سپیشل اولمپکس کے ایتھلیٹ عالمی سٹیج پر [وڈیو ]

گیری اینڈی کاٹ کو سکی انگ کا بیحد شوق ہے۔ ریاست وائیومنگ کے شہر جیکسن ہول کے اس 26 سالہ نوجوان کو جب سے یہ  معلوم ہوا ہے کہ وہ آسٹریا کے سلسلئہ کوہ ایلپس میں سکی انگ کرنے کے لیے اپنی زندگی میں پہلی بار امریکہ سے باہر سفر  کریں گے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔

لیکن اس کی وجہ سکی انگ کرنے جانا نہیں ہے بلکہ اینڈی کاٹ کا اپنے پہلے بیرون ملک سفر میں2017 کے 14 سے 25 مارچ تک ہونے والے سرمائی کھیلوں کے سپیشل اولمپکس میں، ایلپس میں سکی انگ کے مقابلوں میں حصہ لینا ہے۔

اینڈی کاٹ نے کہا جب انہیں یہ پتہ چلا کہ وہ آسٹریا میں سکی انگ کے مقابلے کے لیے چُن لیے گئے ہیں توانہوں نے خوشی کے مارے “اچھلنا شروع کردیا۔” وہ یہاں تک پہنچنے کے لیے کڑی تربیت سے گزرے ہیں۔

جیکسن ہول مائونٹین ریزارٹ کی ویب سائیٹ پر ایک وڈیو میں وہ کہتے ہیں، ” مجھے سکی انگ سے پیار ہے، مجھے پاِ ؤڈر جیسی برف سے  پیار ہے، مجھے برفانی پہاڑیوں سے پیار ہے۔ ہر  روز باہر نکلنا اور سیکھنا ایک چیلنج ہے۔”

Ski village with mountains in background (Special Olympics USA)
عالمی سرمائی کھیلوں کے مقا بلوں میں حصہ لینے کے لیے100 سے زیادہ ممالک کے ایتھلیٹ آسٹریا گئے ہیں۔ (Special Olympics USA)

اینڈی کاٹ امریکہ کے آسٹریا میں ہونے والے مقابلوں میں حصہ لینے والے 138 ایتھلیٹوں میں شامل ہیں۔ 100 سے زائد ممالک کے  تقریباً 2,600 ایتھلیٹ جن سات سرمائی کھیلوں میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کریں گے ان میں الپائن سکی انگ، کراس کنٹری سکی انگ، فِگر سکیٹنگ، فلور ہاکی، سنو بورڈنگ، اور سپیڈ سکیٹنگ شامل ہیں۔

“مجھے جیتنے دو۔ لیکن اگر میں نہ جیت سکوں، تو اس کوشش میں مجھے بہادر بننے دو “— سپیشل اولمپکس کے ایتھلیٹ کا حلف

ہر دو سال کے بعد باری باری گرمائی اور سرمائی کھیلوں کے درمیان منعقد ہونے والے یہ عالمی کھیل، سپیشل اولمپکس کی تحریک اور دنیا بھرمیں دماغی معذوریوں کے حامل افراد پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک موقع  فراہم  کرتے ہیں۔

اس سال پہلی مرتبہ سرمائی کھیلوں کے مقابلے ای ایس پی این پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیے جائیں گے  اور دنیا بھر میں انہیں دکھایا جائے گا۔ اس پر ایتھلیٹ بہت خوش ہیں کیونکہ اُن کے خاندان انہیں دیکھ سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ منتظمین بھی خوش ہیں۔ اُن کا کہنا ے کہ اس طرح زیادہ لوگ مقابلے دیکھیں گے اور ذہنی معذوریوں کے حامل افرد کی صلاحیتوں کے بارے میں ان کی آگہی  میں اضافہ ہو گا۔

امریکی ٹیم کے لیے الپائن سکی انگ کے ایک کوچ  کیلیب شوف کا کہنا ہے، ” جیسا کہ ہونا چاہیے، ہمارے ایتھلیٹوں کی اِس کھیل میں اہمیت کو بالآخر تسلیم کیا جارہا ہے۔ میرے لیے سب سے زیادہ خوشی کی بات یہی ہے۔ یہ ایک زبردست تجربہ ہے —  امید ہے وہ جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں نکلیں گے۔”

Gary Endecott saluting (Special Olympics USA)
گیری اینڈی کاٹ، ایڈوانسڈ سُپر جی سکی انگ کے مقابلے کی تقسیمِ انعامات کی تقریب کے دوران سلیوٹ کر رہے ہیں۔ وہ چوتھے نمبر پر آئے۔ (Special Olympics USA)

آسٹریا کے مقابلوں میں شریک  تمام ایتھلیٹوں کی طرح، اینڈی کاٹ کو بھی جیتنا اچھا لگتا ہے۔ لیکن وہ ان کھیلوں کو  نئےلوگوں سے ملنے اور نئی نئی چیزوں کا تجربہ حاصل کرنے کا ایک موقع بھی سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپیشل اولمپکس نے انہیں  وفاداری اور احترام سکھایا ہے۔ وہ اپنے خاندان اور اپنے دوستوں کے اِن پر نازاں ہونے پر بیحد خوش ہیں۔

انہوں نے مقابلے سے پہلے اس بات کا ذکر کیا کہ لوگ آن لائن اور گھر میں  ٹی وی پر انہیں دیکھیں گے  اور ” ان کے حق میں نعرے لگا ئیں گے۔ وہ صحیح معنوں میں خوش ہوں گے اور حقیقت میں ان پر فخر کریں گے — میں نے اپنی زندگی میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس پر فخر بھی کریں گے۔”