امریکہ کا تفریحی مشغلہ، بیس بال پہلے سے کہیں زیادہ بین الاقوامی کھیل بن گیا

جب 27 سالہ نئے باصلاحیت  کھلاڑی، ایم فو ’’گفٹ‘‘  نگو پے بیس بال کی ٹیم پِٹس برگ پائریٹس کی طرف سے بیٹنگ کرنے کے لیے پہلی مرتبہ میدان میں اترے تو انہوں نے ایک پورے براعظم کو فخرمند بنا دیا۔ وہ افریقہ سے تعلق رکھنے والے، میجر لیگ [بڑے ٹورنامنٹ] میں پہنچنے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔

وہ ایسے وقت میں ٹیم میں شامل ہوئے ہیں جب امریکہ کی میجر لیگ بیس بال ٹیموں میں پہلے کسی بھی دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ بین الاقوامی کھلاڑی موجود ہیں۔ کھیل کے سیزن کے افتتاحی دن، ٹیموں میں تقریباً 30 فیصد کھلاڑی ایسے تھے جو امریکہ سے باہر دوسرے ممالک یا پورٹو ریکو میں پیدا ہوئے تھے۔

اِن فیلڈر کی پوزیشن پر کھیلنے والے تیز رفتار اور  پھرتیلے، نگوپے کا تعلق جنوبی افریقہ کے شہر رینڈ برگ سے ہے۔ وہ 2009ء  سے مائینر لیگ [چھوٹے ٹورنامنٹوں] میں کھیلتے چلے آ رہے ہیں۔

Baseball player starting to run after hitting ball (© AP Images)
جنوبی افریقہ کے ایم فو ’گفٹ‘ نگوپے نے 26 اپریل کو پِٹس برگ پائریٹس کے لیے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی پہلی بال کو ہٹ کرکے بیس حاصل کی۔ (© AP Images)

 

19 ویں صدی میں امریکہ میں ایجاد ہونے والا بیس بال، کرکٹ جیسا بلے اور گیند کے ساتھ کھیلا جانے والا ایک کھیل ہے۔ اسے اکثر ایک قومی تفریحی مشغلہ کہا جاتا ہے۔

تاہم بیس بال محض امریکی جنون ہی نہیں ہے۔ اس کھیل کے جذباتی کھلاڑی اور شائقین لاطینی امریکہ کے طول وعرض، جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی موجود ہیں۔  یہ  کھیل چھوٹے پیمانے پر، دیگر ممالک میں بھی کھیلا جاتا ہے۔  حال ہی میں ہونے والے ‘2017 کے بیس بال کے عالمی کلاسیکی’ مقابلوں میں چین، اٹلی اور اسرائیل سمیت 16 ممالک نے شرکت کی۔ یہ ٹورنامنٹ اس کھیل کی بین الاقوامی حیثیت اور مقبولیت کا ایک مظاہرہ ہے۔

امریکہ میں میجر لیگ کے اس سال کے سیزن میں امریکی کھلاڑیوں کے علاوہ، 259  کھلاڑی ایسے ہیں جن کا تعلق 19 ممالک اور دیگرعلاقوں سے ہے۔ اس تعداد نے عشروں پرانے 246  غیرملکی کھلاڑیوں کی تعداد کے ریکارڈ کو مات کردیا ہے۔

 

Baseball_chart Urdu
(State Dept./Sara G. Wilkinson)

 

کھیل کی بین الاقوامی مقبولیت میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب درجن بھر برسوں کی غیر حاضری کے بعد، بیس بال کو ایک اولمپک کھیل کی حیثیت سے 2020ء میں ٹوکیو میں ہونے والےگرمائی کھیلوں میں دوبارہ شامل کیا جا رہا ہے۔

بڑی ٹیموں میں، ٹیکسس رینجرز کی ٹیم میں سب سے زیادہ یعنی 14 بین الاقوامی کھلاڑی ہیں۔ دوسری کئی ایک ٹیموں میں ایسے کھلاڑیوں کی تعداد 10 سے زیادہ ہے۔

نگوپے کے اولین میچ میں شرکت سے ایک ہفتہ پہلے، پائیریٹس نے ڈوئیڈس نیوراسکاس کو ایک میچ میں باوًلنگ  کرنے کے لیے میدان میں اتارا، اور اس طرح وہ میجر لیگ میں کھیلنے والے لیتھوا نیا کے  پہلے کھلاڑی بن گئے۔

جہاں تک نگوپے کا تعلق ہے، تو ا نہوں نے پہلی بار بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی گیند پر سنگل سکور بنا کر، میجر لیگ کے کھیل میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ باہر بیٹھے ہوئے اُن کے ٹیم کے ساتھیوں نے اس پر پُرجوش تالیاں بجائیں اور شارٹ سٹاپ کی پوزیشن پر کھڑے فیلڈر، جورڈی مرسر نے کہا "وہ ایک ارب 62 کروڑ لوگوں کی نمائیندگی کر رہے ہیں۔”

نگوپے نے نامہ نگاروں کو بتایا، "میں اس کے بارے میں بار بار خواب دیکھتا رہا ہوں۔ یہ میرے خواب کے ہر اُس پہلو پر پورا اترا ہے جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔”


بیس بال کس طرح کھیلا جاتا ہے

کھیل کا کوئی دورانیہ مقرر نہیں ہوتا۔ اِس میں نو اننگیں کھیلی جاتی ہیں۔ اگر سکور برابر ہو تو میچ لمبا بھی ہو سکتا ہے۔

ہر ٹیم کو تین آؤٹ فی اننگ ملتے ہیں۔

پِچر [باوًلر] بیٹر [بیٹسمین] کی جانب گیند پھینکتا ہے (جس کی رفتار بعض اوقات 160 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے) اور بیٹر گیند کو ہٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اُن چار بیسسز کے گرد دوڑتا ہے جو ایک دوسرے سے 27 میٹر کے فاصلے پر بنی ہوتی ہیں۔

اگر کیچ پکڑا جائے یا فیلڈنگ کرنے والا کوئی کھلاڑی، بیٹر کے پہلی بیس تک پہنچنے سے پہلے، گیند کو زمین سے اٹھا کر اِس بیس پر پھینک دے تو بیڑر آؤٹ ہوجاتا ہے۔

جب بیٹر یکے بعد دیگرے بال کو ہٹ کرنے کے لیے تین بار بلا گھماتا ہے اور ہٹ نہیں کرپاتا یا آن ٹارگٹ بالز پر بلا گھمانے میں ناکام رہتا ہے توامپائر اسے آؤٹ قرار دیتا ہے۔ اسے سٹرائیک آؤٹ کہا جاتا ہے۔

اگر پِچر چار مرتبہ غلط گیندیں پھینکے، تو بیٹر کو پہلی بیس تک "واک” کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

ہر کھلاڑی جو ہوم پلیٹ کہلانے والی چوتھی بیس پار کرجاتا ہے، وہ ایک رن بناتا ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی گیند کو ہٹ کر کے میدان کی بیرونی باڑ سے، جو عموماً 100 سے 120 میٹر تک دور ہوتی ہے، باہر پھینک دیتا ہے تو یہ ہوم رن کہلاتا ہے اور بیٹر سمیت بیس پرموجود تمام کھلاڑیوں کا سکور بن جاتا ہے۔