کاروباری نظامت کاری

خواتین کاروباری نظامت کار بھارت میں کانفرنس نمایاں

کاروباری نظامت کاری کی عالمی کانفرنس کا آغاز حیدرآباد میں ہوا جس میں بھارتی وزیراعظم اور ایوانکا ٹرمپ دونوں نے عورتوں کی با اختیاری کی اہمیت پر زور دیا۔

ماں نے بچوں کو عربی سکھانے کے لیے اپنی کمپنی کھول...

راما کیالی نے اپنے بیٹوں کے لیے عربی مواد کی عدم دستیابی کی وجہ سے عالمی کاروباری نظامت کاری کی چوٹی کانفرنس کی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے، 'لٹل تھنکنگ مائنڈز' نامی ادارہ تشکیل دیا۔
سشما سواراج اور ریکس ٹِلرسن مصافحہ کرتے ہوئے۔ (State Dept.)

امریکہ اور بھارت: انتہائی اہم شراکتدار

وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان مضبوط اور بڑھتے ہوئے روابط، امن، خوشحالی، اور استحکام کی کنجی ہیں۔

بھارت کا اہم ترین کام : نئے کاروباری نظامت کاروں کو...

نئی بھارتی کمپنیاں بنگلورو شہر میں پھل پھول رہی ہیں۔ تاہم ملک کو بہت سے مزید کاروباری نظامت کاروں کی ضرورت ہے جس میں عالمی نظامت کاری کی چوٹی کانفرنس مدد کر سکتی ہے۔

جاپان سے بھارت تک عورتوں کی با اختیاری کی آواز: ایوانکا...

صدر ٹرمپ کی صاحبزادی اور وائٹ ہاؤس کی مشیر ایوانکا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کام کرنے کی جگہ کے ماحول میں تبدیلیاں عورتوں کی با اختیاری اور اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
ایک عورت کمپیوٹر کی سکرین پر گرافوں اور پرزوں کی شکلوں کو چھو رہی ہے۔ (© Shutterstock)

کاروباری نظامت کاری کی کانفرنس کا عنقریب بھارت میں افتتاح

بھارت کے شہر حیدرآباد میں ہونے والی نظامت کاری کی عالمی کانفرنس، کاروباری نظامت کاروں کو سرمایہ کاروں سے ملائے گی اور عورتوں کے ملازمتیں پیدا کرنے کے کردار کو اجاگر کرے گی۔

بنگلہ دیش میں بیت الخلا کے مسئلے کا حل

بنگلہ دیش میں صحت و صفائی کے حوالے سے قابل ذکر ترقی کے باوجود ناقص بیت الخلا اب بھی صحت کے لیے خطرہ ہیں۔ ایک سستی سرکاری و نجی شراکت داری سے یہ مسئلہ حل کیا جا رہا ہے۔
video

کاروباروں کی خواتین مالکان کی اکثریت: معیشتوں کی ترقی کا باعث...

خواتین کاروباری نظامت کاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی ایک معقول وجہ ہے۔ جب کاروباروں کی خواتین مالکان کو سرمایہ اور مطلوبہ مدد حاصل ہوتی ہے تو جی ڈی پی میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

امریکی کمپنیوں کی دنیا بھر کی خواتین کی مدد

بڑے امریکی کاروباری ادارے اپنے فلاحی پروگراموں کا رخ عورتوں کو معاشی اعتبار سے بااختیار بنانے کی جانب موڑ رہے ہیں اور انہیں فیکٹریوں کے مزدوروں کے درجے سے اٹھا کر اپنے کاروباروں کا مالک بنا رہے ہیں۔