یورپ میں بدعنوانی سے نمٹنے میں کامیابیاں

بلغاریہ، قبرص، لاتھویا اور یوکرین کے وکلاء کا شمار یورپ بھر میں بدعنوان حکام کو چیلنج کرنے والے اصلاح کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ اکثر یہ کام اپنے آپ کو گرفتاری یا دھمکیوں کے خطرات میں ڈال کر کرتے ہیں۔

 جیورس جیورس کی تصویر (State Dept.)
جیورس جیورس (State Dept.)

لاتھویا کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر میں منی لانڈرنگ کے خاتمے کے ڈویژن کے ہیڈ پراسیکیوٹر، جیوریس جیوریس کا شمار ایسے ہی اصلاح کاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بدعنوانی کے الزام میں امیر شاہی طبقے سے تعلق رکھنے والے، ایوارس لیمبرگز کے خلاف کامیابی  سے مقدمہ چلانے کی قیادت کی۔ وینٹسپلز شہر کے سابقہ میئر، لمبرگز کا شمار ملک کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ اسے رشوت ستانی، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی سے متعلق جرائم میں سزا سنائی گئی۔

لمبرگز اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے دھمکیاں ملنے کے باوجود، جیورس نے مقدمے کی پیروی کرنا جاری رکھی۔ امریکہ نے بدعنوانی کے بارے میں پابندیوں کے گلوبل میگنٹسکی نامی قانون کے تحت لیمبرگز پر 2019 میں پاببدیاں لگائیں۔

جیوریس لاتھویا اور امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ اب وہ رضاکارانہ طور پر لاتھویا کے استغاثہ کے وکیلوں اور پولیس کی تربیت کرتے ہیں۔

قبرص میں عملی اقدامات کا مطالبہ

 الیگزینڈرا ایٹالائیڈس کی تصویر (State Dept.)
الیگزینڈرا (State Dept.)

بدعنوانی اور اقتدار کا ناجائز استعمال دنیا بھر میں ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔

الیگزینڈرا ایٹالائیڈس جمہوریہ قبرص کی ایک فعال سیاسی کارکن ہیں۔ انہوں نے “بدعنوانی کے بلیک ہول میں غائب ہونے والے وسائل” پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے سائپرس میل کو بتایا، “ہمارا ملک بھی اس سے مستثنٰی نہیں ہے۔”

ایٹالائیڈس نے 2020 میں ملک میں ہونے والے انسداد بدعنوانی کے اولین مظاہروں کی قیادت کی۔ انہوں نے اور ان کے فعال ساتھی کارکنوں نے ‘سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت’ کے ایک متنازعہ پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وہ حال ہی میں قبرص کے ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔

2007 سے لے کر 2020 تک جاری رہنے والی سرمایہ کاری کی سکیم کے تحت سرمایہ کاروں کو قبرصی شہریت اور قبرصی پاسپورٹ حاصل کرنے کی اجازت حاصل تھی۔

اس سکیم کے غلط استعمال اور منی لانڈرنگ کے امکانات کے بارے میں تفصیلات سامنے آنے کے بعد، ایٹالائیڈس نے اس سکیم کے خلاف احتجاج کے لیے پارلیمنٹ کے باہر مظاہرے کیے اور زیادہ شفافیت اور اس سکیم میں ملوث سیاستدانوں سے مستعفی ہونے کے مطالبات کیے۔ انہوں نے کہا، “بدعنوانی کے خلاف جنگ جاری ہے۔”

بدعنوان اہلکاروں کی برطرفی

 نکولائی سٹیکوف کی تصویر (State Dept.)
نکولائی سٹیکوف (State Dept.)

نکولائی سٹیکوف بلغاریہ کے ایک تفتیشی صحافی اور “اینٹی کرپشن فنڈ” نام کے ایک نگران گروپ کے شریک بانی ہیں۔

2020 میں سٹیکوف نے ایک اعلیٰ سطحی بدعنوانی کے مقدمے میں استغآثے کے وکیل سمیت سرکاری افسران کے ملوث ہونے کے بارے میں ایک دستاویزی فلم نشر کی۔ اس فلم کے نشر ہونے کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں اور ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

انسداد بدعنوانی فنڈ میں سٹیکوف اور ان کی ٹیم کے کام کے نتیجے میں کئی عہدیداروں نے استغفے دیئے، بدعنوانی کے مقدمات میں نئی پیش رفتیں ہوئیں اور بلغاریہ میں اچھی حکمرانی کے واسطے پرزور مطالبات کیے جانے لگے۔

جولائی 2020 میں پیرس میں قائم “رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز” نامی تنظیم نے بلغاریہ کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی اداروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم جاری کرنے کے بعد سٹیکوف کو ملنے والی دھمکیوں کی “مکمل اور آزادانہ تحقیقات” کریں۔ اس غیر منفعتی بین الاقوامی تنظیم نے بتایا، “کرپشن کی تحقیقات کرنے والے رپورٹر بلغاریہ میں اکثر دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔”

یوکرین میں ‘بابائے انسداد بدعنوانی’ کی تعریف

 رسلان ریابوشاپکا کی تصویر (State Dept.)
رسلان ریابوشاپکا (State Dept.)

رسلان ریابوشاپکا کی سربراہی میں یوکرین کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر (او پی جی) میں اصلاحات کی کوششیں کی گئیں۔ ان کوششوں میں استغاثہ کے موثر وکلاء کو برقرار رکھنا اور بدعنوان وکلاء کو برطرف کرنا بھی شامل تھا۔

ریابوشاپکا نے کیف میں او پی جی کے ہیڈ کوارٹر میں پراسیکیوٹر جنرل کے طور پر اپنی مدت ملازمت کے دوران ں 50% سے زائد پراسیکیوٹروں کو دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے کم سے کم معیارات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے برطرف کیا۔

ریابوشاپکا کے سابق نائب، وکٹر چومک نے کہا کہ ان کے سپروائزر “یوکرین کی تاریخ کے کامیاب ترین پراسیکیوٹر ہیں۔” سول سوسائٹی کے ایک سرگرم کارکن نے “یوکرین میں ریابوشاپکا کو بابائے حکمت عملی برائےانسداد بدعنوانی” کا نام دیا۔

امریکہ نے بلغاریہ، قبرص، لاتھویا اور یوکرین سے تعلق رکھنے والے انسداد بدعنوانی کے اِن چار چمپینوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فروری اور دسمبر 2021 میں میں ایوارڈ دیئے۔

وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا، “لوگوں کو اس کا تجربہ ہوا ہے اور وہ دلی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ کرپشن بہت زیادہ نقصان دہ اور غیرمنصفانہ ہوتی ہے۔”