امریکی صدور کے تاریخ ساز ایگزیکٹیو آرڈر – ماضی پر ایک نظر

صدر ٹرمپ ایک ایگزیکٹیو آرڈر پراپنے دستخط دکھا رہے ہیں۔ (© AP Images)

20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد، صدر ٹرمپ نے بہت سی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ دیگر امور کے علاوہ ان دستاویزات میں، صحت کی دیکھ بھال اور بین الاقوامی تجارت کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسیاں بیان کی گئی ہیں۔

ان میں سے بعض اقدامات کو ایگزیکٹیو آرڈرز یا انتظامی احکامات کہا جاتا ہے۔ دوسرے اقدامات کو وائٹ ہاؤس کا یا صدارتی میمورنڈم یعنی یاد داشت سمجھا جاتا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان کیا فرق ہے؟

ایگزیکٹیو آرڈر بمقابلہ میمورنڈم

وفاقی ملازمین کے لیے، ایگزیکٹیو آرڈر اور میمورنڈم دونوں ہی قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، یہ اتنے ہی موثر ہوتے ہیں جتنے  کہ کانگریس کے منظور کردہ اور صدر کی طرف سے دستخط کردہ قوانین ہوتے ہیں۔

تاہم ان میں کچھ باتیں مخلتف بھی ہوتی ہیں۔

ایگزیکٹیو آرڈروں پر نمبر لگائے جاتے ہیں اور یہ امریکی حکومت کے اقدامات کے سرکاری ریکارڈ، وفاقی رجسٹر میں شائع کیے جاتے ہیں۔ میمورنڈم کا وفاقی رجسٹر میں شائع کیا جانا ضروری نہیں ہوتا۔

ایگزیکٹیو آرڈروں کے ضمن میں یہ صراحت کرنا لازمی ہوتا ہے کہ ان کی بنیاد امریکی آئین یا قانون پر مبنی ہے۔ ان کے لیے یہ بتانا بھی لازمی ہوتا ہے کہ ان پر عمل درآمد پر کتنا خرچہ آئے گا۔ میمورنڈم کے نتیجے میں اٹھنے والے اخراجات کا بتانا ضروری نہیں ہوتا بشرطیکہ یہ اخراجات 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ نہ ہوں۔

سوائے ایک کے، باقی تمام صدور نے ایگزیکٹیو آرڈروں اور میمورنڈموں پر دستخط کیے ہیں۔ یہ استثنا صرف ولیم ہنری ہیریسن کو حاصل ہے، جن کا اپنے عہدے پرصرف ایک ماہ کام کرنے کے بعد انتقال ہو گیا۔ فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ  واحد صدر ہیں جو دو مدتوں سے زیادہ صدر رہے۔ انھوں نے کسی بھی دوسرے صدر کے مقابلے میں سب سے زیادہ یعنی 3,721 ایگزیکٹیو آرڈروں پر دستخط کیے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق عظیم کساد بازاری اور دوسری عالمی جنگ سے تھا۔

بعض ایگزیکٹیو آرڈروں نے تاریخ کا رُخ تبدیل کر دیا۔ ان میں مشہور ترین یہ ہیں:

غلامی کے خاتمے کا اعلان

Abraham Lincoln's Preliminary Emancipation Proclamation behind glass (© AP Images)
ابراہم لنکن کا غلامی کے خاتمے کا ابتدائی اعلان نیو یارک کے ریاستی دارالحکومت میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ (© AP Images)

صدر ابراہم لنکن نے  یکم جنوری، 1863 کو غلاموں کی آزادی کے اعلان پر دستخط کیے۔ اس ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت وہ تمام غلام آزاد ہوگئے جو ان ریاستوں میں رہ رہے تھے جو خانہ جنگی کے دوران وفاق کے کنٹرول میں نہیں تھیں۔ چونکہ جنوبی ریاستوں نے وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی اور وہ وفاق سے الگ ہو گئی تھیں، اس لیے فوری طور پر اس آرڈر کا بہت کم اثر ہوا۔ مگر اس سے یہ بات یقینی ہوگئی کہ ایسے تمام غلام آزاد ہوگئے جو فرار ہوکر شمالی ریاستوں میں آ گئے تھے۔

نیا اقتصادی پروگرام

Franklin D. Roosevelt at desk surrounded by men standing (© AP Images)
صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ 1933ء میں وائٹ ہاؤس میں ایک مسودۂ قانون پر دستخط کر رہے ہیں۔ (© AP Images)

عظیم کساد بازاری کے دوران، صدر روزویلٹ نے سِول ورکس ایڈمنسٹریشن کے قیام کے لیے 1933ء  کا ایک ایگزیکیٹو آرڈر استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں سرکاری شعبے میں روزگار کی تقریباً 40 لاکھ نئی اسامیاں پیدا ہوئیں۔ 1934ء کے ایک آرڈر کے ذریعے، دیہی علاقوں میں بجلی پہنچانے والا ایک ادارہ قائم کیا گیا تا کہ ملک کے پسماندہ  دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بجلی کی سہولت مہیا کی جا سکے۔

فوج میں نسلی امتیاز کا خاتمہ

1948ء میں، دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد، صدر ہیری ٹرومین نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے جس سے امریکی فوج میں نسلی تفریق کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہوگیا۔ اس حکمنامے کے الفاظ بہت سادہ تھے: "مسلح افواج میں تمام لوگوں کے ساتھ  ان کی نسل، رنگ، مذہب یا قومی تشخص کا لحاظ کیے بغیر، برابر کا سلوک کیا جائے گا اور انہیں برابر کے مواقع دیے جائیں گے۔”  اس آرڈر پو دستخط ہونے سے پہلے، مسلح افواج کے اراکین نسل کی بنیاد پر الگ الگ گروپوں میں تربیت حاصل کرتے اور کام کرتے تھے یہاں تک کہ وہ جنگ بھی نسلی بنیادوں پر ترتیب دیے گئے علیحدہ علیحدہ  گروپوں کی شکل میں لڑتے تھے۔

زمانے کی علامت

ہزاروں ایگزیکٹیو آرڈروں اور میمورنڈمز میں سے، تاریخی اعتبار سے  چند ایک ہی اتنے اہم ہوں گے جتنے اہم وہ ہیں جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ تا ہم یہ سب، اہم موضوعات پر صدر کی رائے کا مظہر ہوتے ہیں اور ان سے ہمیں ان ادوار کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جن میں متعلقہ صدر نے خدمات انجام دیں ہوتی ہیں۔