امریکہ ایک شہری ماحولیاتی مسئلے کے حل کی راہ پر گامزن

بعض امریکی شہر اپنی سڑکوں پر بچھائی گئی اسفالٹ پر روغن کی ایک ایسی تہہ بچھا رہے ہیں جو سڑک کے بالائی سیاہ حصے کو سورج کی گرمی جذب اور خارج کرنے سے روکتی ہے۔

اس طرح سڑک کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جس سے ہوا کے درجہ حرارت اور قریبی عمارتوں کی ایئرکنڈیشننگ پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی آتی ہے۔

شہروں کو خاص طور پر اس جددت طرازی سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ کنکریٹ،اینٹوں اور گہرے رنگ کی چھتوں میں جذب ہونے والی حرارت کی وجہ سے، دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقے زیادہ گرم ہوتے ہیں اور ان میں گرمی کے جزیرے پیدا ہو جاتے ہیں۔

کسی تپتے ہوئے دن میں سیاہ اسفالٹ 65 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہو سکتی ہے اور غروب آفتاب کے بعد بھی یہ کافی دیر تک گرمی خارج کرتی رہتی ہے۔ سڑکوں کی گرمی سے نجات پانے کا نیا طریقِ کار آزمانے والے شہروں میں لاس اینجلیس بھی شامل ہے۔ یہاں کے ایک مقامی افسر گریگ سپاٹس کے مطابق ٹسٹوں کے نتیجے میں روغن کی  تہہ والی سڑک اور اس کے قریب ہی واقع اس رنگ کے بغیر کسی سڑک کے درجہ حرارت میں عموماً 6 ڈگری سینٹی گریڈ کا فرق دیکھنے میں آیا ہے۔ سپاٹس کا اندازہ ہے کہ مخصوص موسموں میں دن کے مخصوص اوقات میں روغن کی یہ تہہ، سڑک کے درجہ حرارت کو 11 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کر دیتی ہے۔

Two people in safety gear standing as a third spreads white liquid spilling from truck onto blacktop (Los Angeles Bureau of Street Services)
لاس اینجلیس کے بیچی ایوینیو پر کارکن حرارت جذب کرنے والے رنگ کی تہہ بچھا رہے ہیں۔ (Los Angeles Bureau of Street Services)

سائنس دان گرمی خارج کرنے والی طاقتور مائع اسفالٹ تیار کرنے میں مصروف ہیں جسے بڑی شاہراہوں پر استعمال کیا جا سکے گا۔ لاس اینجلیس میں ‘کول سیل’ نامی اسفالٹ استعمال کی جاتی ہے، یہ ایسا سیال مادہ  ہے جو رہائشی علاقوں کی گلیوں کی سڑکوں کے لیے خاصا دیرپا ثابت ہوتا ہے۔ اسے بنانے والی کمپنی ‘گارڈ ٹاپ’ کے ترجمان کے مطابق اس کی تہہ تین سے سات برس تک قائم رہتی ہے۔ تاہم یہ بڑی سڑکوں کے لیے خاطرخواہ حد تک موثر نہیں ہوتا۔

https://twitter.com/Spottnik/status/903363939886481408

امید افزا اختراع

ٹھنڈی سڑکوں کے اس منصوبے پر مقامی حکومت، کاروباری اداروں اور غیرسرکاری تنظیموں کے اشتراک سے عملدرآمد کیا گیا ہے۔

لاس اینجلیس سے تعلق رکھنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم ‘کلائمیٹ ریزالو’ (موسمی عزم) نے اس کام کے لیے شہر کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور متعدد محکموں نے اس خیال کو پسند کیا۔ اس منصوبے کو ‘یونیورسٹی آف کیلی فورنیا’ کے زیرانتظام چلنے والی ‘لارنس برکلے قومی تجربہ گاہ’ میں ‘ہیٹ آئی لینڈ گروپ’ کی جانب سے قابل قدر مدد ملی۔

دیگر امریکی علاقوں میں شمسی پینلز آزمائے جا رہے ہیں جو سڑک کی بالائی تہہ پر لگائے جاتے ہیں اور ان سے بجلی حاصل ہوتی ہے۔

اسفالٹ کی تہہ کے حوالے سے سپاٹس کو امید ہے کہ لاس اینجلیس نئے امکانات کو مہمیز دے گا۔ اپنی قوت خرید کے سبب یہ شہراس حوالے سے  منڈی تخلیق کر سکتا ہے جس سے ان اختراعات  کو بہتر بنانے کے لیے صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

سڑکوں پر روغن کرنا گرمی میں کمی لانے کا سستا اور سادہ حل ہے جس سے دنیا میں کہیں بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ کلائمیٹ ریزالو کے ڈیوڈ فِنک کہتے ہیں، "اس حوالے سے حقیقی موقع موجود ہے۔”