ہم سفارتی کاری کا کٹھن کام کر رہے ہيں – پومپيو

وزير خارجہ پومپيو خطاب کر رہے ہيں (© Patrick Semansky/AP Images)
اکتوبر 22 کو واشنگٹن ميں وزير خارجہ مائيک پومپيو ہيريٹيج فاؤنڈيشن ميں خطاب کر رہے ہيں۔ (© Patrick Semansky/AP Images)

امريکی وزير خارجہ مائيکل آر پومپيو کے مطابق امريکی سفارت کاری بدستور دوسرے ممالک کو متاثر کر رہی ہے، خاص طور پر جب امريکی حکومت انسانی حقوق کی پامالی کے ضمن ميں ممالک کا احتساب کرتی ہے۔

اکتوبر 22 کو ہيريٹج فاؤنڈيشن سے خطاب کے دوران پومپيو نے کہا کہ "ميرا پختہ يقين ہے کہ چونکہ ہم سفارت کاری کا يہ کٹھن کام کر رہے ہيں، ہمارے بہت سے دوستوں اور اتحاديوں نے دنيا کو نئ نظروں سے ديکھنا شروع کر ديا ہے”۔

چھوٹی اور بڑی اقوام کے ساتھ بامعنی کثير الجہتی تعلقات کے قيام کے نتيجے ميں دنيا بھر ميں کامياب کہانياں سامنے آئ ہيں، جيسے کہ درج ذيل مثاليں

 وزير خارجہ پومپيو کی تصوير کے ساتھ چين کے بارے ميں ان کا بيان (State Dept./Photo © Patrick Semansky/AP Images)
(State Dept.)

امريکی وزير خارجہ نے زور ديا کہ امريکہ دوسرے ممالک کے ساتھ کام کرنے کے ليے پرعزم ہے تا کہ "دنيا بھر ميں سيکورٹی کے حصول کے ليے ان عالمی اہداف کے حصول کے ضمن ميں ذمہ داری کا بوجھ بانٹ سکے”، خاص طور پر ايران کے معاملے ميں۔ پومپيو نے کہا کہ "سينکڑوں کی تعداد ميں نجی کمپنياں ہماری لگائ گئ پابنديوں ميں ہمارا ساتھ دے رہی ہيں۔ دنيا بھی يہ سيکھ رہی ہے کہ ايران پر التجا کا نہيں بلکہ قوت کا اثر ہوتا ہے۔”

بيرونی ممالک ميں اس گفتگو کا نتيجہ؟ ہر جگہ ہر کسی کے ليے مزيد آزادی۔

پومپيو نے کہا کہ "امريکہ کے اندر يہ جو ہميں آزادی حاصل ہے يہ اہم اور طاقتور ہے اور دنيا بھر ميں يہ اقوام کے ليے راہ متعين کرتی ہے”۔