2016 : نئی خلائی وسعتوں کا سال [وڈیو]

2016ء کے دوران خلائی تحقیق و جستجو نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ خلا سے متعلق اس سال کے خاص واقعات میں مریخ کے سفر کے لیے تیاریاں، راکٹ کو دوبارہ قابل استعمال بنانے میں کامیابیاں، ناسا کی ان کہی کہانیاں اور سیاروں سے متعلق سائنس میں حیرت انگیز دریافتیں شامل ہیں۔

شہ سرخیوں پرایک نظر ڈالیے!

یکم مارچ: سکاٹ کیلی کی زمین پر واپسی

خلائی سوٹوں میں ملبوس جڑواں بھائی۔ (NASA)
سابق خلا باز سکاٹ کیلی (دائیں) اور ان کے ہم شکل جڑواں بھائی مارک۔ (NASA)

خلاباز سکاٹ کیلی نے خلا میں ایک یادگار سال گزارا  ــــ انہوں نے خلا میں لمبے عرصے تک قیام کا امریکی ریکارڈ قائم کیا اور مریخ کے سفر کی تیاری میں ہماری مدد کے لیے ایک ” دوہرے  مطالعے” میں حصہ لیا۔ انہوں نے کچھ  نہایت عمدہ تصاویر بھی اتاریں۔

8 اپریل: سپیس ایکس کی زمین پر واپسی

راکٹ لینڈ کرنے کے لیے نیچے آرہا ہے (SpaceX)
سپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کی پہلی منزل لینڈ کرتے ہوئے (SpaceX)

سپیس ایکس فالکن 9 نامی ایک راکٹ کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے سامان کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ اس کے نو منٹ بعد، راکٹ کا پہلا حصہ سمندر میں تیرتی ہوئی ایک میدانی عرشے والی کشتی پر اترا۔ اس حصے کو ’یقیناً میں تم سے ابھی تک پیار کرتا ہوں‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ راکٹ سپیس ایکس کے بانی ایلن مسک کا کہنا ہے کہ دوبارہ قابل استعمال راکٹوں کے باعث خلا میں راکٹوں کو بھیجنے کے اخراجات میں بھاری کمی آئے گی۔

سپیس ایکس اور بلیو اوریجن نامی نجی شعبے کی دو خلائی کمپنیاں دوبارہ قابل استعمال راکٹ کی ٹیکنالوجی کے ڈیزائن اور آزمائشوں پر کام کر رہی ہیں۔

24 اگست: ایک اور زمین؟

آرٹسٹ کی بنائی ہوئی تصویر میں زمین سے ملتے جلتے سیارے کی فضا میں ابھرتا ہوا ایک ستارہ (European Southern Observatory/M. Kornmesser)
پراکسیما بی کی ممکنہ سطح ایک آرٹسٹ کی نظر میں۔ (European Southern Observatory/M. Kornmesser)

ماہرین فلکیات نے ہمارے نظام شمسی کے قریب ترین گردش کرتے ہوئے ایک ایسے  چٹانی سیا رچے کا پتہ چلایا ہے جہاں ممکن ہے کہ انسان بس سکیں۔ انسان کے بغیر پہلا تحقیقی خلائی جہاز اس صدی کے آخر تک، پراکسیما بی نامی اس سیا رچے تک پہنچ سکے گا۔

29 اگست: خلا میں ڈی این اے کی ترتیب

کیٹ روبنز خلائی سٹیشن میں (NASA)
کیٹ روبنز (NASA)

کیٹ روبنز نے اس وقت جینیات میں ایک نئی دنیا کے دروازے کھول دیے جب انہوں نے  آئی ایس ایس پر  ڈی این اے کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنس دان خلا میں طویل سفر کے دوران بیماریوں کی تشخیص کر سکیں گے اور ممکنہ طور پر زمین سے ماورا ڈی این اے کی بنیاد پر زندگی کی اشکال کی شناخت کرسکیں گے۔

4  دسمبر: زحل  قریب سے مشاہدے کے لیے تیار ہے

زحل (NASA)
زحل (NASA)

انسان کے بغیر ناسا کا خلائی جہاز کاسینی  اپنے "عظیم آخری مرحلے" کے دوران زحل کے گرد  دائروں میں اتر رہا ہے۔ کاسینی کے مشن کے اس آخری مرحلے سے ہمیں سیاروں کے تشکیل پانے کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوگا۔

25 دسمبر : ‘پوشیدہ شخصیات’ اب پوشیدہ نہیں ہیں

جنیل مونے، اوکٹیویا سپنسر، تاراجی ہینسن اور فیریل ولیمز ما ئیکرو فون لیے سٹیج پر کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں (© AP Images)
جنیل مونے ( بائیں) اوکٹیویا سپنسر، تاراجی ہینسن اور فیریل ولیمز ستمبر میں ٹورانٹو انٹر نیشنل فلم فیسٹیول میں نئی فلم "ہڈن فگرز” پر گفتگو کر رہے ہیں۔ (© AP Images)

ہوسکتا ہے آپ نے کیتھرین جانسن، ڈوروتھی واؤہان اور میری جیکسن کے نام نہ سنے ہوں مگر ان تین افریقی نژاد امریکی ریاضی دان خواتین نے 1962ء میں زمین کے گرد جان گلین کی تاریخی خلائی پرواز سمیت ناسا کیعظیم ترین کامیابیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد کی۔

نئی راہیں روشن کرنے والی تین خواتین سے متعلق ایک نئی فلم ” پوشیدہ شخصیات” کی نمائش 25 دسمبر کو شروع ہوئی۔

‘پوشیدہ شخصیات’ نامی ایک نئی فلم نئی راہیں روشن کرنے والی ان تین خواتین کی زندگیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ فلم 25 دسمبر کو نمائش کے لیے پیش کی گئی۔