(State Dept./Ron Przysucha)
24 ستمبر کو نیو یارک میں نائب وزیر خارجہ جان سلیون "شنجیانگ میں انسانی حقوق کے بحران" کے موضوع پر ہونے والی ایک تقریب کی مشترکہ میزبانی کر رہے ہیں۔ (State Dept./Ron Przysucha)

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان سلیون نے دنیا کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ چینی صوبے شنجیانگ کے لوگوں کے  ساتھ ظالمانہ، غیرانسانی اور تذلیل آمیز سلوک بند کرنے کے لیے چین پر دباؤ ڈالنے میں امریکہ کا ساتھ دیں۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 24 ستمبر کو پینل کی شکل میں ہونے والے ایک مباحثے کے شریک میزبان کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے سلیون نے کہا، ”چینی حکومت کے ہاتھوں بہت سے لوگ مصائب کا شکار ہو چکے ہیں۔”

سلیون نے کہا، ”پینل چین کی جانب سے شنجیانگ میں ویغور، قازق اور کرغیز النسل اور دیگر مسلمان اقلیتی گروہوں کے خلاف جبر کی ظالمانہ مہم کے معاملے میں سچائی کو افسانے سے علیحدہ کرے گا۔”

یہ مباحثہ امریکہ، کینیڈا، جرمنی، ہالینڈ اور برطانیہ کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ دنیا کے تمام خطوں سے 33 وفود نے اس مباحثے میں شرکت کی جن میں مسلم اکثریتی ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔

Side-by-side photos of a lone woman facing uniformed men, men patrolling a street and two grieving women in a crowd (© Ng Han Guan/AP Images)
ایک ویغور عورت پیرا ملٹری پولیس کے سامنے احتجاج کر رہی ہے، ہوتان شہر کے بازار کے باہر کے علاقے میں مسلح افراد گشت کر رہے ہیں، اور ویغور عورتیں حکومت کے زیرحراست اپنے مردوں کے لیے رونا دھونا کر رہی ہیں۔ (© Ng Han Guan/AP Images)

اپریل 2017 سے لے کر اب تک چین ترک نسل کے 10 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو شنجیانگ کے حراستی کیمپوں میں قید کر چکا ہے۔ ان کیمپوں میں قیدیوں کی اموات، ان سے جبری مشقت لینے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ چینی حکومت ان کیمپوں میں قیدیوں کو اپنی نسلی شناختیں، ثقافت اور مذہب ترک کرنے پر مجبور کرتی  ہے۔

چینی حکومت کے پروپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے سلیون نے اس تصور کو مسترد کیا کہ شنجیانگ میں یہ کیمپ فنی تربیت کے مراکز ہیں۔ سلیون نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا، ”ان کیمپوں میں رکھے گئے قیدیوں میں کامیاب میڈیکل ڈاکٹر، ماہرینِ علم، کامیاب کاروباری لوگ اور دیگر پیشہ وارانہ افراد کے علاوہ چھوٹے بچے اور معمر لوگ بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں، پروفیسروں اور بچوں کو نوکری کی خاطر تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔”

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ

محکمہ خارجہ

نائب وزیر خارجہ جان سلیون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا: چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو اُن کے مذہبی آزادی کے لازوال حق کو استعمال کرنے سے روکنے کی مہم چلا رکھی ہے۔

اس موقع پر چین کی ظالمانہ کارروائی کا نشانہ بننے والے تین ویغور باشندوں نے خود پر ہوئے تشدد اور بدسلوکی کی داستانیں سنائی:

  • زمرد داؤد کا شمار ان کیمپوں میں جبر کا سامنا کرنے والے لوگوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھوں تشدد اور بدسلوکی کا احوال بیان کیا۔
  • ڈاکٹر رشاط عباس نے بتایا کہ چینی حکومت نے ان کی بہن ڈاکٹر گلشن عباس کو کیسے گرفتار کیا تا کہ بیرون ملک ویغور باشندوں کے حقوق کی بات کرنے پر ان کے خاندان کو سزا دی جا سکے۔
  • نوری ترکل ”ویغور انسانی حقوق کے منصوبے” کے ڈائریکٹروں کے بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے چینی جبر کا نشانہ بننے والے اپنے خاندان کا احوال بتایا اور جبری شادیوں نیز بڑے پیمانے پر نگرانی سمیت شنجیانگ میں جاری مظالم پر بات کی۔

اس موقع پر سلیون نے کہا، ”ایسے میں جب مظالم کا شکار ہونے والا  ایک کے بعد ایک فرد جبر کی ہولناک داستانیں سنا رہا ہے تو یہ اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک کی اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں۔”