ذائقے دار کھانوں کے ذریعے تاریخ کا اظہار

سویٹ ہوم کے انتظامی شیف، جیروم گرانٹ انتہائی محنت سے کام کرتے ہیں۔ (© Scott Suchman/Smithsonian Institution)

واشنگٹن کے رہنے والے جیروم گرانٹ کے لیے اپنے آبائی شہر میں بھوکے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو کھانا کھلانا ایک فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فرض اس وقت ایک خصوصیت کا حامل بن جاتا ہے جب اس کے ذریعے افریقی نژاد امریکیوں کی ثقافت کی کہانی سنائی جاتی ہے۔

سمتھ سونین ادارے کے افریقی نژاد امریکیوں کی تاریخ اور ثقافت کے قومی میوزیم کے کیفے ٹیریا طرز کے سویٹ ہوم نامی کیفے کے انتظامی شیف کے طور پر کام شروع کرنے سے پہلے، جیروم گرانٹ نے اس کے مینیو کی تحقیق پر بہت سا وقت صرف کیا۔

24 ستمبر 2016 کو کیفے کے کھلنے کے بعد سے انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ غلامی کے دور سے لے کر آج تک، ہر ایک کھانا ” امریکہ کے طول و عرض میں افریقی نژاد امریکیوں کی نقل مکانی کی عکاسی کرے۔”

People in café dining room (© Scott Suchman/Smithsonian Institution)
سویٹ ہوم کیفے میں کھانے تازہ اور مقامی طور پر پیدا کی جانے والی اشیاء سے تیار کیے جاتے ہیں۔ (© Scott Suchman/Smithsonian Institution)

سویٹ ہوم کیفے کو چار علاقائی خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اِن میں زرعی جنوب، کریول کا ساحل، شمالی ریاستیں اور مغربی سلسلے کے خطے شامل ہیں۔ لہذا کھانا کھانے والے یہ جان سکتے ہیں افریقی تارکین وطن نے کس طرح امریکہ کے طول و عرض میں کھانے پینے کی روایات قائم کیں۔ گرانٹ کا کہنا ہے کہ “ہم نے افریقی نژاد امریکیوں کے کلاسیکی بنیادی کھانوں کو کسی حد تک جدید دور کے مطابق تیار کیا ہے” اور انہیں 21 ویں صدی کے کھانے والوں کے ذائقے کے مطابق ڈھالا ہے۔

مثال کے طور پر  مغربی خطے کے مینیو میں ‘سن آف اے گن ‘ نام کا گوشت اور سبزی سے تیار کیا گیا شوربہ شامل ہوتا ہے۔ افریقی نژاد امریکیوں نے یہ کھانا 19ویں صدی میں کاؤ بوائیز کے لیے اپنے  گشتی باورچی خانوں میں تیار کرنا شروع کیا تھا۔ گرانٹ کا کہنا ہے کہ اُن دنوں میں “گشتی باورچی خانوں میں کام کرنے والوں پر اچھا گوشت نہیں بیچا جاتا تھا۔ تاہم، کھانے کے بہترین اجزا کی عدم دستیابی کے باوجود بھی وہ  گوشت اور سبزی کا ذائقے دار شوربہ تیار کرتے تھے۔ یاد رہے کہ گرانٹ کے کھانوں میں اعلٰی قسم کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔

Bowl of shrimp and grits (© Scott Suchman/Smithsonian Institution)
سویٹ ہوم میں مکئی کے آٹے سے تیار کیا ہوا حلوہ اور کیکڑا۔ (© Scott Suchman/Smithsonian Institution)

گرانٹ کہتے ہیں،” ہم چاہتے ہیں کہ کھانے سے لطف اٹھانے اور اس کے تاریخی  پس منظر کو جاننے کے لیے لوگ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ وقت نکالیں۔ کھانے سے کمیونٹی اور سکون کا احساس پیدا ہوتا ہے۔”

اُن کے اپنے پسندیدہ کھانوں میں ریسٹورنٹ میں چھاچھ  میں بھگو کر تلی جانے والی مرغی ( زرعی جنوب )، بھُنی ہوئی رینبو ٹراؤٹ مچھلی ( مغربی خطہ) باربی کیو کی گئی مرغی (کریول کا ساحل ) اور بیل کی دُم کے گوشت کا بنا ہوا  ‘ پیپر پوٹ ‘ کہلانے والا گرم گرم شوربہ (کریول کا ساحل) شامل ہیں۔

گرانٹ کو پیپر پوٹ اُس کھانے کی یاد دلاتا ہے جو اُن کی جمیکا سے تعلق رکھنے والی نانی بنایا کرتی تھیں۔ گرانٹ کا کہنا ہے، “یہ مجھے وطن کی یاد دلاتا ہے۔” سویٹ ہوم کیفے کا یہی مطلب ہے۔