ہوشیاری سے کام لیجیے: فائیو جی نیٹ ورکس میں’ کور ‘بمقابلہ’ ایج ‘[ تصویری خاکہ]

ففتھ جنریشن وائرلیس ٹیکنالوجی جسے عام طور پر فائیو جی کہا جاتا ہے، موجودہ فور جی نیٹ ورک کی کارکردگیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار ہوگی۔ سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ جیسے آلات کی بات ہو تو اس ٹیکنالوجی کی بدولت بلند تر بینڈ وڈتھ  پر ویڈیوز چلائی جا سکیں گی۔ اسی طرح فائلیں اور زیادہ تیز رفتاری سے بھجوائی جا سکیں گی۔

تاہم ٹیکنالوجی میں اس ترقی سے ڈیٹا کو پراسیس یعنی استعمال کرنے کے عمل کا طریقہ کار بڑی حد تک تبدیل ہو جائے گا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں سکیورٹی سے متعلق خدشات پیدا ہوں گے۔ فور جی ٹیکنالوجی میں نیٹ ورک کا مرکزی حصہ سسٹم کا ”کور” ہوتا تھا جو کمپیوٹروں کے ذریعے تمام ڈیٹا منتخب کرتا تھا اور اسے پراسیس کرتا تھا۔ جب تک ”کور” کی حفاظت کی جاتی تھی اس وقت تک آپ کا ڈیٹا بھی محفوظ رہتا تھا۔ فور جی ٹیکنالوجی میں  ٹاور اور اینٹینا کے بغیر نیٹ ورک کا ”ایج” بڑی حد تک کور کے ڈیٹا پراسیسنگ سے علیحدہ ہوتا تھا۔

فائیو جی ٹیکنالوجی اس سے مختلف ہے۔

فائیو جی کے معاملے میں ڈیٹا پراسیس کرنے کی طاقت لوگوں اور ان کے آلات کے قریب تر ہو گی۔ نیٹ ورک کے تمام حصوں میں پراسیسنگ پاور بڑھانے سے فائیو جی نیٹ ورک کی رفتار تیزتر ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اب ”نیٹ ورک کا ایج” موجود  نہیں ہو گا اور پورے نیٹ ورک کو اتنا ہی تحفظ درکار ہو گا جتنا تحفظ آج فور جی ٹیکنالوجی کے ساتھ کور کو درکار ہوتا ہے۔

سائبر ٹیکنالوجی کے امریکی سفارت کار رابرٹ سٹریئر کہتے ہیں، ”ضروری اور غیرضروری عناصر کے مابین تحفظ کے درمیان وہ امتیاز ختم ہو جائے گا جو پہلے موجود ہوا کرتا تھا۔ فائیو جی نیٹ ورکس میں آپ ناقابل اعتماد چیزوں کو ”ایج” میں ڈال کر ان سے خطرات میں کمی نہیں لا سکتے کیونکہ ایج اور کور میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔”

Infographic with cityscapes and text comparing 4G and 5G networks (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)
(State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

مربوط فائیو جی نیٹ ورک ناصرف ڈیٹا کے بہت بڑے بہاؤ کو کنٹرول کرے گا بلکہ ضروری ایپلی کیشنز جیسا کہ  خودکار گاڑیوں اور ٹیلی میڈیسن میں بھی معاونت کرے گا جس سے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اسی لیے امریکہ کو شروع  سے ہی فائیو جی کے بارے تشویش لاحق ہے۔ ناقابل بھروسہ ملک یا کردار صرف غیرمحفوظ کور کے ذریعے ہی نہیں بلکہ دیگر بہت سے مقامات سے فائیو جی نظام تک رسائی حاصل سکتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب فائیو جی نیٹ ورک کے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ملک سکیورٹی کے معیارات طے کرنے کے لیے اکٹلھے ہو رہے ہیں امریکہ اس امر پر دلائل دے رہا ہے کہ فائیو جی ٹکنالوجی میں ہونے والی پیشرفتیں کور اور ایج میں فرق کو بے معنی بنا کر رکھ دیں گیں۔