گندم کی عالمی رسد کے تحفظ کی خاطر امریکہ اور برازیل کا تعاون

دنیا بھر میں گندم کے کسانوں میں پایا جانے والا ایک خوف مشترک ہے:”وہیٹ بلاسٹ” نامی [گندم کو لگنے والی پھپھوندی] کی بیماری سے تباہ ہونے والی فصلیں۔ فصلوں کو لگنے والی پھپھوندی کی یہ بیماری سب سے پہلے 1985ء میں برازیل میں دیکھنے میں آئی۔ 2009ء میں اس بیماری سے برازیل کی گندم کی ایک تہائی فصل تباہ ہوگئی۔ اب یہ بیماری پھیل رہی ہے۔

امریکہ کے محکمہ زراعت کی مالی مدد سے کینسس سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین برازیل کی پاسو فنڈو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر وہیٹ بلاسٹ کا کھوج لگانے اور اس کے پھیلنے کو روکنے کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔

کینسس سٹیٹ یونیورسٹی میں وہیٹ بلاسٹ بیماری کی ماہر، باربرا ویلنٹ کہتی ہیں، “وہیٹ بلاسٹ دنیا میں گندم کی پیداوار کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”

وییلنٹ نے بتایا کہ یہ بیماری ہوا اور بارشوں کی وجہ سے ایک کھیت سے دوسرے کھیت تک تیزی سے پہنچتی ہے اور یہ بھیگے موسم میں پھیلتی ہے۔ کینسس میں ویلنٹ کی تجربہ گاہ میں ایک ایسی جین کی نشاندہی ہوئی ہے جو اس بیماری کی جزوی طور پر مزاحمت کرتی ہے۔

ٹوئٹر کا ترجمہ: دنیا بھر میں#گندم کے کھیتوں کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے#کےیو اور برازیل کے

محققین نے ایک ایپ تیار کیا ہے۔  یہ ایپ وہیٹ بلاسٹ اور فصلوں کی دیگر بیماریوں پر

نظر رکھے گا۔ #AgTech http://ow.ly/TMwl30n9bv0

امریکہ اور برازیل کے سائنس دانوں نے فصلوں کی بیماریوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک ایپ تیار کیا ہے ۔ ۔ ۔

پاسو فنڈو (یو پی ایف) ایمبراپا اور کینسس یونیورسٹی ( کےیو) نے مل کر کام ۔ ۔ ۔

ویلنٹ بتاتی ہیں کہ یہ بیماری 2016ء میں بنگلہ دیش میں پھیلی اور اب یہ برازیل، پیراگوئے، بولیویا اور جنوبی ارجنٹینا میں پائی جاتی ہے۔ وہ اس بات پر فکرمند ہیں کہ یہ بیماری خوراک کے لیے درآمد کیے جانے والے اناج کی طرح بیجوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔

کسانوں کی مدد لینا

ویلنٹ، پاسو فنڈو یونیورسٹی کے اس بیماری کی پیشین گوئی کرنے کے ماہر ماریسیو فرنینڈیز کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ بولیویا، پیراگوئے، میکسیکو اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھںے والے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے دنیا بھر کے کسانوں سے مدد لینے کی خاطر اِن دونوں نے ایک ایپ تیار کیا ہے۔

ویلنٹ نے تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا، “یہ ایپ اُن علاقوں کے کسانوں سے رابطہ میں رہتا ہے جہاں یہ بیماری آتی ہے۔ اس کا ایک مقصد اُس وقت خطرے کی اطلاع کرنا بھی ہوتا ہے جب اُن کو اپنے کھیتوں میں اِس بیماری کا علم ہوتا ہے۔ اس سے اس چیز کا ریکارڈ رکھنے کی سہولت بھی میسر آتی ہے کہ یہ بیماری کب اور کہاں سے شروع ہوئی۔”

ویلنٹ کہتی ہیں، “جتنی جلدی ہم اس کا پتہ چلائیں گے اتنے بہتر طریقے سے ہم اس پر قابو پا سکتے ہیں۔”