صابن کی ایک ٹکیہ کے ساتھ غربت کا مقابلہ

سوپ باکس ایک ایسا کاروبار ہے جس میں تجارت اور انسانی بھلائی کے کاموں کو یکجا کیا گیا ہے۔ صابن کی بکنے والی ہر ٹیکہ کے بدلے میں یہ کمپنی افریقہ اور دیگر جگہوں پر ایک ٹکیہ مفت دیتی ہے۔

امسال ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر ایچ آئی وی/ایڈز...

دنیا بھر میں یکم دسمبر کو منائے جانے والے ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر امریکی حکومت کے تازہ ترین نتائج، ایچ آئی وی کی روک تھام اور علاج کی اونچی اور تاریخی سطحوں کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

ارکنسا کی کپاس کی کشش: ایک بڑی چینی کمپنی کی...

فاریسٹ سٹی، ارکنسا میں چین کے ایک ٹیکسٹائل پلانٹ کے قیام سے امریکہ اور چین کے معاشی رشتوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ مقامی کسانوں کو بھی مدد ملے گی۔

زیتون کا تیل: مشرق وسطٰی میں امن کا فروغ

امریکی مدد سے زیتون کا تیل پیدا کرنے والے اور تقسیم کنندگان فلسطینی اور اسرائیلی ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور امن کے فروغ کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔
ایک فلپائنی بچی کتاب پڑھتےہوئے۔ (Leoncio Rodaje/USAID Philippines)

فلپائنی اب 'متبادل تعلیمی مقامات' پر بحفاظت تعلیم حاصل کر سکتے...

تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے استحکام کی وجہ سے تعلیم نہ حاصل کر سکنے والے فلپائنی بچوں کی ایک امریکی پروگرام کے ذریعے مدد کی جارہی ہے۔
خالی کلاس روم میں ایک لڑکی کھڑی ہے۔ (USAID/Morgana Wingard)

'میں بڑی ہوکر ٹیچر بننا چاہتی ہوں'

یوایس ایڈ بنگلہ دیش کے پرائمری سکولوں کے کلاس روموں میں ریڈنگ کارنر [مطالعاتی گوشے] بنا کر بچوں کو پڑھنے میں مدد کر رہا ہے۔
حفاظتی لباس پہنے ایک عورت کسی مکان کے اندر سپرے کر رہی ہے۔ (© Jessica Scranton/AIRS)

افریقہ میں انسدادِ ملیریا کی امریکی کوششوں میں وسعت

مغربی اور وسطی افریقہ کے چار نئے ممالک میں، امریکہ کے صدر کے ملیریا کے ایک اقدام کو وسعت دی جا رہی ہے۔
پاکستان میں ایمبولینسیں اور ہنگامی طبی امداد مہیا کرنے والے کارکن۔ (© Khuram Parvez/Reuters) C:

پاکستان اور افغانستان میں شدید زخمیوں کی دیکھ بھال کو بہتر...

دنیا میں زخموں سے ہر سال 50 لاکھ اموات ہوتی ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق کم آمدنی والے ممالک سے ہے۔ امید ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں چلنے والا ایک پروگرام اس صورت حال کو بدل دے گا۔

بنگلہ دیش میں بیت الخلا کے مسئلے کا حل

بنگلہ دیش میں صحت و صفائی کے حوالے سے قابل ذکر ترقی کے باوجود ناقص بیت الخلا اب بھی صحت کے لیے خطرہ ہیں۔ ایک سستی سرکاری و نجی شراکت داری سے یہ مسئلہ حل کیا جا رہا ہے۔