2019ء میں ایران میں سب سے بڑی پانچ خبریں

آگ اور دھویں کے اردگرد اکٹھے مظاہرین۔ (© AFP/Getty Images)
نومبر میں ایران کے طول و عرض میں ہونے والے مظاہروں کی ابتدا تو پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوئی مگر بعد میں یہ مظاہرے ایک ظالم حکومت کے لیے ایک چیلنج کی شکل اختیار کر گئے۔ (© AFP/Getty Images)

1979ء میں اقتدار میں آنے کے بعد 2019ء ایرانی حکومت کا سب سے زیادہ ہنگامہ خیز سال رہا۔

ذیل میں ایران کے اس سال کے بڑے واقعات کا ذکر کیا جا رہا ہے:

5۔ ایران کی معیشت کا گرنا

ڈالروں میں دی گئی رقم اور الفاظ سے ایران کی دہشت گردی کی مالی مدد کی مثال۔ (State Dept.)

گزشتہ برس ایرانی حکومت نے امریکہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم نامزد کی گئی پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی سپاہ کی قدس فورس پر اربوں خرچ کیے۔ آئی آر جی سی- کیو ایف، حزب اللہ، حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں اور یورپ میں حملوں کی سازشوں میں مدد کرتی ہے۔ اسی اثنا میں ایران کے شہری زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد میں لگے رہے کیونکہ افراط زر کی شرح 40 فیصد اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد تک جا پہنچی۔ صارفین کو بنیادی ضروریات کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر سبزیوں کی قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں 155 فیصد اوپر چلی گئیں۔

4۔ عالمی معیشت پر حملہ

ایک صنعتی کارخانے کے قریب ایک آدمی کھڑا ہے اور ہاتھ میں کوئی آلہ پکڑا ہوا ہے۔ (© Amr Nabil/AP Images)
ابقیق، سعودی عرب میں 14 ستمبر کو آرامکو کے تیل صاف کرنے کے کارخانے پر حملے کے بعد ایک آدمی فلم بنا رہا ہے۔ (© Amr Nabil/AP Images)

حکومت نے یورینیم کی ذخیرہ اندوزی اور افزودگی کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی، بین الاقوامی پانیوں کو خطرات سے دو چار کیا، اور سعودی عرب کے تیل کے کنووں پر میزائلوں سے حملے کر کے عالمی معیشت پر حملہ کیا۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے امریکہ کے ہمراہ اِن حملوں کا ایرانی حکومت پر الزام لگایا اور آیت اللہ کے دھمکی آمیز رویے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

3۔ یرغمالیوں کا سودا بازی کے لیے استعمال

ایک آدمی کی تین تصویروں والا پوسٹر۔ (© Manuel Balce Ceneta/AP Images)
ایف بی آئی کے ریٹائرڈ ایجنٹ رابرٹ لیونسن سے متعلق واشنگٹن میں 2012ء میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں ایف بی آئی کا ایک پوسٹر دکھایا جا رہا ہے۔ (© Manuel Balce Ceneta/AP Images)

اسلامی جمہوریہ ایران نے یرغمال بنانے اور یرغمالیوں کو سودا بازی کے لیے استعمال کرنے کی اپنی 40 سالہ روش برقرار رکھی۔ اس سال امریکہ نے پرنسٹن یونیورسٹی کے طالبعلم شی وے وانگ کو رہا کروایا۔ چینی نژاد شی وے امریکی شہری ہیں اور انہیں 2016 سے (ایران نے) یرغمال بنایا ہوا تھا۔ دہری شہریت کے مالک افراد کو یرغمالی بنائے جانے والوں میں ایرانی نژاد برطانوی شہری اور امدادی کارکن نازنین زغاری ۔ ریٹ کلف اور ایرانی نژاد امریکی تاجر سیامک نمازی شامل ہیں۔ ایف بی آئی کے ریٹائرڈ ایجنٹ رابرٹ لیونسن 12 سال سے زیادہ عرصے سے لاپتہ ہیں۔ ‘انصاف کے صلے کے پروگرام’ کے تحت ایسی اطلاع پر دو کروڑ ڈالر کے انعام کی پیش کش کی گئی ہے جس کے نتیجے میں لیونسن کی بحفاظت وطن واپسی عمل میں آ سکے۔

2۔ ‘نیلی لڑکی’ کے معاملے میں دنیا متحد

لوگوں کے ہجوم میں عورتیں اپنے رد عمل کا اظہار کر رہی ہیں۔ (© Amin M. Jamali/Getty Images)
فیفا کے عالمی کپ میں شرکت کی اہلیت کے لیے 10 اکتوبر کو تہران میں ایران اور کمبوڈیا کے درمیان ہونے والے میچ کے دوران ایرانی خواتین اپنے ردعمل کا اظہار کر رہی ہیں۔ (© Amin M. Jamali/Getty Images)

"نیلی لڑکی” کی موت نے حکومت کی عورتوں کے فٹ بال دیکھنے پر پابندی کے خلاف غم و غصے میں اضافہ کیا۔ "نیلی لڑکی” ایک 29 سالہ عورت تھی جس کو اس لیے قید کا سامنا تھا کیونکہ وہ فٹ بال کا میچ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سحر خدایاری نامی اس عورت کو یہ عرفیت اپنی پسندیدہ ٹیم کے نیلے رنگ کی وجہ سے ملی۔ تہران کی ایک عدالت کے سامنے اس نے اپنے کو آگ لگائی اور اس کے کئی دن بعد 9 ستمبر کو وہ انتقال کر گئی۔ فٹ بال کی بین الاقوامی تنظیم فیفا کے دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے عالمی کپ میں پہنچنے کے لیے تہران میں ہونے والے ایک میچ کو دیکھنے کے لیے 4,000 عورتوں کو اجازت دی۔

1۔ ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے

سڑک پر کھڑے ایک آدمی نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ (© AFP/Getty Images)
ایرانی دارالحکومت تہران میں 16 نومبر کو پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران آنسو گیس سے بچنے کے لیے ایک ایرانی اپنے منہ کو بچا رہا ہے۔ (© AFP/Getty Images)

"بیزار آ چکے” ایرانی عوام حکومتی بدعنوانی اور مظالم کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے نومبر میں سڑکوں پر نکل آئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد انقلاب کے قانونی جواز کو درپیش سنگین ترین خطرے کے ردعمل میں ایران کے لیڈروں نے مظاہرین کے خلاف کی جانے والی وحشیانہ کاروائی پر پردہ ڈالنے کی خاطر انٹرنیٹ کے بلیک آؤٹ کے ساتھ ساتھ 1,500 کے قریب مظآہرین کو ہلاک کیا۔