ہیلو ٹریکٹر: کسانوں کو بوقت ضرورت ٹریکٹر کے حصول میں مدد دینے والا ایپ

امریکی شہری جیہائل اولیور ‘جنونی ٹریکٹر والے’ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس شہرت کی وجہ افریقہ میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے  چھوٹے کسانوں کی زرعی آلات تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔

امریکی ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ تاجر، اولیور کا کہنا ہے کہ افریقہ میں ٹریکٹر عموماً حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں۔ افسرشاہی کے ملوث ہونے کے باعث اکثر اوقات چھوٹے کسانوں کو اپنے زرعی اہداف کے حصول کے لیے درکار ٹریکٹر دستیاب نہیں ہو پاتے۔

ہو سکتا ہے کہ افریقہ میں کسانوں کو ٹریکٹروں تک رسائی تو حاصل نہ ہو مگر اُن کے پاس موبائل فون ضرور موجود ہیں۔ 2016 میں جی ایس ایم ایسوسی ایشن نامی ایک تجارتی گروپ کے جائزے کے مطابق پورے براعظم میں 50 کروڑ سے زیادہ افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

اسی لیے اولیور نے ہیلو ٹریکٹر ایپ بنایا۔

ہیلو ٹریکٹر کیسے کام کرتا ہے: کسان بکنگ ایجنٹ کو موبائل فون پر پیغام بھیجتے ہیں جو قریب ترین مقام پر دستیاب  ٹریکٹر کے اوقات کار ترتیب دے کر اسے کاشت، نقل و حمل، فصل کی کٹائی یا دیگر مطلوبہ کاموں کے لیے بھیج دیتا ہے اور اسے قرب و جوار میں دیگر کسان بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ٹریکٹر 30 چھوٹے کھیتوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ہیلو ٹریکٹر ایپ چھوٹے فارموں کے باہمی رابطے و نقشہ کشی، کاشت کی جانے والی فصلوں کے حوالے سے اعدادوشمار کے حصول، کھادوں اور دیگر ضروریات کی ترسیل اور ٹریکٹروں کی مرمت کے لیے بھی کارآمد ہے۔

اولیور نے بتایا کہ چھوٹے ٹریکٹروں سے کسانوں کو مزید رقبہ زیرکاشت لانے اور روزگار پیدا کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ انہوں نے حساب لگایا ہے کہ ہر ٹریکٹر اندازاً 4.1 ملازمتیں پیدا کرتا ہے جن میں ٹریکٹر چلانے والے، ٹیکنیشن اور بکنگ ایجنٹ بھی شامل ہیں۔

مشرقی کلیولینڈ کے ایک پسماندہ علاقے میں پرورش پانے والے اولیور سوال کرتے ہیں کہ "آپ یہ بات کتنی وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ میں اپنے گاہکوں پر واقعتاً موثر اور مثبت اثرات مرتب کرتے ہوئے بہت سا پیسہ کما رہا ہوں۔” ان کی ‘ہیلو ٹریکٹر’ کمپنی  کا ہیڈکوارٹر واشنگٹن کے جنوب مشرقی علاقے میں ہے جہاں بےروزگاری اور غربت کی شرح شہر کے بقیہ حصوں کے مقابلے میں پہلے ہی کہیں زیادہ ہے۔

اولیور مواقع پیدا کرنے کی  تلاش میں رہتے ہیں۔ واشنگٹن میں چند لوگ ان کے ہاں ملازم ہیں جبکہ نائجیریا میں قریباً دو درجن کے قریب افراد ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ اولیور کہتے ہیں کہ "ہو سکتا ہے کہ کینسر کا علاج مشرقی کلیولینڈ میں کہیں موجود ہو جہاں میں پلا بڑھا ہوں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے اگلی نوجوان سائنس دان دیہی نائجیریا میں کہیں بیٹھی ہو۔”

ایک نیا نمونہ

Man pushing tractor over dirt (Courtesy of Hello Tractor)
ہیلو ٹریکٹر کسانوں اور ٹریکٹر آپریٹروں، دونوں کے لیے یکساں منافع کما رہا ہے۔ (Courtesy of Hello Tractor)

افریقہ میں گاہکوں پر توجہ مرکوز کرنا، ہیلو ٹریکٹر کو اپنا منفرد مقام بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ اولیور کا کہنا ہے کہ ‘کامیابی کے لیے آپ کو لوگوں کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔’ اس سے پہلے افریقہ میں کسانوں کو ایسی مصنوعات پر انحصار کرنا پڑتا تھا جو دوسری منڈیوں کے لیے تیار کی جاتی تھیں۔ اولیور کو امید ہے کہ وہ یہ پروگرام بنگلہ دیش، برما اور جنوب مشرقی ایشیا کے دوسرے حصوں تک بھی پھیلائیں گے۔

کاروباری لوگوں کے لیے مشورے

اولیور کہتے ہیں "شہ سرخیوں کے بجائے اپنے گاہکوں کی باتوں پر دھیان دیں۔” اُن کے مطابق ہیلو ٹریکٹر کو اس لیے کامیابی ملی کہ یہ کمپنی گاہکوں پر توجہ دیتی ہے۔ جب انہوں نے کام شروع کیا تو ان کے ادارے نے اپنے ٹریکٹر کا ماڈل خود تیار کیا۔ سرمایہ کاروں نے اسے بہت پسند کیا اور اِس کے ساتھ ساتھ  میڈیا نے بھی اس کو سراہا۔ اولیور نے بتایا کہ اس کے برعکس گاہکوں نے اسے پسند نہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے اس ٹریکٹر کو مزید بہتر بنایا۔

کسان ٹریکٹروں کے کمپیوٹر سافٹ ویئر میں نئی چیزیں چاہتے تھے۔ اولیور کی ٹیم نے ایسا ہی کیا۔

Man dressed in casual business attire (Courtesy of Jehiel Oliver)
جیہائل اولیور۔ (Courtesy photo)

اولیور کو اکثروبیشتر اس مسئلے کا سامنا رہتا ہے کہ لوگ زیراستعمال مصنوعات کی نقل تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اولیور کا کہنا ہے، "اگر آپ شہ سرخیوں کو دیکھ کر چلیں گے تو ہمیشہ لیڈر سے چند قدم پیچھے ہی رہیں گے۔”

اولیور کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنے علاقے میں لوگوں کا کہا مانیں اور اس پر عمل کریں تو پھر آپ مسائل کے بہترین حل نکالنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔

دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2050ء تک دنیا میں خوراک کی سپلائی دگنا کرنے کی ضرورت ہوگی اور ہیلو ٹریکٹر زرعی ٹیکنالوجی میں آنے والے انقلاب کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ اولیور کہتے ہیں کہ "یا تو ہم اس میں کامیاب رہیں گے یا پھر دنیا بھوکی رہ جائے گی۔”