اولمپکس

نائجا ہیوسٹن الٹے پڑے ہوئے سکیٹ بورڈ کے اوپر ہوا معلق ہیں۔ (© Alessandra Tarantino/AP Images)

اولمپک سکیٹ بورڈر، نائجا ہیوسٹن سے ملیے [پوسٹر]

تین مرتبہ سکیٹ بورڈنگ کی عالمی چمپیئن شپ جیتنے والے نائجا ہیوسٹن ٹوکیو اولمپک میں شرکت کرنے والی سیکٹ بورڈنگ کی امریکی ٹیم کے رکن ہیں۔ سکیٹ بورڈنگ کو پہلی مرتبہ اولمپک کھیلوں میں شامل کیا گیا ہے۔
اپنے سرفنگ بورڈ کے ذریعے پانی کی لہروں پر سوار، کیریسا مور۔ (© Francisco Seco/AP Images)

سرفنگ کی عالمی چمپیئن اور اولمپک کھلاڑی، کیریسا مور سے...

کیریسا مور دنیا کی چوٹی کی خاتون سرفر ہیں اور سرفنگ کی امریکی ٹیم میں شامل چار سرفروں میں سے ایک سرفر ہیں۔ ٹوکیو میں سرفنگ کے کھیل کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے۔
بایاں ہاتھ اوپر اٹھائے اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، نوحا لائلز (© Ashley Landis/AP Images)

اولمپک کھیلوں میں دوڑنے والے نوحا لائلز سے ملیے [پوسٹر]

نوحا لائلز آئی اے اے ایف کی عالمی چمپین شپس میں جیتے جانے والے تمغوں سمیت، دوڑوں کے بین الاقوامی مقابلوں میں تمغے جیت چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے والے لائلز کے بارے میں مزید جانیے۔
سیمون بائلز بیلنس بیم پر قلابازی لگا رہی ہیں (© Jeff Roberson/AP Images)

اولمپک طلائی تمغہ جیتنے والی سیمون بائلز سے ملیے [پوسٹر]

سیمون بائلز کا شمار جمناسٹک کے کھیل کی تاریخ کی کامیاب ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے عالمی چیمپیئن شپ مقابلوں میں 25 تمغے حاصل کیے۔ اس 24 سالہ اولمپک کی کھلاڑی کے بارے میں مزید جانیے۔
لانگ جمپ لگاتے ہوئے ایک آدمی کا ہیولا۔ (© Charlie Riedel/AP Images)

ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والے امریکی ایتھلیٹوں کی...

امریکہ ٹوکیو میں ہونے والے 2020 کے اولمپک کھیلوں میں 613 کھلاڑی بھیج رہا ہے۔ اِن اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے والے اِن کھلاڑیوں کی متوقع کامیابیوں پر نظر رکھیں۔
ہوائی میں سرفنگ کرتے ہوئے ڈیوک کہاناموکو کی تاریخی تصویر (© Darling Archive/Alamy)

ڈیوک کہاناموکو نے سرفنگ کو کیسے مقبولیت بخشی

آئندہ اولمپک کھیلوں میں سرفنگ کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے۔ ہوائی کے رہنے والے ڈیوک کہاناموکو کے بارے میں جانیے جنہوں نے پوری دنیا میں سرفنگ کو مقبولیت بخشی۔
مسکراتی ہوئی ایک خاتون نے اپنے کندھوں پر ایرانی پرچم لپیٹا ہوا ہے۔ (© Robert F. Bukaty/AP Images)

ایران کی اولمپک خاتون کھلاڑی منحرف

اولمپک تمغہ جیتنے والی واحد ایرانی خاتون کا کہنا ہے کہ اُن کا ایران کو چھوڑنے کا فیصلہ مشکل مگر ضروری تھا۔