یو ایس ایڈ موسمیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عورتوں کو پانچ طریقوں سے بااختیار بناتا ہے

نینے لیلیان گورڈنسیلو میز پر رکھے دو ڈسپنسروں کے پاس کھڑی ہیں اور کمرے میں مشروبات سے بھری بوتلیں کریٹووں میں رکھی ہوئی ہیں (USAID)
فلپائن کے باکولوڈ سٹی میں واقع نینے لیلیان گورڈنسیلو کے سٹور میں "والہ اسیک" (یعنی کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا) نئے تیار کردہ دو نیسلے ایلڈو ڈسپینسر لگائے گئے ہیں۔ یہ سٹور ایک ہی ڈبے میں باربار مواد ڈال کر مال سپلائی کرنے کا تجربہ کر رہا ہے جس سے پلاسٹک کا استعمال کم ہو جائے گا۔ (USAID)

اگرچہ آب و ہوا کی تبدیلی ہم سب کے لیے خطرہ ہے ، لیکن تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔

خشک سالی اور سیلاب جیسی آب و ہوا کی وجہ سے آنے والی تباہیوں میں مردوں کی نسبت 14 گنا زیادہ عورتیں اور بچے ہلاک ہوتے ہیں۔ چونکہ دنیا کے غریبوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے  قدرتی وسائل میں کمی کے اثرات سب سے پہلے وہ محسوس کرتی ہیں۔  موسمیاتی تبدیلیاں کم عمری کی اور جبری شادیوں سمیت صنف پر مبنی تشدد کو بھی بڑھاوا دیتی ہیں۔

تاہم، آب و ہوا کی تبدیلیوں کا شکارعورتیں اور لڑکیاں، آب و ہوا کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل ڈھونڈنے اور ان کو عملی جامہ پہنا رہی ہیں اور دنیا میں آب و ہوا کی بڑھتی ہوئی تبدیلوں سے نمٹنے کے بڑھتے ہوئے عزم میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

امریکہ کا بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ (یو ایس ایڈ) مندرجہ ذیل پانچ طریقوں سے آب و ہوا میں تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں عورتوں کو بااختیار بنا رہا ہے:-

1۔ عورتوں کے ساتھ ماحولیاتی نگہبان کے طور پر سلوک کرنا

“ماحولیات میں صنف کا فروغ” (اے جی ای این ٹی یا ایجنٹ) نامی تنظیم،  یو ایس ایڈ اور فطری محفوظگی کی بین الاقوامی یونین کے درمیان ایک شراکت داری ہے۔ ایجنٹ تقریباً ایک عشرے سے عورتوں کو آب و ہوا کی تبدیلی کے شعبے میں ایجنٹوں (کارندوں) کے طور پر تسلیم کرتی چلی آ رہی ہے۔ ایجنٹ کے ذریعے یو ایس ایڈ اس موضوع پر تحقیق کا کام کرتا ہے اور اسے شائع کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی عورتوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ یو ایس ایڈ دنیا کے ممالک کی آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق ایسے عملی منصوبے تیار کرنے میں بھی مدد کرتا ہے جو خصوصی طور پر صنفوں کے حوالے سے موسمیاتی مسائل کے حلوں کے زیادہ موثر اور مشمولہ ہونے کو یقینی بناتے ہیں۔

 ہیلمٹ پہنے ہوئے دو عورتیں جن میں سےایک بجلی کے بورڈ پر کام کر رہی ہے اور دوسری اسے دیکھ رہی ہے (© Dieter Steinbach/EVN)
جمہوریہ شمالی مقدونیہ میں دستکاری کی ایک طالبہ ایک پراجیکٹ کے دوران عملی تربیت حاصل کر رہی ہے۔ اس پراجیکٹ کا مقصد بجلی کا کام کرنے والی عورتوں کی مہارتوں کو بڑہانا ہے۔ (© Dieter Steinbach/EVN)

یو ایس ایڈ کے تعاون سے ایجنٹ، ماہی گیری کے شعبے میں صنفی مساوات اور عورتوں کی بااختیاری کو بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس شعبے میں عورتیں مجموعی تعداد کا تقریباً نصف ہیں مگر معاشی لحاظ سے  ان کی ترقی کرنے کی صلاحیتیں محدود ہیں۔ یہ محرومی عورتوں کو زیادہ پیسے کمانے اور نئی منڈیوں تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہے اور اس کی وجہ سے ماہی گیری کی پائیداری میں مجموعی طور پر اضافہ کرنے کی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔

2۔ زندگیاں بچانے کے لیے زمین کے مخصوص مقامات کے ڈیٹا کا استعمال

سرویر یو ایس ایڈ اور ناسا کے مابین ایک 16 سالہ پرانی شراکت داری ہے۔ اس کے تحت آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جغرافیائی ٹیکنالوجی کے استعمال میں دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے مقامی فیصلہ سازوں کی مدد کی جاتی ہے۔ سرویر کا ڈیٹا ممالک کی خشک سالیوں، سیلابوں اور جنگل میں لگنے والی آگوں کا اندازہ لگانے میں مدد کرتا ہے تاکہ اہلکار جانوں کے ضائع ہونے سے پہلے تیزی سے حرکت میں آ سکیں۔

2019 کے بعد سے یو ایس ایڈ نے سرویر کی جغرافیائی سہولتوں کی مدد سے ڈھونڈے جانے والے مسائل کے حلوں کو ایسے طریقوں سے تیار کیے جانے کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا ہے جو خاص طور پر خواتین کی ضروریات کو پورا کرتے ہوں۔ مثلاً یہ یقینی بنانا کہ تباہی سے متعلق معلومات اُن چینلوں کے ذریعہ دکھائی جائیں جن تک عورتیں آسانی سے رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔ یو ایس ایڈ نے تکنیکی اور قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت اور سرپرستی کے مواقع فراہم کرکے خواتین کو جغرافیائی علوم کی افرادی قوت میں ملازمت کرنے اور اپنا پیشہ وارانہ مستقبل بنانے کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔

3۔ پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنا

پلاسٹک کے فضلے کی آلودگی سے پوری دنیا میں پلاسٹک کے چھوٹے ذرات ہی نہیں پھیلتے بلکہ پلاسٹک ماحولیاتی نظام میں باقاعدگی پیدا کرنے میں مدد کرنے والے استوائی ساحلی علاقوں میں اگنے والے تمروں کے درختوں کو نقصان پہنچا کر بھی موسمی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح جب اسے جلایا جاتا ہے تو بہت زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہوا میں شامل ہو جاتی ہے۔

یو ایس ایڈ کا صاف شہر اور نیلے سمندروں کے نام سے چلایا جانے والا پروگرام ایشیا اور لاطینی امریکہ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شہری علاقوں میں سمندری پلاسٹک کی آلودگی کو روکتا ہے۔ ہر سال 80 لاکھ میٹرک ٹن پلاسٹک پانی کے ساتھ بہہ کر سمندروں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس پروگرام کے ایک حصے کے طور پر یو ایس ایڈ خواتین کاروباری منتظمین کی سربراہی میں کاروبار کے ایسے نئے طریقوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جن کے تحت پلاسٹک کے صرف ایک مرتبہ استعمال کیے جانے کو کم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اُن عورتوں کی معاشی ترقی میں بھی یو ایس ایڈ مدد کر رہا ہے جو غیر رسمی طور پر کوڑا کرکٹ چننے کرنے کا کام کرتی ہیں۔

 ہیلمٹ پہنے دو عورتیں۔ ایک لکھ رہی ہے اور دوسری آسمان کی طرف اشارہ کر رہی ہے (© EKEDC)
نائیجیریا میں ایکو الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی (ای کے ای ڈی سی) کی بلیسنگ اویینی اور اڈیمی اوپیئیمی پہلی عورتیں ہیں جو بطور لائن ورکر کام کرتی ہیں۔ (© EKEDC)

4۔ یوٹلٹی کمپنیوں کو زیادہ موثر بنانا

یو ایس ایڈ کے صنفی تنوع کے پروگرام کے تحت بجلی اور پانی کی کمپنیوں سمیت روائتی طور پر مردوں کے اکثریتی شعبوں میں عورتوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جاتے ہیں جس سے اِن کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے 6,000 سے زیادہ خواتین کو اپنے  پیشوں میں ترقی کرنے کے لیے تربیت دی جا چکی ہے اور 1,000 سے زیادہ عورتوں کو انتظامی اور تکنیکی عہدوں سمیت توانائی اور پانی کے شعبوں میں ملازمتیں ملی ہیں۔

5۔ عورتوں کے زمینوں کے حقوق کو محفوظ بنانا

جب خواتین کے زمینوں کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں تو آب و ہوا کی تبدیلیوں سے نمٹنے کی اُن کی لچک میں اضافہ ہو جاتا ہے اور  نتیجتاً کمیونٹیوں کی مجموعی  لچک بھی بڑھ جاتی ہے۔ وہ عورتیں جو زمینوں کے روایتی مدت کے نظاموں پر انحصار کرتی ہیں جن سے ان کا نقصان ہوتا ہے، وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ اُن کو پہنچنے والا نقصان اِس وجہ سے خاص طور پر زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ جنگل اور پانی کے وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں اور زمین پر مٹی خراب ہو رہی ہے۔

 دو عورتیں نقشے دیکھ رہی ہیں (© Sandra Coburn/USAID)
موزمبیق میں عورتیں نقشے دیکھ رہی ہیں۔ یو ایس ایڈ عورتوں کے زمینوں کے حقوق سے متعلق اصلاحات میں مدد کرنے کے لیے موزمبیق میں کام کر رہا ہے۔ (© Sandra Coburn/USAID)

یو ایس ایڈ عورتوں کے زمینوں کے محفوظ حقوق کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ مالکیت اور زمین کی رجسٹریشن جیسے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے کام کرتا ہے۔ یو ایس ایڈ گھانا، ملاوی، موزمبیق، زیمبیا اور بھارت میں خواتین کے زمینی حقوق کے سلسلے میں قانونی اور زمینی وسائل کے انتظام میں اصلاحات کی حمایت میں بھی کام کرتا ہے۔

عورتوں کی شمولیت کے نتیجے میں عورتیں قدرتی وسائل کے بارے میں فیصلہ سازی میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں اور آب و ہوا کی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل کے ایسے حلوں کی تائید کرتی ہیں جو اُن کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ ایسے حلوں کے اپنائے جانے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں جس سے ہمارے مشترکہ کرہ ارض اور ہماری عالمی کمیونٹیوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

اس مضمون کی ایک شکل میڈیم میں چھپ چکی ہے۔