120 سے زائد ممالک کی کووڈ-19 کی شروعات کی تحقیقات کی حمایت

کووڈ-19 کی شروعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے ممالک کی فہرست (State Dept./M. Rios)
(State Dept./M. Rios)

دنیا کے 120 سے زائد ممالک نے کووڈ-19 وبا کے پھیلنے کی شروعات کی تحقیقات کی حمایت کی ہے۔

کووڈ-19 وبا کے بین الاقوامی ردعمل کے ایک “غیر جانبدار، آزاد اور جامع جائزے” کی اِن تحقیقات میں صحت کا عالمی ادارہ (ڈبلیو ایچ او) رابطہ کاری کا کام کرے گا۔

اِن تحقیقات کی منظوری ڈبلیو ایچ او کی عالمی صحت کی اسمبلی کے جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں مئی میں ہونے والے اجلاس کے دوران دی گئی۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 20 مئی کو واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا، “ہم اب آسٹریلیا اور 120 سے زائد اُن اقوام کے ساتھ کھڑے ہیں جنہوں نے وائرس کی شروعات کے بارے میں تحقیقات کرنے کے امریکی مطالبے کو آگے بڑہایا ہے تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کیا کچھ غلط ہوا اور اب اور مستقبل میں، زندگیاں بچا سکیں۔”

سائنس دانوں کو کورونا وائرس کی شروعات کا ابھی تک علم نہیں ہے۔ تاہم چینی اہل کاروں نے شروع میں یہ بتایا تھا کہ یہ وائرس چین کے شہر وُوہان میں جنگلی جانوروں کی مارکیٹ سے شروع ہوا۔

گو کہ چینی حکومت نے بالآخر صحت کی عالمی اسمبلی کی قرارداد پر دستخط کر دیے ہیں مگر کمیونسٹ پارٹی نے تحقیقات کے مطالبات پر جارحانہ ردعمل ظاہر کیا ہے۔

جب پہلے پہل آسٹریلیا نے کووڈ-19 کی ابتدا کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا تو چینی سفیر نے یہ کہتے ہوئے آسٹریلین مصنوعات کے چینی بائیکاٹ کی دھمکی دی کہ اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو “ایسا ہو سکتا ہے کہ عام آدمی سوچے کہ وہ آسٹریلین شراب کیوں پیے یا آسٹریلین گوشت کیوں خریدے۔”

پومپیو نے اس طرح کی کاروائیوں کو آزادانہ تحقیقات کا سادہ سا مطالبہ کرنے پر “اقتصادی انتقام” قرار دیا۔

پومپیو نے کہا کہ چین ابھی تک بنیادی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “بیجنگ تحفقیق کرنے والوں کو متعلقہ مقامات تک رسائی دینے سے انکار کرنا، زندہ وائرس کے نمونوں کو روکے رکھنا، چین کے اندر اس وبا پر بحث کو سنسر کرنا اور دیگر بے شمار (کام کرنا) جاری رکھے ہوئے ہے۔”