معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع

Colorful environmental poster with drawings of various pollinators and text saying "Preserve the Earth" (State Dept.)

یوم ارض کے موقع پر تخم ریزی کرنے والی انواع کو...

شہد کی مکھیاں، تتلیاں اور تخم ریزی کرنے والی دیگر انواع کو خطرات کا سامنا ہے۔ ہم خوراک کے لیے اِن پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ پوسٹر آگاہی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تخم ریزی کرنے والے انواع کو تحفظ دیں۔
Elephants in the wild (© Ana Verahrami/Cornell University)

ہاتھیوں کی حفاظت کا ایک نیا طریقہ

جانیے کہ کیسے کورنیل یونیورسٹی کے ماہرین حیاتیات افریقی ہاتھیوں کو غیرقانونی شکار سے بچانے کے لیے ان کی نشاندہی اور حفاظت کی غرض سے نئی ٹیکنالوجی سے کام لے رہے ہیں۔
Persian leopard at night  (© Frans Lantinh, National Geographic Creative)

جنگلی حیات کے ماہرین کو قید میں کیوں ڈالا جاتا ہے؟

ایرانی حکام نے کینیڈا اور ایران کی دہری شہریت کے حامل شخص کو اس کے ماحولیاتی کام اور غیرملکیوں سے روابط پر گرفتار کیا جو پوچھ گچھ کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
Amur tiger in the snow (© Aaron Barnes/Alamy)

ایک شیر کا معدومیت کے دہانے سے واپسی سفر

روسی مشرق بعید میں 2017 میں معدومیت کے شکار آمور شیر کو دوبارہ جنگل میں چھوڑ دیا گیا ہےجس سے اس نوع کے جانوروں کے مستقبل کے بارے میں ایک نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔
اپنے تین بچوں کے ساتھ ایک برفانی چیتا۔ (© Animal Press/Barcroft Images/Getty Images)

23 اکتوبر برفانی چیتے کا عالمی دن ہے

23 اکتوبر کو ہم بلی نسل کے معدومیت کے شکار اس پہاڑی جانور کا دن مناتے ہیں۔ اس کی صحت اہم حیاتیاتی نظاموں کی صحتوں کی عکاسی کرتی ہے۔

زوہیکاتھان کے ذریعے جنگلی جانوروں کا تحفظ

امریکی دفتر خارجہ کی معاونت سے دوسری سالانہ زوہیکاتھان کے موقع پر تیار کردہ نئی ایپلی کیشنز کی بدولت خطرات سے دوچار جانوروں کو کسی قدر تحفظ مل سکتا ہے۔

ماہرینِ حیاتیات کے ماحولیاتی ڈی این اے کے استعمال سے دریائی...

دریاؤں اور ندیوں میں مختلف نوعِ حیات کے سراغ لگانے کو بہت آسان بنا کر، ماحولیاتی ڈی این اے ٹیسٹنگ حیاتیات کے میدان میں تبدیلیاں لا رہی ہے۔
خم دار سینگوں والے ہرن چاڈ میں۔ (© Environment Agency–Abu Dhabi)

ایک نایاب ہرن کی افریقہ واپسی

جنگلی حیات، ماحولیات

چیتوں کی نسل میں اضافہ: امریکہ میں ایک ہفتے میں 10...

سمتھ سونین انسٹی ٹیوشن کے ایک تحقیقی ادارے میں صرف ایک ہفتے کے دوران چیتوں کے 10 بچے پیدا ہوئے۔