ہیوسٹن میں چینی قونصلیٹ: برے کاموں کا گڑھ

ایک سکیورٹی گارڈ گشتی گاڑی کے قریب سے دو لالٹینوں اور دہرے دروازے والی عمارت کے باہر چلتا ہوا جا رہا ہے (© David J. Phillip/AP Images)
ایک سکیورٹی گارڈ 22 جولائی کو ہیوسٹن میں چینی قونصلیٹ جنرل کے باہر اپنی گشتی گاڑی کے قریب سے گزر رہا ہے۔ (© David J. Phillip/AP Images)

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے کہا کہ ہیوسٹن، ٹیکساس میں چینی قونصلیٹ “جاسوسی اور املاکِ دانش کی چوری کا ایک گڑھ تھا۔

23 جولائی کو اس قونصلیٹ کو بند کرنا چینی کمیونسٹ پارٹی ( سی سی پی) کی امریکی خود مختاری کی خلاف ورزیوں کے خلاف ردعمل کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔ امریکہ نے اُس “اندھے تعاون” کو مسترد کر دیا ہے جس کی وجہ سے سی سی پی کو دیگر ممالک سے  ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔

23 جولائی کو پومپیو نے ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ (دنیا کے) ممالک قونصلیٹ اور سفارت خانے “میزبان ملک کی رضامندی سے چلاتے ہیں۔ آپ کے سفارت کاروں کا صنعتی جاسوسی کے کام کرنا قبول نہیں ہے۔ املاکِ دانش کی چوری کرنا قبول نہیں ہے۔”

جاسوسی اور چوری کرنا

امریکی حکومت کے اعلٰی عہدیداروں کی طرف سے دی جانے والی ایک بریفنگ کے مطابق اگرچہ عوامی جمہوریہ چین پورے امریکہ میں وسیع پیمانے پر غیر قانونی سرگرمیوں اور اثر و رسوخ کی سرگرمیوں میں مصروف عمل چلا آ رہا ہے، مگر خاص طور پر ہیوسٹن کا قونصلیٹ بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کا ایک جارحانہ ذریعہ تھا۔

اِن عہدیداروں کے مطابق سی سی پی کے ایجنٹوں نے قونصلیٹ سے کام کرتے ہوئے پیپلز لبریشن آرمی کے افسروں کی، ان کی فوجی وابستگیوں کو غیر قانونی طور پر چھپانے کے لیے (امریکی) قانون کے نفاذ سے “بچنے اور اس میں رکاوٹ ڈالنے” میں اُس وقت مدد کی جب وہ (فوجی افسر) امریکہ میں کاروائیوں میں مصروف تھے۔

اس بریفنگ کے مطابق قونصلیٹ، ٹیکساس میں تحقیقی اداروں اور کمپنیوں سے دھوکہ بازی اور امریکی املاکِ دانش کی چوری میں براہ راست ملوث تھا۔

مائکروفونوں کے سامنے مائیکل آر پومپیو کی تصویر پر چسپاں یہ تحریر: 'چینی کمیونسٹ پارٹی سے لاحق خطرات واضح سے واضح تر ہوتے جا رہے ہیں۔'

دباؤ ڈالنا اور ڈرانا دھمکانا

سی سی پی اور اس کے قونصلیٹ امریکہ میں رہنے والے امریکی اور چینی شہریوں کو ڈراتے دھمکاتے اور ہراس کرتے ہیں۔

اپنی نام نہاد ‘فوکس ہنٹ’ (لومڑی کے شکار) کی ٹیموں کے ذریعے بیجنگ، جنرل سکریٹری شی جن پھنگ کے سیاسی مخالفین، کمیونسٹ پارٹی کے ناقدین، یا ویغور جیسے پناہ گزینوں اور دیگر مظلوم اقلیتوں کو نشانہ بناتا ہے۔ محکمہ انصاف کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس کا مقصد اِن لوگوں کو چین واپس جانے پر مجبور کرنا ہے۔

امریکہ کے انٹیلی جنس کے ایک اعلٰی عہدیدار کے مطابق ایک مثال ایسی بھی ہے جس میں ہیوسٹن میں قونصلیٹ کے ایک اہلکار نے امریکہ میں رہنے والے ایک آدمی کا سراغ لگایا اور یہ کہہ کر اسے چین واپس بھجوانے کی کوشش کی کہ اُس کا والد چاہتا ہے کہ وہ واپس چلا جائے۔

چین کے قونصلیٹ چینی طالب علموں کی نگرانی کرکے اور انہیں ڈرا دھمکا کر امریکہ میں اور دوسرے بیرونی ممالک میں نصابی آزادی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

گورنروں کی قومی ایسوسی ایشن میں تقریر کرتے ہوئے پومپیو نے بتایا کہ چینی حکومت کس طرح چینی طالبعلموں پر اپنے ہم جماعتوں کی نگرانی کرنے اور  سی سی پی کو معلومات فراہم کرنے کی خاطر دباؤ ڈالتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کو “بیجنگ کے لمبے ہاتھوں سے نہیں ڈرنا چاہیے۔”

پومپیو نے قونصلیٹ کی بندش کی وضاحت کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا، “چینی کمیونسٹ پارٹی ہمارے ہاں ہماری جمہوریت پر اثرانداز ہونے اور اس کو نقصان پہنچانے پر کام کر رہی ہے۔ ہم ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔”