ہولوکاسٹ سے بچ جانے والوں کی اولاد، امریکی سفیر مشیل ٹیلر

ایک پرانی تصویر میں تین بچے (Courtesy of Ambassador Michèle Taylor)
سفیر ٹیلر کی والدہ، انتہائی دائیں طرف، ہنی سوسی ٹرنکا، ہولوکاسٹ سے زندہ بچ جانے والوں میں شامل تھیں۔ اسی طرح اُن کی والدہ کے کزن، لوئیس لیز گرون (بائیں طرف) بھی زندہ بچ گئے اور اُنہیں 5 سال کی عمر میں "کنڈر ٹرانسپورٹ" کے تحت اکیلے لندن بھیج دیا گیا تھا۔ ان کی والدہ کے کزن ہربرٹ گرون (درمیان میں) اتنے خوش قسمت ثابت نہ ہوئے اور نازیوں نے انہیں 1942 میں 12 برس کی عمر میں ریگا میں قتل کر دیا- (Courtesy of Ambassador Michèle Taylor)

ہولوکاسٹ کی یاد کا دن 28 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ ہولوکاسٹ کے دوران اس دن نازیوں اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں مارے گئے 6 ملین یہودیوں اور لاکھوں دیگر متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اِس دن زندہ بچ جانے والوں اور اِن کی اولادوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے جو عوامی خدمت کے ذریعے اُن کے ورثے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

سفیر مشیل ٹیلر ہولوکاسٹ سے زندہ بچ جانے والوں کی بیٹی اور پوتی ہیں۔ انہوں نے فروری میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں امریکہ کی مستقل مندوب کی حیثیت سے اپنی تعیناتی کی مدت کا آغاز کیا۔ اس حیثیت میں وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتی ہیں اور تعصب کا مقابلہ کرتی ہیں۔

ٹیلر کے خاندان نے تعصب کا ذاتی طور پر سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 1938 میں ویانا میں ‘ کرسٹل ناخٹ’ پر نازی اُن کے نانا کی تلاش میں آئے۔ “شکر ہے کہ میرے خاندان کو پہلے سے خبردار کر دیا گیا تھا اس لیے میرے نانا چھپ گئے اور یقینی موت سے بچ گئے۔ حالانکہ میری نانی کو دھمکی دی گئی تھی کہ جب تک وہ مل نہیں جاتے وہ [نازی] انہیں ڈھونڈنے کے لیے واپس آتے رہیں گے۔”

 چھوٹے بچے کا داغدار لباس (Courtesy of Ambassador Michèle Taylor)
سفیر ٹیلر کی والدہ کا لباس جس پر خون کے چھینٹے نظر آ رہے ہیں۔ ٹیلر کا خیال ہے کہ اُن کی والدہ نے اُس وقت یہ لباس پہنا ہوا تھا جب خاندان کے کسی فرد کو گولی ماری گئی تھی اور ان کے والدین نے اس لباس کو ثبوت کے طور پر رکھ لیا تھا۔ وہ اسے امریکہ کے ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں تجزیے کے لیے بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ (Courtesy of Ambassador Michèle Taylor)

ٹیلر نے کہا کہ اُس رات وہاں پر تشدد ہوا اور اس کے بعد ان کی والدہ جو اُس وقت تین برس کی تھیں، اپنے سامنے خاندان کے ایک فرد کو گولی مارے جانے کی یادوں کی وجہ سے خوفزدہ رہنے لگیں۔ ٹیلر کا خیال ہے کہ آخر کار اُن کی نانی اُن کے نانا کے ساتھ جا چھپیں جبکہ ان کی والدہ کو حفاظت کے لیے کہیں اور لے جایا گیا۔ انہوں نے کہا، “مگر بہت سے دوسرے خاندانوں کی طرح میں بھی شاید اُن بہادر لوگوں کو کبھی بھی نہیں جان سکوں گی جنہوں نے انہیں چھپائے رکھا اور یہ کہ وہ آخر کار ویزہ حاصل کرنے اور امریکہ ہجرت کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔” ٹیلر کی والدہ کے دادا دادی کو نازیوں نے ریگا میں قتل کر دیا تھا۔

یہ امر قابل فہم ہے کہ صدمے سے متاثر ہونے کی وجہ سے نہ تو اُن کے نانا نانی اور نہ ہی اُن کی والدہ نے کچھ بکھری ہوئی تفصیلات کے علاوہ اپنے تجربات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ ٹیلر نے کہا کہ میں نے اُن سے صرف اپنے دور پار کے رشتہ داروں کے بارے میں کہانیاں سنیں کہ اُن پر کیا بیتی۔

 ایک چھوٹی بچی بحری جہاز کے عرشے پر قریب ہی بیٹھے اپنے والدین کے پاس کھڑی ہے (Courtesy of Ambassador Michèle Taylor)
سفیر ٹیلر کی والدہ، ہین سوسی ٹرنکا (بعد میں سوسی ہین نکولس)، وسط میں، اور ا ن کی نانی نانا ایڈتھ اور لیو، 1939 میں امریکہ جانے والے جہاز پر۔ اس وقت سفیر ٹیلر کی والدہ کی عمر 4 برس تھی۔ (Courtesy of Ambassador Michèle Taylor)

“میرے نانا نانی اچھے اور مہربان لوگ تھے جنہوں نے اپنی برادریوں کو بہت کچھ دیا۔ مگر وہ واضح طور پر اداس اور انتہائی محتاط بھی تھے (میں اپنے نانا کو ‘نانا جی احتیاط کیجیے’ کہا کرتی تھی)۔ میں پرانی تصاویر میں دیکھ سکتی ہوں کہ وہ کبھی خوش اور بہادر لوگ ہوا کرتے تھے۔ میری والدہ درحقیقت تباہ کن طور پر اندر سے ٹوٹ چکی تھیں اور وہ صحیح طریقے سے کبھی بھی میرا یا اپنا خیال رکھنے کے قابل نہ ہو سکیں۔”

جب ٹیلر 12 سال کی تھیں اور سان فرانسسکو کے بے ایریا میں رہا کرتی تھیں تو سان فرانسسکو کے ہاروی مِلک نامی اپنے آپ کو کھلے عام ہم جنس پرست کہنے والے سیاست دان کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی بدامنی نے سان فرانسسکو میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، “میں سمجھ گئی تھی کہ لوگوں کے کسی بھی گروپ کا دقیانوسی سوچ اختیار کرنا اُس سے مختلف نہیں ہوتا جو کچھ میرے خاندان کے ساتھ ہوا تھا اور میں جانتی تھی کہ یہ [ہمیں] کہاں لے جا سکتا ہے۔”

اس وقت ٹیلر نے نفرت اور تعصب کے خلاف لڑنے کے لیے وہ کچھ کرنے کا ذاتی عہد کیا جو کچھ وہ کر سکیں گیں۔ اُن کے کام نے بہت سی شکلیں اختیار کیں۔ اِن میں سائنس، ٹکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کی تعلیم میں خواتین کو آگے بڑھانے کی پرزور حمایت کرنا، خواتین کے خلاف تشدد کا مقابلہ کرنا، اور امریکی ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کے ذریعے جدید نسل کشی اور مظالم کی روک تھام، یہود دشمنی اور ہولوکاسٹ سے انکار سے نمٹنا شامل ہے۔

“لوگوں سے میری محبت، عوامی خدمت کی خواہش، اور ‘ تِکن اولم’ [دنیا کو ٹھیک کرنے کے یہودی حکم] کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کو یکجا کرنے کی صلاحیت، انسانی حقوق کی کونسل میں امریکی سفیر کے طور پر میرے خاندان کی میراث کی حقیقی سرپرستی کی طرح محسوس ہوتی ہے۔”

 مسکراتی ہوئی سفیر مشیل ٹیلر اور پس منظر میں جھنڈے (State Dept./Mark Schlachter)
سفیر مشیل ٹیلر (State Dept./Mark Schlachter)

اسی طرح محکمہ خارجہ کے دیگر ملازمین نے بھی عوامی خدمت کا انتخاب اپنے اُن رشتہ داروں کو موزوں طور پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کیا جو ہولوکاسٹ سے زندہ بچے یا اس سے متاثر ہوئے۔ اِن ملازمین نے حال ہی میں اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔

وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن بھی ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ایک شخص کے سوتیلے بیٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے سوتیلے والد کی “کہانی نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کہانی نے مجھے سکھایا کہ برائی ہماری دنیا میں بڑے پیمانے پر ہو سکتی ہے اور ہوتی بھی ہے اور یہ کہ ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔”

ایلن جرمین ہولوکاسٹ کے مسائل کے حوالے سے امریکہ کی خصوصی ایلچی کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اُن کا مشن ہے کہ وہ اس مدت [ہولوکاسٹ] کے دوران کھو جانے والے اثاثوں کو ان کے حقیقی مالکان کو لوٹائیں، نازی جرائم کے لیے زرتلافی حاصل کریں اور ہولوکاسٹ کے یاد رکھنے یقینی کو بنائیں۔

جرمین نے کہا، “سچی کہانی بتانا اور اُن نوجوان نسلوں کو بتانا بہت ہی ضروری ہے جن کا دوسری جنگ عظیم، ہولوکاسٹ سے کوئی ذاتی تعلق نہیں اور اُن کا زندہ بچ جانے والوں سے ملنے کا بالعموم زیادہ امکان بھی نہیں۔”