امریکی اشیائے خوردونوش اور ادویات کی برآمدات میں حفاظتی اقدامات کو اولین اہمیت حاصل ہے

پینسلوینیا میں “بیل اینڈ ایوانز کمپنی” کے ذبح شدہ مرغیوں کے پلانٹ میں سینکڑوں کارکن نیلے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے چوغے اور سر پر جالی دار ٹوپیاں پہنے اور ہاتھ  میں تیز دھار چھریوں کو چابک دستی سے استعمال کرتے ہوئے، روزانہ 180,000 ذبح شدہ مرغیاں صاف کرتے ہیں۔ ان کے درمیان وفاقی حکومت کے انسپکٹر ہمہ وقت موجود رہتے ہیں جو صاف کی جانے والی ہر مرغی پر نظر رکھتے ہیں۔

یہ انسپکٹر امریکی محکمہِ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی اُس فوج کا حصہ ہیں جو موقع پر موجود رہ کر امریکہ کے مرغیوں اور پرندوں کے گوشت، دیگر جانوروں کے گوشت اور انڈوں کے معیاری ہونے کو یقینی بناتی ہے۔ اس کے علاوہ جن جگہوں پر مذبح خانے ہیں وہاں پر امریکی محکمہِ زراعت کے حیوانوں کے ڈاکٹر بھی ہمہ وقت اپنی ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں۔ اگر وہ موجود نہ ہوں تو کام مکمل طور پر رک جاتا ہے۔

On left, a woman talking to a man; on right, a package of chicken with USDA stamp (© Tyrone Turner)
امریکہ کے جانوروں اور مرغیوں کو ذبحہ کرنے والے پلانٹوں میں جانوروں کے ڈاکٹروں کی موجودگی لازمی ہے۔ بصورت دیگر کام رک جاتا ہے۔ بیل اینڈ ایوانز میں صحت عامہ کے امور سے متعلق جانوروں کی ڈاکٹر، مشیل بولڈن، سپروائزر جوزف کریسافلی سے بات کر رہی ہیں۔ دنیا بھر میں بیچے جانے والے گوشت کے ہرڈبے پر یو ایس ڈی اے کی”منظوری” اور اس کی تیاری کے مقام کی ایک گول مہر لگی ہوتی ہے۔ (© Tyrone Turner)

خوراک اور ادویات کی انتظامیہ (ایف ڈی اے)، امریکہ کی 80 فیصد اشیائے خوردونوش کی نگرانی کرتی ہے۔ اِن اشیاء میں سمندری خوراک، تازہ سبزیاں اور پھل اور دودھ اور اس سے تیار کی جانے والی اشیاء شامل ہیں۔ یوایس ڈی اے اور ایف ڈی اے کی مشترکہ کاوشوں پر سالانہ دو ارب ڈالر لاگت آتی ہے۔ مگر یہ قیمت زیادہ نہیں ہے کیونکہ امریکہ کا نگرانی کا پروگرام باقی دنیا کے لیے ایک سنہری معیار قائم کرتا ہے۔

ایف ڈی اے، ادویات اور طبی آلات کو بھی کڑے معیاروں پر پرکھتا ہے۔ دیگر وفاقی تحفظاتی ادارے، اندرون اور بیرونِ ملک صارفین کو کشتیوں سے لے کر ٹرکوں اور کھلونوں تک ناقص مصنوعات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ چاہے یہ مصنوعات ملکی منڈیوں میں فروخت ہو رہی ہوں یا بیرونی ممالک کی منڈیوں میں فروخت ہونا ہوں، دونوں صورتوں میں یکساں قسم کے معیارات اپنائے جاتے ہیں۔

یوایس ڈی اے اور ایف ڈی اے دونوں اداروں میں سابقہ منتظم اعلٰی کے طور پر کام کرنے والے، مائیکل ٹیلر کا کہنا ہے، “ہمارے ہاں دو سطحی نظام نہیں ہے۔”

جب کبھی “کنزیومر پراڈکٹ سیفٹی کمشن” آگ پکڑنے والے پاجاموں یا سیسہ مِلے رنگ والے کھلونوں جیسی خطرناک مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کرکے مارکیٹ سے انہیں اُٹھوا لیتا ہے تو پھر یہ کمشن  اِن مصنوعات کی تلفی یا مرمت کی نگرانی کرتا ہے۔ اِن مصنوعات کو تیار کرنے والے ان اشیاء کو دوسرے ممالک بھی نہیں بھیج سکتے۔

People in protective gear standing in a line (© Tyrone Turner)
پینسیلوینیا میں واقع بیل اینڈ ایوانز کے پلانٹ پر کارکن کام کر رہے ہیں۔ یہاں پر ہر روز وفاقی انسپکٹروں کی زیرِنگرانی 170,000 نامیاتی اور دیگر قسم کی مرغیوں کا گوشت تیار کیا جاتا ہے۔ (© Tyrone Turner)

مرغی خانوں سے بیل اینڈ ایوانز میں ٹرکوں میں لائی جانے والی زندہ مرغیوں پر انسپکٹر نظر رکھتے ہیں اور بعد میں ذبحہ شدہ مرغیوں اور اِن کی انتڑیوں کا بھی معائنہ کرتے ہیں۔ ہر ایک ڈبے پر یو ایس ڈی اے کی “معائنہ شدہ” کی گول مہر لگائی جاتی ہے۔ اِن ڈبوں میں ہانگ کانگ بھجوائے جانے والے مرغیوں کے پنجوں کے ڈبے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ہانگ کانگ میں مرغیوں کے پنجے شوق سےکھائے جاتے ہیں۔ مویشیوں اور سوروں کا بھی اتنی ہی سختی سے معائنہ کیا جاتا ہے۔

یو ایس ڈی کی مہر اُس پلانٹ کی بھی نشاندہی کرتی ہے جہاں پر یہ اشیاء تیار کی گئی ہوتی ہیں۔ ڈبوں پر چسپاں لیبلوں میں تمام جزئیات کی تفصیل درج کرنا لازمی ہے۔

مسائل کی روک تھام میں سائنس مدد کرتی ہے

نگرانی کا یہ عمل 1906ء میں گوشت پیک کرنے کی صنعت میں گندے ماحول میں گوشت پیک کرنے کے خلاف عوام کے شدید احتجاج  پر شروع کیا گیا۔ اس کے بعد معائنے کا نظام دن بدن سخت سے سخت تر اور پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔

مگر 1978ء  میں جب الفریڈ المانزا نے ٹیکسس کے ایک چھوٹے سے مذبح خانے  میں مویشیوں کا معائنہ شروع کیا تو تب مویشیوں کو ” کچوکے لگا کر یا سونگھ کر” دیکھا جاتا تھا آیا کوئی مویشی بیمار تو نہیں۔

یو ایس ڈی اے کے خوراک کے تحفظ اور معائنے کی سروس کے سربراہ کی حیثیت سے اب، المانزا اور 6,300  انسپکٹروں پر مشتمل ان کی ٹیم جراثیموں سے پیدا ہونے والی آلودگی کا پتہ چلانے کے لیے تجربہ گاہوں میں ٹیسٹ کرتی ہے۔ 1993ء میں ایک فاسٹ فوڈ کی طرف سے کچے ہیم برگروں کی فروخت کے نتیجے میں ای کولائی نامی مہلک وبا کے پھوٹ پڑنے کے بعد، یو ایس ڈی اے نے  بیماریاں پیدا کرنے والے خطرناک جراثیموں کے تجزیے اور اُن پر قابو پانے کے نظام کو جسے مخففاً ایچ اے سی سی پی کہتے ہیں، لازمی قرار دیا۔ اشیائے خوردونوش سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کا یہ نظام، سائنسی انداز سے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

اشیائے خوردونوش تیار کرنے والی کئی کمپنیوں نے ایچ اے سی سی پی کے نظام کو اپنا لیا ہے۔ اس نظام میں اُن اہم مقامات کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں خوراک کے آلودہ ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ مزید برآں، اس میں بیکٹیریا کی قابل قبول مقدار کا تعین کرنا، مستقل نگرانی کرنا، اور ٹھیک ٹھیک یہ معلوم ہونا شامل ہوتا ہے کہ جب مسائل کی نشاندہی ہوجائے تو کیا کرنا ہے۔ ناسا نے اسی قسم کے ایک نظام پر 1960ء میں یہ یقینی بنانے کے لیےعمل کیا کہ خلا باز جو غذا اسستعمال کریں وہ کھانے کے حوالے سے محفوظ ہو۔

Two people conducting testing in lab (FDA/Michael J. Ermarth)
ایف ڈی اے، امریکہ کی 80 فیصد اشیائے خوردونوش کی نگرانی کرتی ہے۔ یہاں، محققین، ٹِم مورووینڈا (بائیں جانب) اور ساشا گورہیم ٹماٹروں کی آلودگی کی روک تھام کی خاطر، سالمو نیلا کے اجزائے ترکیبی کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ (FDA)

آجکل کے  انسپکٹروں کو وہ سائنسی وسائل میسر ہیں جو ان کے پیشروؤں کو دستیاب نہیں تھے۔ ان میں تولیدی مادوں کے سلسلے سے خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی تیزی سے نشاندہی کی جا سکتی ہے اور امراض کا  کھوج لگانے والوں کی وباء پھوٹنے کے منبعے تک پہنچنے میں مدد کی جاسکتی ہے۔

ریاست الینوائے کے انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے شعبۂ خوراک و صحت کے ڈائریکٹر، مائیکروبیالوجسٹ رابرٹ بریکیٹ  اسے ایف بی آئی کے فنگر پرنٹوں یعنی انگلیوں کے نشانات کے ڈیٹا بیس سے تشبیح دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ” بیماریوں کا سبب بننے والے جراثیموں کی نشاندہی اب بہت زیادہ بہتر ہوگئی ہے۔ ہمیں بیماریوں کے زیادہ کیس مل رہے ہیں جبکہ وبائیں پھوٹ پڑنے کے واقعات گھٹتے جار رہے ہیں۔”

المانزا کا کہنا ہے کہ، “آجکل ہر چیز کی جڑیں سائنس میں گڑی ہوئی ہیں۔” ان کے انسپکٹروں کے پاس اشیائے خوردونوش تیار کرنے والوں کو ایسی اشیاء مارکیٹ سے اٹھا لینے پر مجبور کرنے کے وسیع اختیارات موجود ہیں جن کے آلودہ ہونے کا شک ہو  — اور وہ ایسا کرتے بھی ہیں۔ گذشتہ برس، یو ایس ڈی اے کے انسپکٹروں نے ایک کروڑ بائیس لاکھ کلوگرام، مرغی کے گوشت اور تقریباً دو لاکھ ستائیس ہزار کلوگرام مویشیوں، سوروں اور دیگر پالتو جانوروں کے گوشت کو ناقابل استعمال قرار دیا۔

مارک عبدُو ایف ڈی اے کے بین الاقوامی ضوابط اور پالیسی کے عبوری ڈپٹی کمشنر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایف ڈی اے “روک تھام کی غرض سے اُس جارحانہ طرز عمل”کی سمت بڑھی ہے جو ایچ اے سی سی پی میں نمایاں طور پر بیان کیا گیا ہے۔” یہ کام کرنے کا کہیں زیادہ بہتر انداز ہے۔”حال ہی میں ‘ فوڈ سیفٹی ماڈرنائزیشن ایکٹ ‘ کے نام سے نافذ کیے جانے والے ایک قانون کی وجہ سے اس ادارے کے اختیارات مضبوط ہوئے ہیں۔

یہ محض انسپکٹروں کی موجودگی ہی نہیں ہوتی جو اشیائے خوردونوش تیار کرنے والوں میں اپنی مصنوعات کی تیاری کے تمام مراحل میں محفوظ خوراک کے کڑے ماحول کی تحریک پیدا  کرتی ہے۔

درآمدات وبرآمدات کی امریکی تنظیم کی صدر، میریان راؤڈن کا کہنا ہے کہ ایسے دور میں جب چیزوں کے مارکیٹ سے اٹھائے جانے یا فیکٹریوں کے بند ہونے کی خبریں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہوں تو محفوظ خوراک “برانڈ کے تحفظ” کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اگر صارفین نالاں ہو جائیں تو” اُن کے برانڈ کو پہنچنے والا نقصان، حکومتی جرمانوں سے کہیں زیادہ بڑھکر ہوتا ہے۔”

امریکی معیارات کتنے سخت ہیں؟

A man in white coat inspecting boxes of beef (© AP Images)
امریکہ سے درآمد کیے گئے ‘بلیک اینگس بیف’ برانڈ کا بڑا گوشت انچون، جنوبی کوریا کے مویشیوں اور قرنطینہ کے قومی ادارے کے مرکز میں معائنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ ذبحہ کرنے سے قبل اور بعد میں امریکی انسپکٹر ہر قسم کے گوشت کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ (© AP Images)

اِن معیارات کا شمار دنیا کے سخت ترین معیاروں میں ہوتا ہے۔ امریکہ اور یورپ دونوں کے  قوانین اور نگران ادارے سخت ہیں۔ 1990 کی دہائی میں جانوروں کی ‘میڈ کاؤ’ نامی بیماری کے پھوٹ پڑنے کے بعد یورپ اور برطانیہ نے محفوظ خوراک کے آزاد ادارے قائم  کیے۔

امریکہ اور یورپ جن چیزوں کی اجازت دیتے ہیں اُن کی حدود کے تعین میں فرق پایا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر امریکہ میں پکی ہوئی اور کھانے کے لیے تیار خوراک میں ‘ لسٹیریا ‘ نامی مہلک بیکٹیریا کی موجودگی کی قانون قطعی اجازت نہیں دیتا جبکہ یورپ میں اس کی انتہائی قلیل مقدار کی اجازت ہے۔ اس کے برعکس یورپی معیارات کے تحت اشیائے خوردونوش اور مویشیوں کی خوراک میں جراثیم کش ادویات کی باقیات کے بارے میں کم نرمی برتی جاتی ہے۔ (امریکہ میں جراثیم کش ادویات سے متعلق ماحولیاتی تحفظ کا ادارہ، قوانین بناتا ہے۔)

امریکہ میں بیف یعنی بڑے گوشت میں ہارمونز کی اجازت ہے مگر یورپ میں اس پر پابندی ہے۔ ‘سالمو نیلا’ نامی بیکٹیریا کے خطرے کو کم سے کم کرنے کے لیے، امریکہ کے قانون کے تحت انڈوں کو دھونا ضروری ہے، مگر یورپ میں ایسا نہیں ہے۔

ریاست واشنگٹن کی ڈیسیرنیز نامی کمپنی، 180 ممالک کے خوراک سے متعلق قوانین کے بارے میں دوسری کمپنیوں کی مدد کرتی ہے۔ اس کمپنی کے بانی، کیون کینی کہتے ہیں، “اشیائے خوردونوش کے حوالے سے بیس سال پہلے کی نسبت دنیا آج  کہیں زیادہ محفوظ ہے۔”

انہوں نے کہا کہ صارفین کھانے پینے کی چیزوں میں “خراب مادوں” کی ایک قلیل مقدار سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اِس سے اُنہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ یہ مقدار دس لاکھ یا ایک ارب کے ایک حصے کے برابر ہو سکتی ہے۔ ” دس لاکھ کا ایک حصہ تیراکی کے پُول میں ایک مالیکیول کے ہونے کے برابر ہے۔”

A grocery display of chicken and beef products (USDA)
قطع نظر اس کے کہ انہیں اندروں ملک استعمال کیا جائے گا یا بیرونی ممالک کو برآمد کیا جائے گا، امریکہ میں ہر قسم کا گوشت اور انڈے ایک جیسی تحفظاتی پڑتالوں سے گزارے جاتے ہیں۔ بہت کم مسائل سامنے آتے ہیں۔ تاہم اگر ایسا مسئلہ پیدا ہو جائے تو ان کے منبعے کی سُرعت سے نشاندہی کی جا سکتی ہے اور انہیں مارکیٹ سے اٹھوا لیا جاتا ہے۔ (USDA)

ایک وقت میں عام پایا جانے والے ای کولائی بیکٹیریا سے آلودہ بڑے گوشت کے قیمے کی بڑی مقدار پر پابندی لگنے کے بعد، کیمیائی تجزیات اور روک تھام کے اقدامات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ای کولائی بیکٹیریا سے ہونے والی آلودگی بہت حد تک کم ہوگئی ہے۔ سی ایٹل کے ایک وکیل، بل مارلر کا کہنا ہے، “کامیابی کی یہ ایک شاندار کہانی ہے۔”

ریاست پینسلوینیا میں بیل اینڈ ایوانز کے مالک سکاٹ سیکلر نے ذبح شدہ مرغیوں کو کلورین ملے پانی میں دھونے کی بجائے 90 لاکھ ڈالر کی لاگت سے بیلٹ پر چلنے والا ایک ایسا نظام نصب کروایا ہے جس کی مدد سے مرغیوں کے گوشت کو تین گھنٹے تک سرد ہوا سے ٹھنڈا کر کے جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سرد رکھنے کے اس عمل میں اگرچہ لاگت زیادہ آتی ہے اور وقت بھی زیادہ لگتا ہے مگر اس طریقے سے محفوظ کردہ گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔

ان مرغیوں پر، سِرکے سے تیارکردہ جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے مگر اس امر کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ جراثیم  منتقل نہ ہونے پائیں۔ اس پلانٹ کی معیار کو یقینی بنانے کی ذمہ دار مینیجر، مارگریٹ رولز کہتی ہیں، ” ہمارا یہ نظام کہیں زیادہ صاف ستھرا ہے۔”

بیل اینڈ ایوانز میں ایک نجی آزمائشی تجربہ گاہ ہے اور روزمرہ کے کام کی جگہ اور آلات کو جراثیم کش ادویات سے صاف کیا جاتا ہے۔ یو ایس ڈی اے کے موقعے پر کام کرنے والوں کے ایک سپروائزر، جوزف کرسافلی کا کہنا ہے، “اگرچہ ذبحہ شدہ مرغیاں بہت تیزی سے آ رہی ہوتی ہیں اور اگر آپ کو اچھی اور صحت مند مرغیوں کی پہچان ہو تو آپ ایک بیمار یا غیر معیاری مرغی کو دور ہی سے دیکھ لیتے ہیں۔”

Person with embroidered chicken on back of her smock in locker room (© Tyrone Turner)
رولز اپنے پلانٹ کے اس حصے کا چکر لگا رہی ہیں جہاں سرد ہوا کی مدد سے مرغی کے گوشت کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ بیل اینڈ ایوانز میں یورپ میں استعمال کردہ جراثیم کش اقدامات کے طور پر کلورین کے استعمال سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ (© Tyrone Turner)

بیل اینڈ ایوانز کی مرغیاں ہارمونز اور اینٹی بائیوٹک سے پاک خوراک سے پالی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک چوتھائی تعداد مصدقہ نامیاتی مرغیوں کی ہوتی ہے۔ اس قسم کی مرغیوں کو کم دباؤ والے ماحول، قدرتی روشنی اور ایسے ڈربوں میں پالا جاتا ہے جن سے نکل کر وہ گھومنے پھرنے کے لیے  کھلے احاطوں میں جا سکیں۔

ان اضانی سہولتوں پر پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ مگر اس پلانٹ کے مالک، سیکلر کا کہنا ہے کہ یہ صحیح خرچہ ہے۔ “میں سب سے زیادہ قیمتی مرغیاں فراہم کرتا ہوں اور اس کے باوجود ہم اس پلانٹ کو اتنی تیزی سے نہیں چلا سکتے کہ طلب پوری کر سکیں۔”

ابتدائی طور پر یہ مضمون 23 فروری 2017 کو شائع ہوا تھا۔