سائنس اور ٹکنالوجی

خلائی موسم کے بارے میں آپ کو سوچنا چاہیے: کیوں؟

شمسی طوفانوں سے زمین پر موجود الیکٹرانک کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سائنسدان شدید موسم کی پیش گوئیوں کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

ناسا کی خلائی گاڑی کی مریخ پر ممکنہ زندگی کے شواہد...

ناسا کی کیوروسٹی نامی خلائی گاڑی نے مریخ پر بورون نامی عنصر ڈھونڈا ہے۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جس سے وہ حیران کن شواہد سامنے آئے ہیں جن سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ کبھی قدیم مریخ پر بھی زندگی پائی جاتی تھی۔

خلا بازوں کو نئے خلائی لباس میں دیکھنے کے لیے تیار...

جب 2018ء میں بوئنگ کمپنی کا خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی طرف روانہ ہوگا تو خلاباز جدید ٹکنالوجی سے تحت تیار کردہ نئے خلائی سوٹوں میں ملبوس ہوں گے۔

چاند کی تحقیق کی دوڑ میں شامل 5 ٹیموں کا تعارف...

لوُنر ایکسپرائز میں حصہ لینے والی پانچ ٹیموں میں سے جیتنے والی ٹیم کو چاند پر سب سے پہلے اترنا، 500 میٹر کا فاصلہ طے کرنا اور ا‏علٰی درجے کی تصاویر زمین پر بھجوانا ہوں گی۔

کیا ہم اکیلے ہیں؟ سائنسدانوں کی 7 نئے سیاروں کی دریافت

ناسا کو زمینی حجم کے برابر ایک قریبی سیارے کے مدار میں سات ایسے سیارے ملے ہیں جن پر زمین کے سوا کائنات میں کہیں اور زندگی تلاش کرنے کے انتہائی دلچسپ علامات ملی ہیں۔

کالج کے طلبا کی کمسِن وائلن نواز کے لیے مصنوعی بازو...

حیاتیاتی انجنیئرنگ کے طالبعلموں نے پیدائش کے وقت مکمل بائیں بازو کے بغیر پیدا ہونے والی ایک دس سالہ لڑکی کے لیے مصنوعی ہاتھ اور بازو بنایا ہے۔ اس بچی کو وائلن بجانے کا ارمان تھا۔

نظام شمسی کے قریب ترین ہمسایہ سیارے کی دریافت

ہمارے نظام شمسی سے باہر کسی سیارے کو آباد کرنے کا امکان، ہوسکتا ہے کہ اس سے زیادہ ہو جتنا کہ پہلے تصور کیا جاتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ سیارہ پروکسیما بی زندگی گزارنے کے قابل ہو۔

خلاباز اب وڈیو گیموں کے ذریعے خلائی تربیت حاصل کرتے ہیں

زمین سے 400 کلو میٹر بلندی پر گردش کرتے ہوئے فٹبال کی گراوًنڈ جتنے بڑے خلائی سٹیش کے لیے خلابازوں کو تیار کرنے کی خاطر، ناسا نے وڈیو گیم ڈیزائنر سے مدد لی۔

ناسا کو بتائیے کہ آپ مشتری پر کیا دیکھنا چاہتے ہیں

شمسی توانائی سے چلنے والے ناسا کے خلائی جہاز، جونو نے مشتری پر پہنچے کے بعد اپنی پہلی تصویریں زمین پر بھیج دی ہیں، لیکن خلائی ادارہ اب یہ چاہتا ہے کہ دنیا کے شوقیہ ماہرینِ فلکیات یہ بتائیں کہ اب کیمروں کا رُخ مشری کے کن مقامات کی طرف موڑا جائے۔