4 جولائی کو آتشبازی سے آسمان جگمگا اٹھتا ہے [وڈیو]

امریکہ میں لوگوں کی ایک اکثریتی تعداد کا 4 جولائی کے دن کا اختتام بیٹھنے سے، نظریں آسمان پر لگانے سے اور آتشبازی کے ایک ایسے شو کو دیکھنے سے ہوتا ہے جو روشنیوں، رنگوں اور آوازوں سے آسمان کو بھر دیتا ہے اور امریکہ کے یوم آزادی پر دِل میں حب الوطنی کے تفاخر کا احساس بیدار کر دیتا ہے۔

آتشبازی کے مظاہرے کا آغاز ایک سالانہ روایت ہے جس کا آغاز جان ایڈمز نے کیا جو ملک کے دوسرے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ  اس کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ صدر ایڈمز نے آتشبازی کو یوم آزادی کے جشنوں کا ایک  اہم جزو قرار دیا۔ اپنی اہلیہ ایبی گیل کے نام ایک خط میں صدر نے تحریر کہ اِن تقریبات میں آج کے بعد آنے والے تمام وقتوں میں "گھنٹیاں، آگ کے الاؤ اور چراغاں [آتشبازیاں]" شامل ہونے چاہییں۔

زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ ایڈمز کی روح اس بات پر خوش ہوگی کہ قوم نے اُن کی نصیحت پلے باندھی اور وقت گزرنے کے باوجود اس پر عمل کیا۔

امریکہ کی آتشبازی کی صنعت کی ایسوسی ایشن کے مطابق اس برس 4 جولائی کو ملک کے طول و عرض میں 16,000 سے زائد آتشبازی کے مظاہروں کا اہتمام کیا جائے گا۔  نیویارک، بوسٹن، نیش وِل، سان ڈی ایگو اور شکاگو کے شہروں میں آتشبازی کے سب سے بڑے مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جولی ہکمین کہتی ہیں، "اِن میں سے بعض مظاہروں کی پیشگی منصوبہ بندی ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل شروع کر دی جاتی ہے۔"

دنیا میں آتشبازی کی سب سے بڑی کمپنیوں میں شمار ہونے والی 'پائرو شوز اِنک' نامی کمپنی کے انتظامی امور کے ڈائریکٹر، جیمز وڈ بتاتے ہیں کہ اُن کی کمپنی اس سال " پہلے کی نسبت فائرنگ کے زیادہ کمپیوٹرائز نظاموں کا استعمال متعارف کر رہی ہے جس میں سیکنڈ کے کچھ حصے کے برابر درستگی دیکھنے کو ملے گی۔ "

وڈ کہتے ہیں، "چار جولائی ہر سال —  کسی حد تک آتشبازی کا ہر ایک مظاہرہ  — حب الوطنی کا ایک انتہائی توانا احساس اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔"