ورجینیا کے ایک شہر میں نیٹو کی حمایت کا مظاہرہ

ہر سال موسم بہار میں بجتے ہوئے بینڈوں اور نعرے لگاتے ہوئے تماشائیوں کے سامنے نیٹو اقوام کی پریڈ، نیٹو کے ہیڈکوارٹر برسلز میں نہیں بلکہ ریاست ورجینیا کے شہر نارفوک میں ہوتی ہے۔ نارفوک بحری فوج کا ایک تاریخی اڈہ ہے جسے نیٹو کے اتحاد کو مضبوط بنائے رکھنے پر فخر ہے۔

Military members marching in parade and carrying flags (U.S. Navy/Abraham Essenmacher)
نارفوک، ورجینیا میں ہونے والی پریڈ میں دو درجن نیٹو ممالک کے فوجی اپنے اپنے ملکوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔ (U.S. Navy/Abraham Essenmacher)

نیٹو نے 1953ء میں دنیا کے سب سے بڑے بحری اڈے، نارفوک میں اپنا تزویراتی کمانڈ سنٹر قائم کیا۔ نیٹو کے سپریم اتحادی کمانڈر برائے اصلاحات، فرانسیسی فضائی فوج کے جنرل ڈینس مرسیئر نے 28 اپریل 2017 کو پرچم کشائی کے موقع پرکہا کہ نیٹو "یورپ اور امریکہ کی سلامتی کے لیے ایک اساس ثابت ہوئی ہے۔”

مقامی شہری، کاروباری ادارے اور ورجینیا کا اقتصادی ترقی کا شعبہ، ہر سال اس تقریب اور دیگر سرگرمیوں پر تقریباً 250,000  ڈالر خرچ کرتا ہے۔ لگ بھگ سات عشروں تک دنیا کو محفوظ سے محفوظ تر بنانے کے لیے نیٹو اور اِس اتحاد نے جو کچھ کیا ہے، اُس پر اِسے خراج  تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

Military members marching and saluting (State Dept./D.A. Peterson)
نورفوک، ورجینیا میں پریڈ کے دوران اطالوی افسر سلیوٹ کر رہے ہیں۔ (State Dept./D.A. Peterson)

ابتدا میں نارفوک کے کمانڈ سنٹر کا مشن بحر اوقیانوس میں جہاز رانی کی سکیورٹی پر مرکوز تھا۔ مگر 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد اس مشن میں تبدیلی آئی۔ اتحادی کمانڈ کی اصلاحات کہلانے والی اِس کمانڈ کو نیٹو کے فوجی ڈھانچے کے بارے میں نئی سوچ، نظریات کی جانچ اور تربیت دینے کے فرائض سونپے گئے۔ یہ نیٹو کے دو تزویراتی سنٹروں میں سے ایک ہے۔ دوسرا مونز، بیلجیئم میں واقع اتحادی کمانڈ برائے آپریشنز ہے۔ یہ سنٹر تمام فوجی کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور اُن پر عمل درآمد کرتا ہے۔

اس کے عملے میں تقریباً نیٹو کے ہر رکن ملک کے فوجی افسر شامل ہوتے ہیں۔ ہر سال موسمِ بہار میں اِن میں سے بہت سے افسر اپنی ہفتہ وار چھٹیاں پریڈ میں شامل اُن فلوٹوں کی تیاریوں میں صرف کرتے ہیں جن پر ایفل ٹاور، کسی قلعے اور وائکنگ کی کسی کشتی کا نمونہ تیار کر کے اپنے اپنے ملک کی تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

آرٹس، اشیائے خوردونوش اور ثقافت پر ایک رسالہ شائع کرنے والے اور اِس تقریب کے رضاکارانہ بورڈ کے ایک سابقہ سربراہ، جیف میسی کا کہنا ہے، "یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی واحد تقریب ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی ایسی تقریب نہیں جو بحرِ اوقیانوس کے آر پار پھیلے ہوئے اس اتحاد کو اجاگر کرے اور اس کی خوشیاں منائے۔”

ایلکس پِنکس شہر میں وکیل کے طور پر کام کرتے ہیں اور تقریب کے منتظمین میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تقریب اُن کی طرح ایسے مقامی خاندانوں کو اکٹھا کرتی ہے جن کے آبا و اجداد کا تعلق یورپ سے تھا۔ اُن کی والدہ کا تعلق ناروے سے تھا۔

People riding parade float shaped like boat (U.S. Navy/Abraham Essenmacher)
ہر سال موسم بہار میں ایک مقامی نارویجین نژاد امریکی گروپ، نیٹو گھرانوں کے ساتھ مل کر نیٹو پریڈ میں شامل ‘دا سنز آف ناروے وائکنگ’ نامی کشتی تیار کرتے ہیں۔ (U.S. Navy/Abraham Essenmacher)

پِنکس نے کہا کہ تقریب "محنت سے محبت کی علامت ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ نیٹو ممالک کو امریکہ کی پشت پناہی بالکل اسی طرح حاصل ہے جیسے ہمیں … اُن کی حاصل ہے۔”

Aircraft flying in formation and streaming colored smoke trails (NATO/Paolo Giordano)
‘پیٹرو دو فرانس’ نامی فرانسیسی فضائیہ کی فضائی کرتب دکھانے والی فضائی ٹیم نے نیٹو کی تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ (NATO/Paolo Giordano)

جنرل مرسیئر اِس جذبے سے اتفاق کرتے ہیں۔

مرسیئر کہتے ہیں، "روزافزوں خطرناک اور غیریقینی دنیا میں دوستوں اور اتحادیوں کا ہونا انتہائی اہم ہے۔”

یہ مضمون اس سے قبل 25 مئی 2017 کو شائع کیا جا چکا ہے۔