میں، محکمہ خارجہ کے مطابق کیوبا کی حکومت اپنے ڈاکٹروں کو میزبان ممالک کے ڈآکٹروں کی تنخواہوں کی ڈاکٹروں کا عشر عشیر ادا کرتی ہے جس کے نتیجے میں متعلقہ ممالک کے اپنے ڈاکٹروں اور نرسوں کو بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محکمہ خارجہ کا سوال ہے کہ مقامی معالجین اور طبی شعبے کے دیگر افراد کو صاف ستھری آمدنی کمانے اور اپنے ہموطنوں کی مدد کرنے کے مواقع کیوں نہیں دییے جاتے۔

طبی کارکن ایک قیمتی سرمایہ ہیں- آج پہلے سے کہیں زیادہ، ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جانا چاہیے۔