Ten people posing for photo on bench (State Dept./D.A. Peterson)
اعزاز یافتگان جن میں سے زیادہ تر نے اپنے اپنے ممالک یا ثقافتوں کے مطابق روائتی لباس پہن رکھے ہیں: بائیں سے دائیں ترکی کی ایجے چفچی، روائتی ٹینن پہنے ہوئے انڈونیشیا کے ڈیویو الفتح، لبنانی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے عربی کافتان میں ملبوس ناروے کی نینسی ہرز، ہوسا لوگوں کا روائتی لباس پہنے ہوئے جنوبی افریقہ کی ایساسی فنکوسی مڈنگی، پامیری ٹوپی پہنے ہوئے تاجکستان کے فیروز یوگبیکوو، کرد لباس میں ملبوس عراق کی سارہ عبداللہ عبدالرحمان، اپنے افریقی آبا و اجداد کی یاد تازہ کرتے ہوئے ننگے پاؤں، منہ پر رنگ لگائے اور صوبہ کولون کے "کانگو" نامی لباس میں ملبوس پانامہ کے ہوزے روڈریگز، یزیدی لباس پہنے، زینا سالم حسن حامو، جامدانی ساڑھی میں ملبوس بنگلہ دیش کی تنزیل فردوس، اور شلوار قمیض پہنے ہوئے پاکستان کی دانیا حسن۔ (State Dept./D.A. Peterson)

ایک صحافی فوٹوگرافرعراق میں مذہبی اقلیت کی حالت زار کا نقشہ کھینچتی ہے، ایک استاد لاطینی امریکہ کے پسماندہ لوگوں کو سائنسی ہنر سکھاتا ہے اور جنوبی افریقہ میں خواتین کے حقوق کی ایک حامی سوشل میڈیا کے ذریعے جنسی حملوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔

امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے اِن لوگوں اور تبدیلی لانے والے دیگر سات افراد کی کامیابیوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور یہ لوگ مزید کامیابیوں کی امید لیے ماہرین کے ساتھ  روابط  قائم کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے 2 مئی کو واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب میں 10 ابھرتے ہوئے رہنماؤں کی عزت افزائی کی۔ امن کے فروغ اور محروم لوگوں کے لیے مواقع تخلیق کرنے پر اُن کو سراہا گیا۔ یہ لوگ امریکہ میں دو ہفتے گزاریں گے جہاں یہ اپنی کہانیاں سنائیں گے اور وطن واپسی سے قبل ماہرین اور ایک دوسرے سے سیکھیں گے۔

بنگلہ دیش

Tanzil Ferdous (Courtesy photo)
تنزیل فردوس (Courtesy photo)

24 سالہ تنزیل فردوس نوجوانوں کی اپنے علاقوں میں رضاکارانہ  کام کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ان کا مقصد انہیں شدت پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنا اور بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کو تشدد سے بچانا ہے۔

انڈونیشیا

Diovio Alfath (Courtesy photo)
ڈیویو الفتح (Courtesy photo)

23 سالہ ڈیوویو الفتح جکارتہ میں اقلیتی گروہوں کے حقوق کی وکالت کرتے ہیں۔ انہوں نے مذہبی، قومی و نسلی اقلیتوں کے لیے قانونی اور ہنگامی روابط پر مشتمل ایک رہنما کتاب بھی تیار کی ہے۔

عراق

Close-up of Sara Abdullah Abdulrahman (Courtesy photo)
سارہ عبداللہ عبدالرحمان (Courtesy photo)

21 سالہ سارہ عبداللہ عبدالرحمان کرکوک میں قائم ایک رضاکار گروپ کی قائد ہیں۔ یہ گروپ مختلف پس منظروں کے حامل لوگوں میں پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیتا اور بے گھر لوگوں کی واپسی میں معاونت کرتا ہے۔

لتھوینیا

Zina Salim Hassan Hamu with camera in front of tents (Courtesy photo)
زینا سالم حسن حامو (Courtesy photo)

21 سالہ زینا سالم حسن حامو نے داعش کے ہاتھوں کیا جانے والا یزیدی لڑکیوں کا قتل عام اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد صحافتی فوٹوگرافی کی اپنی صلاحیتوں کو عراقی یزیدی اقلیت کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا۔

ناروے

Close-up of Nancy Herz (Courtesy photo)
نینسی ہرز (Courtesy photo)

21 سالہ نینسی ہرز انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ وہ خواتین کے لیے ایسے صنفی کرداروں کی حامی ہیں جن میں کم پابندیاں ہوں۔ وہ لڑکیوں پر منفی سماجی کنٹرول کے موضوع پر “شیم لیس” [بے شرم] نامی ایک کتاب کی شریک مصنفہ بھی ہیں۔

پاکستان

Dania Hassan holding trophy and book (Courtesy photo)
دانیا حسن (Courtesy photo)

18 سالہ دانیا حسن نے “فن ٹو لرن” [تفریح کے ذریعے سیکھنا] نامی ایک تنظیم بنائی ہے جو پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں قائم سکولوں میں صحت، ہنگامی حالات کے لیے تیاری اور دیگر موضوعات پر غیرنصابی سرگرمیاں منعقد کرواتی ہے۔

پانامہ

ہوزے الیہاندرو روڈریگز (Courtesy photo)
ہوزے الیہاندرو روڈریگز (Courtesy photo)

20 سالہ ہوزے راڈریگز، آیوڈنگا نامی تعلیمی پلیٹ فارم کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ پلیٹ فارم ریاضی اور سائنس میں مفت تعلیم دیتا ہے اور لاطینی امریکہ کے سب ممالک میں تعلیمی معیار بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے۔

جنوبی افریقہ

Isasiphinkosi Mdingi sitting with other people and gesturing (Courtesy photo)
ایساسی فنکوسی مڈنگی (Courtesy photo)

23 سالہ ایساسی فنکوسی مڈنگی سوشل میڈیا کی متاثرکن شخصیت ہیں۔ وہ اپنے پلیٹ فارم کو جنسی حملوں، صنفی بنیاد پر کیے جانے والے تشدد اور خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ  ناروا سلوک روا رکھنے کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

تاجکستان

Firuz Yogbekov (Courtesy photo)
فیروز یوگبیکوو (Courtesy photo)

21 سالہ فیروز یوگبیکوو یورپ کی سلامتی و تعاون کی تنظیم کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں اور اپنی بحث و تمحیص کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر متشدد انتہاپسندی اور گھریلو تشدد جیسے مسائل کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

ترکی

Ece Çiftçi with three young children (Courtesy photo)
ایجے چفچی (Courtesy photo)

24 سالہ ایجے چفچی نے استنبول میں “سوسیال بن” کے نام سے ایک اکیڈمی قائم کی ہے۔ یہ اکیڈمی مشرقی ترکی میں 60 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو سماجی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تیار کر چکی ہے۔