صدر کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کی اہمیت

دنیا بھر میں متوقع طور پر کروڑوں لوگ 5 فروری کو صدر ٹرمپ کا سٹیٹ آف دی یونین خطاب سنیں گے۔

کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے یہ خطاب صدر کے لیے گزشتہ برس کی کامیابیوں کا جائزہ لینے اور آئندہ برس کے لیے اپنا لائحہ عمل پیش کرنے کا  ایک موقع ہوتا ہے۔

تاہم ہر سال جنوری یا فروری میں "یو ایس کیپیٹل” کے نام سے مشہورامریکی کانگریس کی عمارت میں کی جانے والی یہ تقریر امریکی جمہوریت کی عملی شکل کی مظہر ہے۔ صدور کی حلف وفاداری کی تقریبات اور نمایاں شخصیات کی ریاستی سطح پر آخری رسومات کے علاوہ یہ واحد موقع ہوتا ہے جب وفاقی حکومت کی تمام شاخیں ایک ہی جگہ جمع ہوتی ہیں۔ اس موقع پر صدر انتظامیہ کی نمائندگی کرتا ہے، ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے نمائندے، مقننہ کی جبکہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان عدلیہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

صدر کے قابل اعتماد محکمہ جاتی حکام اور مشیروں پر مشتمل کابینہ بھی اس موقع پر موجود ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے پہلی مرتبہ 28 فروری 2017 کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تب انہیں عہدہ سنبھالے ایک ماہ سے کچھ ہی زیادہ وقت ہوا تھا۔ تاہم یہ باضابطہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب نہیں تھا۔ 30 جنوری 2018 کو اپنے دوسرے خطاب میں انہوں نے اعلان کیا، "ہمارے ملک کی حالت مضبوط ہے کیونکہ ہمارے عوام مضبوط ہیں۔”

ماضی پر ایک نظر

بعض صدور کی سٹیٹ آف دی یونین تقاریر کے الفاظ  نے خاصی شہرت پائی۔

Franklin Roosevelt at lectern with officials seated around him (© AP Images)
امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ۔ (© AP Images)

فرینکلن ڈی روزویلٹ نے ‘چار آزادیوں’ کی مشہور بات 6 جنوری 1941 کو دوسری جنگ عظیم میں امریکی شمولیت بڑھانے کے حق میں کہی تھی۔ ان چار آزادیوں سے ان کی مراد تقریر کی آزادی، عبادت کی آزادی، غربت سے آزادی اور خوف سے آزادی تھی۔

George W. Bush in crowd, shaking hands (© AP Images)
صدر جارج ڈبلیو بش۔ (© AP Images)

جارج ڈبلیو بش نے 2002ء  میں سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران، عراق اور شمالی کوریا کو دہشت گردی کے معاون قرار دیتے ہوئے ان کے لیے ‘بدی کے محور’ کا محاورہ وضع کیا تھا۔

Ronald Reagan writing at his desk (© AP Images)
صدر رونلڈ ریگن وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ (© AP Images)

بعض اوقات یہ تقاریر اس موقع پر بلائے گئے مہمانوں کی بدولت مشہور ہو جاتی ہیں۔ صدر رونلڈ ریگن کی انتظامیہ نے 1982 میں ایک روایت شروع کی جب خاتون اول نے لینی سکٹنک کو اس موقع پر مدعو کیا۔ لینی نے دریائے پوٹامک میں گرنے والے ایئرفلوریڈا کے جہاز کے مسافر کی زندگی بچائی تھی۔ تقریر کے موقع پر خاتون اول نے انہیں اپنے ساتھ بٹھایا۔ (سائیڈ بار ملاحظہ فرمائیے)

مختصر ترین تقریر: جارج واشنگٹن (1088 الفاظ)
طویل ترین تقریر: جمی کارٹر (33667 الفاظ)
پہلی مرتبہ ٹی وی پر دکھائی جانے والی تقریر: ہیری ایس ٹرومین (1947)
پہلی مرتبہ براہ راست ویب کاسٹ کی جانے والی تقریر: جارج ڈبلیو بش (2002)

اس تقریر کا منبع امریکی آئین ہے۔ امریکی آئین کے آرٹیکل 2 میں سیکشن 3 کی پہلی شق میں لکھا ہے کہ صدر وقتاً فوقتاً کانگریس کو سٹیٹ آف دی یونین [وفاق کے حالات] کے بارے میں آگاہ کرے گا اور ضروری اور مناسب اقدامات غوروخوض کے لیے کانگریس کے سامنے پیش کرے گا۔

یادگار مہمان

لینی سکٹنک نے دریائے پوٹامک میں گرنے والے ایئرفلوریڈا کے جہاز کے مسافر کی زندگی بچائی تھی۔
– نینسی ریگن کے مہمان (1982)

روزا پارکس 1955 میں اس وقت شہری آزادیوں کی تحریک کی علامت بن گئیں جب انہوں نے بس میں اپنی نشست ایک سفید فام مسافر کے لیے خالی کرنے کے ڈرائیور کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔
– ہلیری کلنٹن کی مہمان (1999)

ہرمس موٹارڈیئر  ان فضائی میزبانوں میں شامل تھیں جنہوں نے ایک مسافر کے جوتوں میں چھپایا گیا بم ناکارہ بنانے میں مدد دی
– لارا بش کی مہمان (2002)

ویزلے آٹرے ایک تعمیراتی کارکن ہیں جنہوں نے زیر زمین چلنے والی ریل گاڑی کی پٹڑی پر اچانک دورہ پڑنے کی وجہ سے گرنے والے ایک شخص کو ٹرین کے نیچے آنے سے بچایا۔
– لارا بش کی مہمان (2007)