نیٹو اتحادیوں کا مشترکہ دفاع پر اپنے حصے کے اخراجات میں اضافہ

امریکی فوجی، پولینڈ میں ایک تربیتی مشق کے آغاز کے موقعے پر پولینڈ، برطانیہ، رومانیہ، لتھوینیا اور کینیڈا کے فوجیوں کے ہمراہ کھڑے ہیں۔ (U.S. Army/Staff Sergeant Brian Kohl)

نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یعنی نیٹو کے یورپی اراکین اور کینیڈا نے 2017ء میں اپنے دفاعی اخراجات میں 4.3 فیصد اضافہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ تمام اقوام کے دفاع میں مساویانہ سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کی منزل کی جانب ایک قدم ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل، جِنز سٹولٹنبرگ کہتے ہیں، “ہم نے درست سمت میں آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے  …. اور ہمارا ارادہ اسے جاری رکھنے کا ہے۔”

صدر ٹرمپ نے 29 اراکین پر مشتمل اُس اجتماعی اتحاد میں اپنا جائز حصہ ڈالنے کے لیے تمام اتحادیوں پر زور دیا ہے جس نے 1949ء سے لے کر اب تک مغربی جمہوریتوں کا دفاع کیا اور یورپ کو پُرامن رکھا۔

25 مئی کو برسلز میں ہونے والے نیٹو کے لیڈروں کے اجلاس میں صدر ٹرمپ نے اپنے ساتھی سربراہانِ مملکت اور حکومتی سربراہوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا وعدہ  پورا کرنے کی جانب قدم اٹھائیں۔ امریکہ، ایستونیا، یونان، پولینڈ، رومانیہ اور برطانیہ وہ چھ ممالک ہیں جو پہلے سے ہی اِس وعدے کو نبھا رہے ہیں۔ رومانیہ نے یہ حد 2017 میں عبور کی ہے جبکہ لاتھویا اور لتھوینیا 2018 میں اپنا وعدہ پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

اتحادیوں نے 2024ء تک اپنے دفاعی اخراجات کا 20 فیصد بھاری ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔ بھاری ہتھیاروں کی خریداری سے نیٹو کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

صرف ایک ماہ بعد سٹولٹنبرگ نے اعلان کیا ہے کہ دفاع میں کی جانے والی برسوں کی کٹوتیوں کے بعد، یورپی اتحادی اور کینیڈا مسلسل تین سال سے اپنے دفاع پر خرچ کی جانے والی رقومات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

اضافے کی شرح تیزی سے بڑھ  رہی ہے۔ 2015ء میں یہ شرح 1.8 فیصد تھی جو 2016ء میں بڑھکر  3.3  اور 2017ء میں 4.3  ہو چکی ہے۔ 2014ء کے مقابلے میں آج  وہ اپنے دفاع پر کم و بیش 46 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔

سٹولٹنبرگ نے کہا، “میں صدر ٹرمپ کی اس بات کا خیرمقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے دفاع اور مشترکہ طور پر بوجھ اٹھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔” مگر سٹولٹنبرگ نے اِس بات پر زور دیتے ہوئے کہا، “یورپی اتحادیوں کو دفاع پر مزید سرمایہ کاری امریکہ کو خوش کرنے کے لیے نہیں … بلکہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ اُن کے اپنے مفاد میں ہے۔”

سٹولٹنبرگ کا کہنا تھا کہ نیٹو کو “بڑی افواج، زیادہ ہتھیار، زیادہ … فضا میں طیاروں میں ایندھن بھرنے [اور] ہوائی دفاع” اور بہتر تیاری اور مستعدی کی ضرورت ہے تا کہ نیٹو زیادہ تیزی سے اپنی افواج کو حرکت میں لا سکے۔

اسی دن امریکی وزیر دفاع، جیمز میٹس نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ نیٹو کے اجتماعی دفاع  کے لیے امریکی عزم کی ضمانت “فولادی’ ہے۔

میٹس نے کہا کہ بالٹک ریاستوں اور پولینڈ میں امریکی دستے “متحدہ نیٹو کی درخشاں مثال ہیں۔ ہمارا اتحاد ایک لمبے عرصے سے یورپ میں استحکام قائم رکھنے والی قوت  کا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔”