فلم کے اولین ایام سے ہی ہالی وڈ دنیا بھر کے باصلاحیت فلمی کہانی نویسوں، ہدایت کاروں اور پیش کار افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ سینما کے شعبے میں بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے چند اُن جدت طرازوں سے ملیے جنہوں نے متحرک فلمیں بنانے والے دنیا کے پہلے شہر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

بلی وائلڈر

Billy Wilder sitting on couch with a cigarette (© AP Images)
آسٹریا میں پیدا ہونے والے ڈائریکٹر، بلی وائلڈر ہالی وڈ میں۔ (© AP Images)

بلی وائلڈر 1906 میں آسٹریا ہنگری (آج پولینڈ) کے علاقے سُوچا بسکیجکا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے فلمی  کیریئر کا آغاز برلن میں فلمی منظرنگار کی حیثیت سے کیا۔ 1933 میں وہ ہالی وڈ منتقل ہو گئے اور انتہائی باصلاحیت اور جرات مند فلم ساز بنے۔ وائلڈر نے ہالی وڈ میں بہترین مزاحیہ فلمیں لکھنے، بنانے اور ان کی ہدایت کاری پر یادگار شہرت پائی۔ ان میں ‘دی سیون ایئر اِچ’ (1955) اور ‘ سم لائیک اِٹ ہاٹ‘ (1959) جیسی فلمیں شامل ہیں جن میں عظیم فلمی اداکارہ مارلن منرو نے کام کیا۔ 1960 میں وہ ایک ہی فلم میں تین بڑے زمروں یعنی بہترین ہدایت کار، پیش کار اور منظرنگار کی حیثیت سے اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والے پہلے شخص بن گئے۔ یہ فلم ‘ دا اپارٹمنٹ‘ تھی۔

الفریڈ ہچکاک

Alfred Hitchcock standing outside (© AP Images)
الفریڈ ہچکاک (1899 تا 1980 ) 1964 میں ہالی وڈ، کیلی فورنیا میں۔ (© AP Images)

”سسپنس یعنی بے یقینی پیدا کرنے کے ماہر” کے طور پر مشہور، الفریڈ ہچکاک نے 53 فیچر فلموں کی ہدایت کاری کی۔ ان کا کیریئر 1920 کی دہائی میں خاموش فلموں سے شروع ہوا جو 1970 کی دہائی تک جاری رہا۔ ہچکاک 1940 میں پراسرار فلم ‘ ریبیکا‘ کی ہدایت کاری کے لیے اپنے آبائی ملک انگلینڈ سے ہالی وڈ منتقل ہوئے۔ ریبیکا نے بہترین فلم کا اکیڈمی ایوارڈ جیتا۔ بعد ازاں انہوں نے نفسیاتی موضوعات پر ہیجان خیز فلمیں بنانا جاری رکھیں جن کا شمار ہر دور میں عظیم ترین فلموں میں ہوتا رہا ہے۔ ان میں ‘ ریئر ونڈو‘ (1954)،’  ورٹیگو ‘(1958) اور ‘سائیکو‘ (1960) جیسی فلمیں شامل ہیں۔

ایڈا لوپینو

Ida Lupino (© AP Images)
لندن میں پیدا ہونے والی اداکارہ اور ڈائریکٹر، ایڈا لوپینو بیورلے ہلز، کیلی فورنیا میں۔ (© AP Images)

ایڈا لوپینو 1918 میں لندن میں شو بزنس سے تعلق رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئیں اور جب انہوں نے پہلی فلم میں کام کیا تو ان کی عمر 13 برس تھی۔ 1934 میں وہ ہالی وڈ آئیں اور درجنوں فلموں میں کام کیا جن میں 1941 میں بے حد پسند کی جانے والی مغربی فلم ‘ ہائی سیئرا‘ بھی شامل ہے۔ لوپینو 1950 کی دہائی میں ہالی وڈ کی پہلی خاتون ہدایت کار اور پیش کار کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ ان چند خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے مردوں کی بالادستی والی فلمی صنعت میں کامیابیاں حاصل کیں۔ 1950 سے 1970 کی دہائیوں تک لوپینو نے ہالی وڈ میں بنائے جانے والے بہت سے ٹیلی ویژن شوز کی بھی ہدایت کاری کی۔

آنگ لی

Ang Lee (© Chiang Ying-ying/AP Images)
2016 میں تائی پے، تائیوان میں اپنی فلم “بلی لنز لونگ ہاف ٹائم واک” کی مشہوری کے لیے آئے فلم ڈائریکٹر، آنگ لی میڈیا کی ایک تقریب میں مسکرا رہے ہیں۔ (© Chiang Ying-ying/AP Images)

آنگ لی کا شمار عصر حاضر کے ہالی وڈ کے عظیم ترین فلمسازوں میں ہوتا ہے۔ تائیوان میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے آنگ لی 1975 میں یونیورسٹی آف ایلا نوئے میں تھیٹر کی تعلیم حاصل کرنے امریکہ آئے۔ اس کے بعد انہوں نے نیویارک یونیورسٹی میں فلم پروڈکشن میں گریجوایٹ ڈگری حاصل کی۔ ہالی وڈ میں انہوں نے جذباتی شدت کی حامل فلموں کے حوالے سے اپنی پہچان بنائی۔ اِن کی فللمیں اپنے موضوع اور صنف میں بہت زیادہ متنوع ہوتی ہیں اور چینی اور امریکی دونوں ناظرین کے لیے دلچسپی کا موجب بنتی ہیں۔ لی نے 2006 میں فلم ‘ بروک بیک ماؤنٹین‘ کے لیے بہترین ہدایت کار کا اکیڈمی ایوارڈ حاصل کیا اور آسکر جیتنے والے پہلے ایشیائی بنے۔ بعد ازاں 2013 میں انہوں نے فلم ‘ لائف آف پائی‘ کے لیے بہترین ہدایت کار کا دوسرا اکیڈمی ایوارڈ بھی جیتا۔