یورپی طاقتوں کا سعودی عرب میں تیل کے کنوؤں پر حملے کا ایران پر الزام

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنما امریکہ کے ساتھ مل کر سعودی عرب میں تیل کے کنوؤں پر حالیہ حملے کے لیے ایرانی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اور ایران سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنا دھمکی آمیز طرزعمل ترک کرے۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے جاری کیے جانے والے اس مشترکہ بیان میں اِن رہنماؤں نے 23 ستمبر کو کہا، ”ہم سعودی سرزمین پر تیل کے کنوؤں پر حملے کی شدید ترین مذمت کرتے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری واضح طور پر ایران پر عائد ہوتی ہے۔”

Photo of uniformed man standing next to damaged oil refinery structures, with leaders' quote superimposed (© Amr Nabil/AP Images, State Dept.)

طویل مدتی فریم ورک کا وقت

یورپی رہنماؤں نے ایران کو ماضی میں اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی پر بھی قصور وار ٹھہرایا اور ایران کے بدنیتی پر مبنی طرزعمل سے نمٹنے کے لیے بات چیت کے لیے کہا۔

اِن رہنماؤں نے کہا، ”ہم اپنے اس یقین کو دہراتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی، بشمول اپنے میزائل پروگراموں اور [انہیں داغنے] کے دیگر ذرائع سے متعلق ایک طویل مدتی فریم ورک پر مذاکرات کو قبول کرے۔

20 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کو 14 ستمبر کے میزائل حملے کا ذمہ دار قرار دیا تھا جس سے ایرانی حکومت انکار کر چکی ہے۔ سعودی عرب میں تیل کے کنوؤں پر حملہ، ایرانی رہنماؤں کی جانب سے تشدد کے ذریعے پابندیوں میں رعایات کے حصول کی مہم کے سلسلے کی  تازہ ترین کارروائی ہے۔

صرف جولائی کے مہینے میں ایرانی حکومت نے اسلحے کے ذخیرے  اور جوہری ایندھن کی افزودگی کے حوالے سے حدود کی خلاف ورزی کی، آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو ڈرایا دھمکایا اور اپنے قبضے میں لیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت تک معاشی پابندیوں کی مہم جاری رکھنے کا عہد کیا جب تک ایرانی حکومت جوہری ہتھیاروں کے حصول کی مہم، بلسٹک میزائل پروگرام اور اپنے ہمسایوں کو دھمکانے کا سلسلہ ختم نہیں کر دیتی۔

ٹرمپ نے اس کاوش میں دیگر ممالک کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا،” تمام ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ حرکت میں آئیں۔ کسی بھی ذمہ دار حکومت کو ایران کی خونی پیاس بجھانے میں معاونت نہیں کرنا چاہیے۔ جب تک ایران کا خطرناک طرزعمل جاری رہے گا اس وقت تک اس پر پابندیاں بھی برقرار رہیں گی۔ بلکہ ان میں مزید سختی آئے گی۔”