ٹرکوائز ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ کے آرٹسٹ افغانستان کو بدل رہے ہیں

صغریٰ حسینی 9 برس کی تھیں جب ان کے والد کابل میں ہونے والی ایک لڑائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آ کر ہلاک ہوگئے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد صغریٰ کو آرٹ میں سکون ملا۔ آج حسینی افغانستان کی سب سے زیادہ ہونہار نوجوان آرٹسٹ ہیں اور وہ اپنی خطاطی اور پیچیدہ قسم کی چھوٹی پینٹنگز کی نمائشیں دنیا بھر کے شہروں میں کر رہی ہیں۔

حسینی کا کہنا ہے، “میرے لیے آرٹ تخلیق کرنا، اپنے ماضی کے ساتھ اپنا تعلق جوڑنا ہے — یعنی اپنے خاندان کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ تعلق جوڑنا ہے جو مجھ سے پہلے چلے گئے۔” صغریٰ نے 2014ء میں ہاتھ سے پینٹ کیے گئے زیورات تیار کرنے کے لیے، ایلِس چیکولینی نامی زیورات کی برطانوی کمپنی کے ساتھ  شراکت داری کی۔

صغریٰ اپنی کامیابی کا سہرا ‘ٹرکوائز ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ’ میں اپنی تین سالہ تربیت کے سر باندھتی ہیں۔ یہ ایک برطانوی فلاحی ادارہ ہے جسے 2006ء میں امریکہ کی مدد سے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ چوب کاری، مٹی سے ظروف سازی اور قالین بافی جیسی روایتی دستکاریوں میں، اب تک سینکڑوں افغان دستکاروں اور تعمیراتی ماہرین کو تربیت فراہم کرچکا ہے۔ ( ٹرکوائزماؤنٹین یا کوہِ فیروزہ کا نام افغانستان کے 12ویں صدی کے ایک گم شدہ شہر کے نام کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ یہ فلاحی ادارہ پرنس چارلس کی درخواست پر قائم کیا گیا تھا۔)

اسی انسٹی ٹیوٹ میں حسینی نے اپنے رنگ، کاغذ، حتیٰ کہ اپنے برش بنانا بھی سیکھے۔ ان کا کہنا ہے، “یہ بات اہم ہے کہ میں ہر چیز خود بنا سکتی ہوں۔”

Sughra Hussainy seated, drawing (Courtesy of Turquoise Mountain)
افغان آرٹسٹ صغریٰ حسینی کہتی ہیں، “جسم کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن روح کو آرٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔” (Courtesy photo)

صغریٰ کا شمار افغانستاں کے ان کئی ایک آرٹسٹوں اور دستکاروں میں ہوتا ہے، جن کے فن پاروں کو سمتھ سونین انسٹی ٹیوشن میں  ٹرکوائز ماؤ نٹن:آرٹسٹ افغانستان کو بدل رہے ہیں کے عنوان سے ہونے والی نمائش میں رکھا گیا ہے جو اکتوبر تک جاری رہے گی۔

” آرٹ آئینے کی مانند ہے۔ اس قسم کے آرٹ کے ذریعے میں، افغانستان میں پائی جانے والی اپنی ثقافت اور اپنی کہانی کو دکھانا چاہتی ہوں۔” انہوں نے یہ بات اپنے واشنگٹن میں قیام کے دوران، سمتھ سونین کے مہمانوں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہی۔

صغریٰ کہتی ہیں کہ آج افغانستان کی صورت حال، طالبان کے دنوں کے ان حالات سے کہیں زیادہ بہتر ہے جب عورتیں گھروں سے نہیں نکل سکتی تھیں یا تعلیم حاصل نہیں کرسکتی تھیں۔

Artists working on paintings (Courtesy of Turquoise Mountain)
(Courtesy photo)

یورپ سے چین تک جانے والی قدیم شاہراہِ ریشم میں، افغانستان کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ اسی کے نتیجے میں اس ملک میں ہندوستان، ایران اور وسط ایشیا کی روایات پائی جاتی ہیں۔

سمتھ سونین کی نمائش میں انہی روایات کو پیش کیا گیا ہے۔ اس نمائش کو کابل کے قدیم شہر کے علاقے، مراد خانی کی طرز پر ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں ٹرکوائز ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ واقع ہے۔

سمتھ سونین کی نمائش میں ایک “کاروان سرائے” بھی شامل ہے۔ اس قسم کی صحن والی یہ ایسی سرائے ہوتی تھیں جنہیں شاہراہِ ریشم کے مسافر اکٹھا ہونے اور آرام کرنے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ نمائش میں آنے والے لوگ افغان توشکوں پر بیٹھ سکتے ہیں اور دستکاروں کے بنائے ہوئے مٹی کے برتن، زیورات اور  قدرتی رنگوں اور مقامی بھیڑوں کی اون سے بنائے گئے قالین دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن  جدید ٹیکنالوجی کے اثرات بھی نمایاں ہیں: ایک باہمی تعامل کی ٹچ سکرین کی صورت میں افغانستان  کےنقشے سے لوگ خطے کی تاریخ اور فنی روایات کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دیوار پر آپ کو مہمانوں کی حالیہ ترین رائے اور تبدیل ہوتے منرجات نظر آئیں گے۔

صغریٰ کہتی ہیں کہ ان کے شہپارے ہی ان کی زندگی ہیں۔ “میں یہی کام کرنا چاہتی ہوں اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ … میں اپنی ننھی منی پینٹنگز کے ذریعے اپنے لوگوں کی کہانی ترتیب دینا چاہتی ہوں اور دوسرے ملکوں کو اپنی کہانی بتانا چاہتی اور ثقافت دیکھانا چاہتی ہوں ۔”