گوائیڈو کے معاون اعلٰی کی گرفتاری کے بعد امریکہ کی وینیز ویلا کے بنک پر پابندیاں

People in a crowd clapping (© Fernando Llano/AP Images)
پیشے کے لحاظ سے وکیل، روبرٹو ماریرو، درمیان میں، عبوری صدر خوان گوائیڈو کے معاونِ اعلٰی ہیں۔ انہیں وینیز ویلا کی سکیورٹی فورسز نے اُن کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا۔ (© Fernando Llano/AP Images)

امریکہ کے محکمہ خزانہ نے وینیز ویلا کے نام و نہاد قومی ترقیاتی بنک پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ یہ پابندیاں قائم مقام صدر گوائیڈو کے عملے کے معاونِ اعلٰی روبرٹو ماریرو کی گرفتاری کے بعد لگائی گئی ہیں۔

ہسپانوی زبان میں اس بنک کا نام "بانکو دیسارولو اکنامیکو ای سوسیال دو وینیز ویلا (بی اے این ڈی ای ایس) ہے۔ اس بنک اور جن چار ذیلی اداروں پر امریکہ کے محکمہ خزانہ نے پابندیاں لگائی ہیں وائٹ ہاؤس کے 22 مارچ کے ایک بیان کے مطابق "انہیں مادورو اور اس کی حکومت نے امریکی پابندیوں سے بچنے اور وینیز ویلا سے پیسے باہر منتقل کرنے کی خاطر چھپا کر رکھے گئے فنڈز کو استعمال کیا۔”

وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے کہا کہ نکولس مادورو اور اُس کے کارندوں نے اقتدار سے چمٹے رہنے کی بھرپور کوشش میں اقتصادی اور سماجی بہبود میں مدد کی خاطرقائم کیے گئے اس بنک کے اصل مقصد سے روگردانی کی۔

ماریرو کو سابقہ صدر مادورو کی سکیورٹی سروسز نے21 مارچ گرفتار کیا۔

ٹوئٹر کا ترجمہ: – امریکہ مادورو کی سکیورٹی سروسز کی جانب سے مارے جانے والے چھاپوں اور قائم مقام صدر @گوائیڈو کے چیف آف سٹاف روبرٹو ماریرو کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے۔ ہم اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جو اس میں ملوث ہیں ہم انہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔

منوچن نے کہا، "حکومت کی جانب سے وینیز ویلا کے شہریوں کو مسلسل اغو، تشدد، اور قتل کیے جانے کو امریکہ یا صدر گوائیڈو کی پشت پر متحدہ طور پر کھڑا بین الاقوامی اتحاد برداشت نہیں کرے گا۔ روبرٹو ماریرو اور دیگر سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔”