11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکیوں نے انسانیت کو اپنے بہترین روپ میں دیکھا

ستمبر 2001  کے نیویارک، ورجینیا اور پنسلوینیا میں حملوں کے بعد دنیا بھر کے ممالک اور لوگ امریکہ کی مدد کو آئے۔

پندرہ سال بعد، براڈوے کے ایک  مقبول غنائیہ کھیل میں اِن حملوں کے بعد امریکیوں سے متعلق احساسات اور حمایت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

' کم فرام فار اوے ' [دور دراز سے آنے والے مسافر] میں اُن 6,600  فضائی مسافروں کی کہانی بیان کی گئی ہے جن کے طیاروں کو 11 ستمبر 2001  کے حملوں کے بعد امریکہ کی فضائی حدود بند کرنے کی وجہ سے کینیڈا کے علاقے نیو فاؤنڈ لینڈ میں اترنا پڑا۔ گینڈر نامی 10,000 آبادی والے اس قصبے  میں اُن کی آمد اُس 'آپریشن ییلو رِبن' کا حصہ تھی جو کینیڈا نے امریکہ میں اپنی منازلِ مقصود پر نہ اتر سکنے والے  طیاروں کا رُخ موڑنے کے نتیجے میں شروع  کیا تھا۔

Cast members of play taking selfie onstage (© Walter McBride/WireImage via Getty Images)
براڈواے کے غنائیہ کھیل 'کم فرام فار اوے' کے فنکار نیویارک سٹی میں اپنےفن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ (© Walter McBride/WireImage via Getty Images)

یہ غنائیہ کھیل مارچ کے مہینے میں اُس وقت شہ سرخیوں کا موضوع بنا جب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے، صدارتی مشیر ایوانکا ٹرمپ اور اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی کے ہمراہ اس کھیل کو دیکھا۔ ٹروڈو نے کھیل دیکھنے کے بعد کہا، "دنیا کو یہ پتہ چلتا ہے کہ تاریک ترین لمحات کے دوران ایک دوسرے پر کیسے انحصار کیا جاتا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کو کس طرح پہنچا جاتا ہے۔"

تجدید شدہ مقصد

کیون ٹیورف 2001ء میں گینڈر میں پھنس جانے والے امریکیوں میں شامل تھے۔ اُن کی کہانی ' کم فرام فار اوے ' میں بیان کی جانے والی کئی ایک کہانیوں میں سے ایک ہے۔

Close-up of Kevin Tuerff (© Chris So/Toronto Star via Getty Images)
کیون ٹرف۔ (© Chris So/Toronto Star via Getty Images)

اپنی کتاب 'چینل آف پیس' میں ذاتی کہانی بیان کرنے والے ٹیورف کہتے ہیں، " یہ کہانی رحمدلی اور احساسات اور اجنبیوں کے ساتھ سلوک کرنے سے متعلق ہے۔"

ٹیورف مزید کہتے ہیں، " نیو فاؤنڈ لینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے، گینڈر نے اِس خوفناک دن جو کچھ کیا، یہ اُس کی ایک خوبصورت داستان ہے۔ انہوں نے ہمیں انسانیت کا بہترین چہرہ دکھایا۔"

جب ٹیورف  گینڈر سے ریاست ٹیکسس میں واقع اپنے آبائی علاقے میں پہنچے تو اُنہوں نے اُس دن کی یاد تازہ کرنے کی خاطر 'پے اِٹ فارورڈ 9/11' [یعنی9/11 کے لیے پیشگی ادائیگی] کے نام سے ایک سلسلہ شروع کیا۔ ٹیورف بتاتے ہیں، " میں نے 40 افراد پر مشتمل اپنا چھوٹا سا کاروبار بند کیا اور اس کے ہر ایک فرد کو کمیونٹی کے اجنبی لوگوں کے لیے بھلائی کے کام کرنے کی خاطر 100 ڈالر کا نوٹ دیا اور کہا کہ واپس آ کر اُن کاموں کے بارے میں بات کریں۔" اُس کے بعد سے آج تک، ٹیورف ہر سال یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔

یکجہتی کے کام

ٹیورف کی کہانی کو نیویارک کے 9/11 کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے قائم کیے گئے میوزیم میں بھی بیان کی گئی ہے۔ اِس میوزیم میں 'سیڈز آف سروسز' [خدمات کے بیج ] کے نام سے ایک نئی نمائش میں اُن درجنوں اداروں اور تنظیموں کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے جنہوں نے 9/11 کے ردعمل میں مثبت کام کیا۔

براڈوے کے غنائیہ کھیل اور [ٹیورف کی] کتاب کی طرح، یہ میوزیم بھی حملوں کے بعد کے اُن دنوں کی یاد دلاتا ہے جب  دنیا کے کونے کونے میں سخاوت اور احساسات سے بھرپور اقدامات کا مظاہرہ کیا گیا۔

یکجہتی کے اظہار میں، اتحادی اور حریف یکساں طور پر شامل ہوئے۔

پوپ جان پال دوئم، امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو سب سے پہلے پیغام بھیجنے والوں میں شامل تھے۔ کشیدہ سفارتی تعلقات کے باوجود، ایران اور شمالی کوریا نے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔ کینیڈا کے علاوہ، کیوبا سمیت بہت سے ممالک نے طیاروں کو اترنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی اپنی فضائی حدود کی پیشکش کی۔

Colorful illustration of African cows (Thomas Gonzalez)
کینیا کے مسائی قبیلے کی وہ کہانی بچوں کی کتاب، "امریکہ کے لیے چودہ گائیں" میں بیان کی گئی ہے جس میں اپنے مقدس جانور کے تحفے کے ذریعے امریکہ کو تسلی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ (Thomas Gonzalez)

امداد کی پیشکش میں عام شہری بھی حکومتوں کے ساتھ شامل تھے:

  • حملوں کا شکار ہونے والوں کے سوگ میں ہنگری کے فائربریگیڈ کے عملے نے اپنے ٹرکوں پر سیاہ رِبن باندھے۔
  • موم بتیاں روشن کر کے گرین لینڈ اور آذربائیجان جیسے دور دراز ممالک میں دعائیہ تقریبات منعقد کیں گئیں۔
  • بلجیئم کے شہر برسلز میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں سینکڑوں لوگ اکٹھے ہوئے۔
  • حملوں کے بعد سوئٹزرلینڈ کے قومی محکمہِ ڈاک نے ایک دن کے لیے امریکہ بھیجے جانے والے تمام خطوط اور چھوٹے پیکٹ بلا معاوضہ بھجوائے۔
  • فرانسیسی اخبار لا موند نے اپنے صفحہ اول پر “Nous Sommes Tous Américains"  [یعنی ہم سب امریکی ہیں] کے عنوان سے ایک اداریہ شائع کیا۔

یہ مضمون فری لانس مصنف، ما ایو آلسپ نے تحریر کیا۔