ہر کوئی اچھے اور مکمل اعداد پسند کرتا ہے۔  لہذا جب امریکہ کی سٹاک مارکیٹ (بازار حصص کے) مشہور ترین پیمانے نے 20 ہزار کی حد عبور کی تو وال سٹریٹ کی فضا بلند و بانگ نعروں سے گونج اٹھی۔

ایک سو بیس سالہ پرانے ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج یا (ڈاؤجونز کے صنعتی اشاریے) نے صدارتی انتخابات کے بعد تین ماہ سے کم مدت میں اپنی شرح کا سابقہ ریکارڈ توڑا تو اس سے امریکہ کی معیشت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج (ڈی جے آئی اے) حقیقت میں کیا چیز ہے؟ کیا عام امریکیوں کے لیے یہ اہم ہے؟ کیا اس کا امریکہ سے باہر رہنے والوں پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

ڈاؤ، سٹاک ایکسچینج میں امریکہ کی تیس بڑی کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت پر نظر رکھتا ہے۔ ان کمپنیوں میں ایپل، کوکا کولا، والٹ ڈزنی، میکڈونلڈز، بوئنگ، مائیکروسافٹ اور جنرل الیکٹرک شامل ہیں۔

جنرل الیکٹرک وہ واحد ادارہ ہے جو تقریباً ایک درجن اولین کمپنیوں میں سے اب تک اس اشاریے سے وابستہ ہے۔ ڈاؤ کی بنیاد مئی 1896 میں ‘وال اسٹریٹ جنرل’ کے ایک بانی نے اس خیال کے تحت رکھی تھی تاکہ اس مختصر طریقے سے تجارتی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو جانچا جا سکے۔

جب سرمایہ کار  سمجھتے ہیں کہ کسی کمپنی کی آمدنی اور ترقی کے امکانات روشن ہیں، تو وہ اس کمپنی کے حصص بڑی مقدار میں خریدتے ہیں جن کی بنا پر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ امرامریکی معیشت کی مضبوطی کا اظہار ہوتا ہے۔

Miniature bronze bull statue (© AP Images)
نیویارک سٹاک ایکسچینج کے باہر یادگاری تحائف کی فروخت کے ایک سٹینڈ پر قریب ہی واقع 3.4 میٹر اونچے اور 3,200 کلو گرام وزنی “بپھرے ہوئے بھینسے” کے کانسی کے اصلی مجسمے کی نقل رکھی ہوئی ہے۔ بھینسے یا بُل مارکیٹ کا مطلب حصص فروخت کرنے والوں کی نسبت خریداروں کی تعداد کا زیادہ ہونا ہے۔ (© AP Images)

کاروبار کےاس اشاریے میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مارکیٹ کو بُل مارکیٹ (بھینسے کی مارکیٹ ) کہتے ہیں اور لوگ ایسی مارکیٹ میں حصص کی خریداری کرتے ہیں۔ مندی کا شکار گرتی ہوئی مارکیٹ کو “بیئرز” (ریچھ) مارکیٹ کہتے ہیں اور اس دوران حصص فروخت کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات بڑی کثیر تعداد میں فروخت کیے جاتے ہیں۔ بُل مارکیٹ کا دورانیہ کئی سالوں پر محیط ہو سکتا ہے اور اسی طرح کاروبار میں سست روی کا دورانیہ بھی طویل ہو سکتا ہے۔

گیلپ کے ایک سروے کے مطابق، امریکہ کی نصف آبادی نے حصص خرید رکھے ہیں۔ اسی طرح لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے میوچل فنڈ اور پنشن فنڈ کی صورت میں بالواسطہ  حصص خریدے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار امریکہ کے مجموعی حصص کے 20 فیصد کے مالک ہیں۔

ابتدائی طور پر دو اعداد پر مشتمل شروع کیا جانے والا ڈاؤ، 1972ء میں 1,000 اور 1995ء  میں 5,000 کی سطح  تک   پہنچا۔ ایک دہائی قبل آنے والے عالمی اقتصادی بحران میں تمام حصص کی قیمتیں گر کر نصف پر آ گئی تھیں۔ اس کے بعد سے اب تک اس میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

اگرچہ ڈاؤ کا اپنا ایک امتیازی مقام ہے مگر کئی ماہرین اس کے حریف اداروں پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ڈاؤ سے کہیں زیادہ حصص کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان میں “سٹینڈرڈ اینڈ پُور” کا 500  کمپنیوں کا اشاریہ بھی شامل ہے۔ تاہم، اتار چڑھاؤ کے تمام پیمانے ایک ہی سمت میں سفر کرتے ہیں۔

‘آر سٹریٹ انسٹیٹیوٹ’ نامی ایک معاشی تھِنک ٹینک کے ایک ماہر، ایلیکس جے پولوک کے حساب سے 1917ء  کے بعد سے، افراط زر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈاؤ کا اشاریہ 2.3  فیصد سالانہ کی رفتار سے  بڑھا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ” بادی النظر میں، اگرچہ یہ زیادہ بڑا اضافہ نہیں ہے مگر ایک طویل عرصے پر محیط یہ اضافہ ایک عظیم منافع بن جاتا ہے۔” اور اس سے لوگ زیادہ دولت مند ہو جاتے ہیں۔

Man in hat smiling, with people behind him viewing monitors (© AP Images)
120 برس قدیم ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج کے سنگ میل کی سطح پر پہنچنے پر، ایک تاجر’ڈاؤ 20,000′ والی ٹوپی پہنے ہوئے ہے۔ ایک دہائی پہلے آنے والے عالمی معاشی بحران کے بعد، تیس بڑی کمپنیوں کے حصص کی مالیت میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ (© AP Images)

تو ایک دانشمند یا محتاط سرمایہ کار کو کیا کرنا ہوتا ہے؟

1973ء  میں ‘اے رینڈم وا ک ڈاؤن وال سٹریٹ’ کے عنوان سے ایک کلاسیکی کتاب لکھنے والے ماہرِ معاشیات، برٹن میلکائیل کا کہنا ہے کہ جب مارکیٹ میں خوشحالی کا احساس پایا جاتا ہو تو ” مناسب لوگوں کو سوالات پوچھنے چاہیئیں۔” انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ وہ بندر جن کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہوں اور نشانے پر تیر پھینک رہے ہوں ماہرین کی نسبت بہتر طریقے سے حصص کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

میلکائیل کا کہنا ہے، ” ایک دن ایسا آئے گا جب ڈاؤ 25,000 کی سطح پر پہنچ جائے گا مگر وہ وقت  آج سے دس برس آ سکتا ہے۔ اس بات کا جتنا آپ درست اندازہ کر سکتے ہیں میں بھی اتنا ہی کر سکتا ہوں۔”