ایتھوپیا میں نشریاتی صحافی، سیسے فدا 2021 میں جب ایک شادی میں شرکت کر کے گھر واپس جا رہے تھے تو اُن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ فری لانس صحافی، لیرا میککی شمالی آئرلینڈ میں پولیس اور فسادیوں کے درمیان 2019 میں ہونے والے تصادم کی رپورٹنگ کر رہی تھیں کہ ایک بندوق بردار کی گولی جو پولیس کو نشانہ بنانا چاہتا تھا میککی کو جا لگی اور وہ ہلاک ہوگئیں۔ نامہ نگار میری کولون کی پہلے سری لنکا میں آنکھ ضائع ہوئی اور بعد میں 2012 میں شام میں گولہ باری میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

جب 2014 میں سوشل میڈیا پر داعش کی جانب سے صحافیوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیوز پھیلائی گئیں تو صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی سے اُس وقت تعلق رکھنے والی کورٹنی رادش نے کہا، “صحافت روزبروز ایک خطرناک پیشہ بنتا جا رہا ہے۔”

صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ 1992 سے اب تک 1,988 صحافی ہلاک ہوئے ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر وہ تھے جو سیاست، جنگ یا کرپشن کی کوریج کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ بہت سے مقامی رپورٹر تھے جو اپنے ہی گلی محلوں کے مسائل کے بارے میں لکھنے پر اپنی جانوں سے چلے گئے۔

 بچے زمین پر چاک سے بنائی گئی اشکال میں موم بتیاں جلا رہے ہیں۔ (© Bullit Marquez/AP Images)
منیلا، فلپائن میں بچے 2009 میں میگوئینڈانو قتل عام کی یاد منا رہے ہیں جس میں 32 صحافیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ((© Bullit Marquez/AP Images)

دیگر صحافیوں کی زندگیاں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہتے ہوئے بیت جاتی ہیں۔ کچھ کو ان کے ملکوں سے جہاں وہ کام کرتے ہیں زبردستی نکال دیا جاتا ہے جیسا کہ رادش کے ساتھ اس وقت ہوا جب انہوں نے متحدہ عرب امارات میں عوامی تحفظ کے بارے میں ایک مضمون لکھا۔ رادش جو اب آزادی اظہار کی حامی، سکالر اور مصنفہ ہیں، کہتی ہیں کہ قتل ہونے والے ہر 10 صحافیوں میں سے صرف ایک کی ہلاکت کا مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ  1,416 ہلاکتوں کے پیچھے کارفرما محرکات کی تصدیق ہو چکی ہے۔

صحافیوں کے بارے میں بدلتا ہوا تاثر

گواہی دینے کی خواہش طویل عرصے سے صحافیوں کو محاذ کی اگلی صفوں تک لے جاتی رہی ہے۔ برسوں پہلے صحافیوں کو ہاتھ میں کاپی قلم پکڑے غیر جانبدار مبصرین کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ مگر آج ایسا نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اُن پر جاسوسوں یا دشمن کا کوئی جنگجو الزام لگا دیا جائے۔ اسی لیے وہ گولیوں اور چاقوؤں سے بچنے کے لیے حفاظتی جیکٹیں پہنتے ہیں۔

تو پھر دنیا بھر کے صحافی کہانیوں کو منظر عام پر لانے کے لیے اپنی جانیں خطرات میں کیوں ڈالتے رہتے ہیں؟ جواب [مثبت] تبدیلی لانے کے لیے۔

صحافی کرپشن کو بے نقاب کرتے ہیں، قوانین میں تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں، کاروباری طریقوں کی اصلاح کرتے ہیں اور زندگیوں کو بہتر بناتے ہیں۔

میتھیو کافمین اور ہارٹ فورڈ کورنٹ کی آنجہانی لیزا چیڈیکل نے امریکی فوجیوں کی خودکشیوں کے بارے میں ایک پراجیکٹ کیا جس کے نتیجے میں امریکی فوجیوں میں ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کانگریس کے اور فوجی اقدامات کی ابتدا ہوئی۔ اس پراجیکٹ کیوجہ سے یہ دونوں صحافی 2007 میں شہرہ آفاق پلٹزر پرائز کے فائنل کے لیے نامزد ہونے والوں میں شامل ہوئے۔

لاس اینجلس ٹائمز کے روبن ویویس اور جیف گوٹلیب نے بیل، کیلی فورنیا میں سرکاری اہلکاروں کی تنخواہوں کا پردہ چاک کیا جس کے نتیجے میں دھوکے بازی کے مقدمات چلے اور مقامی حکومت میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ انہوں نے اپنی اس رپورٹنگ کی وجہ سے 2011 کا پلٹزر پرائز جیتا۔ نیوز ڈے کے عملے نے نیویارک کے لانگ آئی لینڈ میں پولیس کی فائرنگ، ریکارڈ میں ردوبدل کرنے اور پولیس کی دیگر بدانتظامیوں کا احاطہ کیا۔ اس کے نتیجے میں بڑی جیوری بنائی گئی، ایک افسر کے خلاف الزامات عائد کیے گئے، اور مہلک طاقت استعمال کرنے کی پالیسی کے بارے میں نئے منصوبے بنائے گئے۔

انسانی عنصر

دنیا کے طول و عرض میں تصادم کور کرنے والی، جنگی فوٹو گرافر، لینسی ایڈاریو کہتی ہیں، “میں واقعی ان لوگوں کی پرواہ کرتی ہوں جن کے بارے میں میں کام  کرتی ہوں۔”   گرے ہوئے فوجیوں، عصمت دری کی شکار عورتوں، غذائی قلت کے شکار بچوں اور تنگ دست پناہ گزینوں کی تصویر کشی کرنے کے دوران ایڈاریو کو اغوا کیا گیا، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں، اور چھ دن تک انہیں قید میں رکھا گیا۔ لیکن یہ سب کچھ بھی انہیں اپنے کیمرے کے ساتھ سفر کرنے سے نہیں روک پایا۔ ایڈاریو نے کہا، “یہ میرے بارے میں نہیں ہے، یہ ان کے بارے میں ہے،”

رپورٹر جیمز فولی کے قتل کے ردعمل میں، اُن کی والدہ، ڈیان فولی نے فیس بک پر لکھا: “ہمیں اپنے بیٹے جِم پر اتنا زیادہ فخر کبھی نہیں ہوا جتنا کہ اب ہے۔ اس نے شامی عوام کے مصائب سے دنیا کو باخبر رکھنے کی کوشش میں اپنی جان دے دی۔”

 دعائیہ تقریب جس میں جیمز فولی کی تصویر رکھی گئی ہے۔ (© Marko Drobnjakovic/AP Images)
جیمز فولی ایک فری لانس صحافی تھے جنہیں داعش نے نے مار ڈالا۔ 2014 میں عراق کے شہر اربیل میں اُن کی یاد میں ہونے والی ایک دعائیہ تقریب۔ (© Marko Drobnjakovic/AP Images)

آپ آزاد پریس کی حمایت کس طرح کر سکتے ہیں؟

عالمی پریس کی آزادی کی خبریں پڑھیں اور اپنے دوستوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں۔ اگر آپ عام شہری یا پیشہ ور صحافی ہیں تو اِن وسائل سے فائدہ اٹھائیں جیسا کہ صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کی مفت سکیورٹی گائیڈز، صحافیوں کے بین الاقوامی مرکز کے دنیا بھر میں پھیلے پروگرام اور محکمہ خارجہ کا صحافیوں کے لیے وہ پروگرام ہے جس کے تحت دنیا بھر سے میڈیا کے شعبے کے نوجوان پیشہ ور افراد امریکہ آتے ہیں۔

یہ مضمون ایک مختلف شکل میں اس سے پہلے 10 اکتوبر 2014 کوبھی شائع ہو چکا ہے۔