کیا آپ کا ملک کسی عالمگیر وبا سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

اگر دنیا کے ممالک نے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو زکام کی آئندہ عالمگیر وبا سے عالمی معیشت کو 6 کھرب  ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے عالمگیر طبی  تحفظ کے سینئر ڈائریکٹر، ٹم زائمر کہتے ہیں، “فی الوقت دنیا فطری طور پر پھوٹ پڑنے، حادثاتی طور پر یا ا دانستہ طور پر پھیلائے جانے والی وبائی بیماریوں کی روک تھام، کھوج اور ان کے خاتمے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔”

امریکہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور دوسرے ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ بھی یہی کچھ کریں۔ مثال کے طور پر حالیہ برسوں میں امریکہ نے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے ہیں:

زائمر نے اکتوبر کے اواخر میں یوگنڈا کے دارالحکومت، کمپالا میں منعقدہ صحت کی عالمی کانفرنس میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی۔ وہ کہتے ہیں “ہمیں اندازہ ہے کہ وبائیں روکنے میں ناکامی اور جانوں کے ضیاع کی قیمت بیماریوں کی روک تھام کے لیے ادا کی جانے والی قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔”

دولت سے پہلے صحت

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹِلرسن کے مطابق دنیا بھر کے ممالک کو بیماریوں کی وباؤں سے نمٹنے کی تیاری میں مدد دینا صحت کے حوالے سے عالمگیر حکمت عملی کا مرکزی نکتہ ہے۔

وزیرخراجہ نے اکتوبر میں اپنی ایک تقریر میں کہا، “وبائی بیماریوں کی روک تھام، کھوج اور ان سے نمٹنے کے لیے عالمگیر صلاحیت پیدا کرنے میں ‘طبی تحفظ  کا عالمی ایجنڈا ‘ ایک انتہائی اہمیت کا حامل قدم ہے۔”

2014 میں افریقہ میں ایبولا کی وبا پھوٹ پڑنے سے کچھ ہی عرصہ پہلے جب طبی تحفظ کے  عالمی ایجنڈے کا آغاز ہوا تو صرف 30 فیصد ممالک کے پاس صحت عامہ کے حوالے سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی سہولیات موجود تھیں ۔

وزیرخارجہ نے حال ہی میں آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، جمہوریہ کوریا اور برطانیہ کی تعریف کی ہے جنہوں نے دنیا بھر میں طبی تحفظ کے لیے اچھے خاصے وسائل مختص کیے ہیں۔

ٹلرسن کہتے ہیں، “ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ ہمیں اپنی رفتار قائم رکھنی چاہیے۔” وزیر خارجہ نے “صحت کے تحفظ کو دیگر شعبہ جات میں ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل” قرار دیا۔

وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ میں افریقی رہنماؤں سے صدر ٹرمپ کی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “صحت کے بغیر خوشحالی کا حصول ممکن نہیں ہے۔”